ذلک .................... الیکم (56 : 5) ” یہ اللہ کا حکم ہے۔ جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے “۔ یہ ایک دوسرا احساس ہے۔ متنبہ کیا جاتا ہے کہ ذرا سنجیدہ ہوجاﺅ۔ یہ حکم اللہ کا ہے ۔ یہ اللہ نے اتارا ہے ان لوگوں پر جو مومن ہیں۔ لہٰذا اس کی تعمیل تقاضائے ایمان ہے۔ اور اس حکم کی تعمیل کا تعلق اللہ سے ہے۔
دوبارہ لوگوں کو خدا خوفی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جس پر اس سورت میں بہت زور دیا گیا ہے حالانکہ یہ احکام کی سورت ہے۔
ومن یتقق ................ اجرا (56 : 5) ” اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دو رکردے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا “۔ پہلی بات یہ تھی کہ اللہ سہولیات پیدا کردے گا اور اب یہ کہ اس کے گناہ معاف ہوں گے اور اجر زیادہ ہوگا۔ چناچہ یہ دوطرفہ فیض ہے اور انسان پراثر انداز ہونے والا فائدہ ہے۔ یہ عام حکم ہے اور طلاق اور تمام دوسری امور پر منطبق ہونے والا امر ہے لیکن یہاں اس کا سابہ طلاق کے معاملات پر ڈالنا مقصود ہے تاکہ لوگ اللہ کی نگرانی کے شعور سے سرشار ہوں اور اللہ کے فضل کا احساس کریں کہ اگر کوئی کام انہیں مشکل بھی نظر آئے تو اللہ اس کو آسان بنادے گا اور اس میں اگر کوئی کوتاہی ہوگئی تو مغفرت کردے گا۔
آیت 5{ ذٰلِکَ اَمْرُ اللّٰہِ اَنْزَلَـہٗٓ اِلَـیْکُمْ } ”یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے نازل کردیا ہے تمہاری طرف۔“ یعنی اس حکم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ذمہ داری لے لی ہے کہ میرے بندوں میں سے جو کوئی میرا تقویٰ اختیار کرے گا میں اس کے معاملات میں ضرور آسانیاں پیدا فرمائوں گا۔ { وَمَنْ یَّـتَّقِ اللّٰہَ یُـکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰتِہٖ } ”اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا وہ اس کی برائیوں کو اس سے دور فرما دے گا“ اس حکم کا تعلق خصوصی طور پر آخرت سے ہے۔ یعنی اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والے شخص کے دنیوی معاملات میں بھی آسانیاں پیدا کردی جائیں گی اور آخرت کے احتساب کے حوالے سے بھی اس کے نامہ اعمال کو گناہوں سے پاک کردیا جائے گا۔ { وَیُعْظِمْ لَـہٗٓ اَجْرًا۔ } ”اور اسے بہت بڑا اجرو ثواب عطا کرے گا۔“