سورۃ الطلاق (65): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ At-Talaaq کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الطلاق کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الطلاق کے بارے میں معلومات

Surah At-Talaaq
سُورَةُ الطَّلَاقِ
صفحہ 559 (آیات 6 سے 12 تک)

أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا۟ عَلَيْهِنَّ ۚ وَإِن كُنَّ أُو۟لَٰتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا۟ عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ وَأْتَمِرُوا۟ بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ ۖ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُۥٓ أُخْرَىٰ لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِۦ ۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُۥ فَلْيُنفِقْ مِمَّآ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَآ ءَاتَىٰهَا ۚ سَيَجْعَلُ ٱللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِۦ فَحَاسَبْنَٰهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِهَا وَكَانَ عَٰقِبَةُ أَمْرِهَا خُسْرًا أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۚ قَدْ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُولًا يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ مُبَيِّنَٰتٍ لِّيُخْرِجَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ ۚ وَمَن يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ وَيَعْمَلْ صَٰلِحًا يُدْخِلْهُ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۖ قَدْ أَحْسَنَ ٱللَّهُ لَهُۥ رِزْقًا ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمَٰوَٰتٍ وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ ٱلْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ ٱللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًۢا
559

سورۃ الطلاق کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الطلاق کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اُن کو (زمانہ عدت میں) اُسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسر ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستاؤ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہو جائے پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو) دودھ پلائیں تو ان کی اجرت انہیں دو، اور بھلے طریقے سے (اجرت کا معاملہ) باہمی گفت و شنید سے طے کر لو لیکن اگر تم نے (اجرت طے کرنے میں) ایک دوسرے کو تنگ کیا تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلا لے گی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Askinoohunna min haythu sakantum min wujdikum wala tudarroohunna litudayyiqoo AAalayhinna wain kunna olati hamlin faanfiqoo AAalayhinna hatta yadaAAna hamlahunna fain ardaAAna lakum faatoohunna ojoorahunna watamiroo baynakum bimaAAroofin wain taAAasartum fasaturdiAAu lahu okhra

اسکنوھن من ....................................

یہ آخری بیان ہے جس میں گھروں میں رہائش کے مسئلے کو لیا گیا ہے اور عدت کے دوران نفقہ کے مسئلہ کو لیا گیا ہے جو بھی عدت کی مدت قرار پائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس قسم کی رہائش بھی ہو ، خاوند کو چاہئے کہ وہ بیوی کو فراہم کرے۔ جس طرح کی رہائش میں وہ خود رہتا ہے اور جس قدر وہ اپنی مالی پوزیشن کے مطابق فراہم کرسکتا ہے ۔ باہم برتاﺅ میں نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ ہو۔ نہ مکان میں تنگی کی جائے ، نہ عزت میں کمی کی جائے ، اور نہ دوسرے معاملات میں مثلاً گفتگو وغیرہ میں۔ حاملہ عورتوں کے نفقے کو مخصوص طور پر ذکر کیا گیا حالانکہ ہر قسم کی عدت گزارنے والی عورتوں کے لئے نفقہ واجب ہے۔ کیونکہ حمل میں مدت بعض اوقات طویل ہوجاتی ہے اور یہ خیال ہوسکتا ہے کہ تین مہینے ہی نفقہ واجب ہے یا حمل اگر طلاق کے بعد صرف مختصر ترین وقت وضع ہوجائے تو پھر یہ وہم ہوسکتا ہے کہ شاید زیادہ مدت کے لئے نفقہ دیتا ہوگا۔ لہٰذا اس کا تعین کردیا گیا یعنی جب تک قانونی مدت عدت ختم نہیں ہوجاتی خواہ مختصر ہو یا طویل۔

اس کے بعد دودھ پلانے کے مسئلہ کی تفصیلات دی گئیں۔ دودھ پلانا بغیر معاوضہ کے ماں کی ذمہ داری نہیں قرار دی گئی۔ جب تک وہ دونوں کے مشترکہ بچے کو دودھ پلارہی ہے تو اس کا حق ہے کہ اسے اس خدمت کا معاوضہ ملے کہ وہ زندہ رہ سکے اور بچے کے لئے دودھ بھی جاری ہو۔ یہ ہیں اسلامی نظام قانون کی وہ رعائتیں جو ماں کو دی گئیں۔ ان رعائیتوں کے ساتھ دونوں کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ اس بچے کے معاملات کو باہم مشورہ سے طے کریں۔ اور بچے کی مصلحت کو پیش نظر رکھیں کہ وہ دونوں کے درمیان ایک امانت ہے۔ یہ نہ ہو کہ دونوں کی مشترکہ زندگی کی ناکامی اس بچے کے ئے مصیبت بن جائے۔ جس کا کوئی قصور نہیں ہے۔

یہ ہے وہ حسن سلوک جس کی طرف دونوں کو دعوت دی جاتی ہے۔ اگر انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا اور رضاعت اور اس کے اجر کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق نہ ہوسکا تو بچے کو تو بہرحال دودھ پلانا ہے ، کوئی اور پلائے گی۔

فسترضع لہ اخری (56 : 6) ” تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلائے گی “۔ نہ ماں کا اعتراض ہوگا اور نہ بچے کو دودھ سے محروم کرکے مار دیا جائے گا کیونکہ ان کی مشرکہ زندگی تحلیل ہوئی اور پھر انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سختی کی ، بچے کا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔

اردو ترجمہ

خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے، اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اُسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اُسے مکلف نہیں کرتا بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرما دے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Liyunfiq thoo saAAatin min saAAatihi waman qudira AAalayhi rizquhu falyunfiq mimma atahu Allahu la yukallifu Allahu nafsan illa ma ataha sayajAAalu Allahu baAAda AAusrin yusran

اس کے بعد نفقہ کے اصول کا تعین کردیا جاتا ہے۔ اسمیں ایک دوسرے کو سہولت دینا ہے ، تعاون اور عدل و احسان سے کام لینا ہے۔ اس میں سختی اور ہٹ دھرمی جائز نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کو اللہ نے وسعت دی ہے تو وہ وسعت کے مطابق خرچ کرے ، سکونت اور معیشت دونوں میں اور رضاعت کی اجرت میں اور جس کی مالی حالت اچھی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے کہ اس سے محدود اجرت لی جائے۔ کیونکہ اللہ کسی سے اسی قدر مطالبہ کرتا ہے جس قدر اسے اللہ نے دیا ہے اور کوئی شخص بھی اپنے مال وسائل سے زیادہ خرچ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ دولت تو وہی ہے جو اللہ کسی کو دیتا ہے۔

لایکلف ............................ ما اتھا (56 : 7) ” اللہ نے جس کو جتنا دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اسے مکلف نہیں کرتا “۔

رضاعت کے دوران دونوں کو یہ امیددلائی جاتی ہے ، کہ اللہ ہی سے اچھے حالات کی امید اور خواہش رکھیں :

سیجعل ................ عسر یسرا (56 : 7) ” بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرما دے “۔ تنگی کے بعد آسانی اور مشکلات کے بعد فراخی یہ سب اللہ کا کام ہے۔ اس لئے ان دونوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ ہی سے امیدیں وابستہ کریں ، وہی داتا ہے ، وہی کشادگی عطا کرنے والا ہے اور تنگی و کشادگی مشکلات اور سہولیات ، سختی اور نرمی سب اسی کے اختیار میں ہے۔

یہاں تک طلاق کے تمام احکام اور طلاق کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کے قانونی انتظامات بیان کیے اور تمام آثار کے بارے میں واضح حل بتایا گیا۔ اور اس منہدم گھرانے کا تمام ملبہ ، اس کے غبار تک کو ٹھکانے لگا دیا گیا تاکہ دل غبار آلود نہ ہوں ، دلوں پر سے کدورتیں دور ہوجائیں ، اور زوجین ماضی کو بھلا کر از سر نو نئی زندگی شروع کردیں ، سابقہ عداوت کو پوری طرح مٹادیاجائے ، دلوں کے اندر جو قلق تھا ، اسے ختم کردیا تاکہ کوئی اضطراب ازسر نو پیدانہ ہو۔

دلوں سے وسوسے اور گراوٹیں دور کردیں۔ اور فریقین کو اس قابل بنادیا کہ ایک دوسرے کے ساتھ از سر نو سماجی تعلقات قائم کرسکیں۔ خاوند اگر اپنی مطلقہ بیوی یا خود اپنے بچے پر کچھ فراخدلانہ خرچ کرتا ہے تو اسے بتا دیا گیا کہ اس خرچ کی وجہ سے وہ فقیر نہ ہوگا اور بیوی کو بھی کہا گیا کہ وہ پھر اگر بچے کو دودھ پلانے کا کوئی کم معاوضہ لے تو اس سے وہ زیادہ امیر نہ ہوگی ، لہٰذا اسے بھی چاہئے کہ اپنے سابق شوہر اور خود اپنے بچے کے معاملے میں کوئی سخت رویہ اختیار نہ کرے۔ اللہ ہی ہے جو مشکلات کے بعد کشادگی دینے والا ہے۔ دنیا کے رزق سے آخرت کا رزق زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

طلاق کے نتیجے میں جو کدورتیں اور بدمزگیاں پیدا ہوجاتی ہیں ان کے بارے یہ حکم دیا گیا کہ ان کو بھلا دیا جائے اور اللہ سے بہتر مستقبل کی امید رکھی جائے جو کچھ ہوچکا وہ مقدر تھا۔ اب آئندہ ایک دوسرے کے ساتھ معروف انداز میں معاملہ کیا جائے اور خدا کا خوف رکھا جائے۔

یہ مکمل علاج ہے ، یہ موثر نصائح ، یہ مکرر ، سہ کر رتاکیدات کہ معروف کے ساتھ معاملہ کرو سب کی سب اس ناخوشگوار واقعہ کے اثرات کو دور کرنے کی بہترین ضمانت ہیں۔ ضمیر کے احساس اور خدا خوفی کے سوا کوئی اور چیز مسلمانوں کے درمیان اصلاح ذات السین کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ اگر خدا خوفی کو ہٹاکر فریقین کے درمیان صرف قانونی جنگ چھڑ جائے تو اس کا انجام تلخی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ بعض احکام اس قدر نرم ہیں کہ خودان سے تلخیاں دور ہوجاتی ہیں۔ جن کو کسی قانون کے ذریعہ گنوایا نہیں جاسکتا۔ چناچہ اس اخلاقی حکم کے ذریعہ بتایا گیا کہ عورتوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ دی جائے۔ اس سلسلے میں خدا کا خوف اختیار کیا جائے۔ اللہ ہی ہے جو ہر خفیہ اور ظاہری چیز کو جاننے والا ہے۔ اور متقین کو دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ اجر دینے والا ہے۔ خصوصاً رزق کا معاملہ تو ہے ہی اللہ کے ہاتھ میں جس کا اس سورت میں بار بار تذکرہ ہوا۔ کیونکہ رزق اور مفاد ہی وہ اصل بات ہے جس پر تنازعہ ہوتا ہے ، اور طلاق کے بعد زیادہ تر جھگڑا مالی معاملات ومفادات پر ہوتا ہے۔

طلاق کے معاملات کے اختتام کے بعد اب پورے دین کے معاملہ میں ایک تاریخی رویہ کو ذکر کیا جاتا ہے ، کہ اگر تم طلاق کے قوانین کی خلاف ورزی کروگے تو تاریخ میں کئی اقوام نے ، رسولوں کی رسالت اور ان کے پیش کردہ دین سے منہ موڑا لیکن ان کا انجام اچھا نہ ہوا۔ اب بھی یہ دین اور یہ شریعت اس صورت کی شکل میں تمہیں دیا جارہا ہے جو ایک نعمت ہے ، اس کی قدر کرو۔

اردو ترجمہ

کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakaayyin min qaryatin AAatat AAan amri rabbiha warusulihi fahasabnaha hisaban shadeedan waAAaththabnaha AAathaban nukran

وکاین من قریة ........................ رزقا (11) (56 : 8 تا 11) ” کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی۔ انہوں نے اپنے کیے کا مزا چکھ لیا اور ان کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے ، اللہ نے (آخرت میں) ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے۔ پس اللہ سے ڈرو۔ اے صاحب عقل لوگو ، جو ایمانلائے ہو۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کردی ہے ، ایک ایسا رسول جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔ جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ایسے شخص کے لئے بہترین رزق رکھا ہے “۔

یہ ایک طویل ڈراوا ہے ، جس کی تفصیلی مناظر ہیں۔ پھر جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کو ایمان کی روشنی نصیب ہوئی ہے ان کو بتایا گیا کہ یہ تم پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے اور اس کا بدلہ تمہیں قیامت میں ملے گا اور قیامت کا بدلہ ہی دراصل رزق حسن ہے۔

تاریخ جن لوگوں نے رسالت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا اور نافرمانی کی ہے تو اللہ کی یہ سنت رہی ہے کہ نافرمانوں کو اس نے پکڑا ہے۔

وکاین .................... عذابا نکرا (56 : 8) ” کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی “۔ ان کی پکڑ کی تفصیل اور سخت حساب اور سخت عذاب اور برے انجام کی تصویر یہ تھی۔

اردو ترجمہ

انہوں نے اپنے کیے کا مزا چکھ لیا اور اُن کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fathaqat wabala amriha wakana AAaqibatu amriha khusran

فذاقت .................... خسرا (56 : 9) ” انہوں نے اپنے کیے کا مزا چکھ لیا اور ان کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے “۔ اللہ نے (آخرت میں) ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے۔ اور اس عذاب کی تصویر یہ تھی۔

اردو ترجمہ

اللہ نے (آخرت میں) ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے پس اللہ سے ڈرو اے صاحب عقل لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کر دی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

aAAadda Allahu lahum AAathaban shadeedan faittaqoo Allaha ya olee alalbabi allatheena amanoo qad anzala Allahu ilaykum thikran

اعداللہ ................ شدیدا (56 : 01) ” اللہ نے (آخرت میں) ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے “۔ اس عذاب اور برے انجام کی یہ تفصیلات اس لئے دی ہیں کہ اللہ کے کے احکام کی نافرمانی کی سزا کا خوف دیر تک انسانی اعصاب پر رہے۔ یہ قرآن کا انداز ہے کہ وہ عذاب الٰہی کے مناظر کو نہایت ہی مفصل اور طوالت سے بیان کرتا ہے۔

اس ڈراوے پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ باری باری نافرمانی اقوام کو پکڑا گیا اور اس پکڑ کا ذکر یہاں احکام وقوانین کی نافرمانی کے ضمن میں آرہا ہے۔ گویا طلاق کے احکام قوانین کا تعلق بھی سنت الٰہیہ سے ہے۔ اس سے یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ قوانین طلاق محض ایک سوال لاء ہی نہیں بلکہ ان کا تعلق امت مسلمہ کے اجتماعی نظام سے ہے۔ اس سلسلے میں پوری امت بھی مسﺅل ہوگی اور اگر ان قوانین کی خلاف ورزی ہوئی تو پوری امت پر عذاب الٰہی آئے گا۔ احکام طلاق اور اسلامی نظام کے دوسرے احکام کی مخالفت کے انجام سے پوری امت مسﺅل ہے۔ کیونکہ اسلامی نظام اور اسلامی منہاج کے چلانے کی ذمہ داری اجتماعی ہے۔ صرف وہ لوگ ہی عذاب الٰہی کے مستحق نہ ہوں گے جو خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ پورا گاﺅں اور پوری امت مسﺅل ہوگی ، جو اپنے نظام زندگی کی تنظیم میں خلاف ورزی کو برداشت کرتی ہے۔ یہ دین اسی لئے آیا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ، اسے نافذ کیا جائے۔ یہ پوری زندگی پر حاوی ہو۔ اس طرح یہاں پوری امت نافرمان قرار دی گئی ، اگر اسلامی نظام کے قیام کی مسﺅلیت شخصی ہوتی تو پوری امت کو ہلاک نہ کیا جاتا۔

یہ بستیاں نافرمان قرار دی گئیں اور انہوں نے وبال کو چکھا۔ اور آخر کار خسارے میں مبتلا ہوئیں۔ اور یہ سز ان کو اسی دنیا میں دی گئی۔ بستیوں ، اقوام اور ملل کو یہ سزا دی گئی جنہوں نے اسلامی منہاج سے انکار کیا ہے۔ ہم بھی شہادت دیتے ہیں اور ہمارے اسلاف بھی شہادت دیتے ہیں کہ احکام نکاح و طلاق کی نافرمانی کرنے والی اقوام کو عذاب دیا گیا۔ وہ فساد ، انتشار ، غربت ، قحط ، ظلم ، بےچینی اور نہایت ہی بدامنی اور ڈر کی زندگی گزارتی رہیں جس میں کوئی اطمینان اور سکون نہ تھا اور آج بھی ہم اس کرہ ارض پر ایسی کئی اقوام کو دیکھ رہے ہیں۔

یہ سزا اس کے علاوہ ہے جو ان نافرمانوں کے انتظار میں ہے جنہوں نے اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی اور جنہوں نے اسلامی نظام سے بغاوت کی۔ اللہ فرماتا ہے :

اعداللہ .................... شدیدا (56 : 01) اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے “۔ اور اللہ بہت ہی سچا ہے۔

یہ دین ایک منہاج حیات ہے اور اس کا ایک اجتماعی نظام زندگی ہے ، جس کی تفصیلات ہم نے سورة صف میں دی ہیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ ایک ایسی جماعت تشکیل دے جس کا ایک نظام ہو۔ اس جماعت اور سوسائٹی کی زندگی کو بدل کر رکھ دے لہٰذا یہ پوری جماعت اس دین کے بارے میں مسﺅل ہوگی۔ اور یہ جماعت ان احکام کی خلاف ورزی نہ کرے گی کہ اس پر یہ دھمکی صادق آجائے ، جو امم سابقہ کو دی گئی ، جنہوں نے امر الٰہی سے نافرمانی کی۔

اس ڈراوے اور اس کے طویل مناظر میں عقلمند لوگوں کو خطاب کیا گیا ہے ، جو ایمان لاتے ہیں ، اور ان کی عقلمندی کا ثبوت ہی یہ ہے کہ وہ ایمان لے آئے کہ اس اللہ سے ڈرو جس نے تم پر یہ یاد دہانی نازل کی ہے۔

قد انزل .................... ذکرا (56 : 01) ” اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کی ہے “۔ اور یہ ذکر مشخص تمہارے پاس موجود ہے۔ رسول مجسمہ ذکر ہیں۔ پوری ذات رسول کی نحوی اعتبار سے الذکر کا بدل کرکے لایا گیا ہے۔

اردو ترجمہ

ایک ایسا رسو ل جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اللہ اُسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق رکھا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Rasoolan yatloo AAalaykum ayati Allahi mubayyinatin liyukhrija allatheena amanoo waAAamiloo alssalihati mina alththulumati ila alnnoori waman yumin biAllahi wayaAAmal salihan yudkhilhu jannatin tajree min tahtiha alanharu khalideena feeha abadan qad ahsana Allahu lahu rizqan

رسولا .................... مبینت (56 : 11) ” ایک رسول جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے “۔

یہ نہایت ہی گہرا قابل توجہ نکتہ ہے اور اس کے اوپر کئی دلائل ہیں۔ یہ ذکر جو رسول لوگوں تک پہنچانے کے لئے لائے ہیں وہ رسول اللہ کی شخصیت کے اندر سے وکر ان تک پہنچا ہے۔ آپ صادق وامین تھے اور آپ نے پورا ذکر ان تک پہنچا دیا گویا یہ ذکر خا سے براہ راست ان تک پہنچ گیا۔ اور رسول کی ذات نے اس کا کوئی حصہ چھپایا نہیں تھا۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ آیت ذات رسول کو ذکر بتاتی ہے کہ رسول کی ذات پوری کی پوری ذکر ہوگی۔ رسول گویا مجسمہ ذکر ہیں اور وہ زندہ قرآن ہیں۔ اور حضرت عائشہ ؓ نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ :

کان خلقہ القرآن ” آپ کے اخلاق قرآن تھے “۔ آپ کے دل میں قرآن تھا اور آپ عملی زندگی میں قرآن پیش کرتے تھے۔

ذکر کے علاوہ اہل ایمان کو نور ، ہدایت ، صالحیت اور جنتوں کی نعمتوں کا وعدہ بھی کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ جنتوں میں جو رزق ملیں گے۔ وہ دنیا کے ارزاق کے مقابلے میں بہت ہی مکرم رزق ہیں ، بہت ہی احسن ہیں۔

ایک بار پھر رزق کی بات ہوتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ دنیا کا رزق تو ہر کسی کو ملتا ہے۔ اصل رزق تو رزق آخرت ہے ، جبکہ مومنین کے لئے دنیا میں بھی رزق حسن کا وعدہ ہے۔

اور آخر میں پھر پوری کائنات کا زمزمہ جو بہت ہی محیرالعقول حد تک وسیع ہے۔ یوں اس پوری سورت کے موضوع کو یعنی قوانین طلاق کو ، اللہ کے نظام قضاوقدر اور اس وسیع کائنات میں اللہ کے قانون قدرت کے ساتھ ملادیا جاتا ہے۔

اردو ترجمہ

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی اُنہی کے مانند ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے (یہ بات تمہیں اس لیے بتائی جا رہی ہے) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allahu allathee khalaqa sabAAa samawatin wamina alardi mithlahunna yatanazzalu alamru baynahunna litaAAlamoo anna Allaha AAala kulli shayin qadeerun waanna Allaha qad ahata bikulli shayin AAilman

اللہ الذی ............................ شیء علما (56 : 21) ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی انہی کے مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہنا ہے۔ (یہ بات تمہیں اس لئے بتائی جارہی ہے) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے “۔

سات آسمانوں کے بارے میں ہمیں ابھی تک پورا علم حاصل نہیں ہوا ہے کہ ان کی دوریاں اور فاصلے کتنے ہیں۔ اسی طرح سات زمینوں کا بھی ہمیں علم نہیں ہے۔ یہ زمین جس کے اوپر ہم رہتے ہیں ان میں سے ایک ہوگی اور باقی اللہ کے علم میں ہوں گی اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ یہ زمین آسمانوں ہی کے جنس سے ہے۔ اپنی ترکیب اور اپنے خصائص کے اعتبار سی ، ان آیات کو ابھی ہم اپنے سائنسی معلومات پر منطبق کرنا نہیں چاہتے۔ ہمارے علم نے ابھی تک اس کائنات کے بہت ہی تھوڑے حصے کا احاطہ کیا ہے۔ اس لئے یہ تحقیق کے طور پر نہیں کہہ سکتے کہ قرآن کا مفہوم یہ ہے اور انسان یہ بات اس وقت تک نہیں کہہ سکتا جب تک اسے اس کائنات کا تمام علم حاصل نہ ہوجائے۔ لہٰذا ہم اس آیت کے نفسیاتی پہلو تہی پر اکتفاء کرتے ہیں کہ اللہ کے احکام پوری کائنات پر حاوی ہیں۔

اسی پوری کائنات کی طرف یہ اشارہ ۔

سبع ................ مثلھن (56 : 21) ” سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی انہی کے مانند “۔ جب انسان اس پر غور کرتا ہے تو اس کے سامنے اس کائنات کا ہولناک اور محیرالعقول وسیع منظر آجاتا ہے۔ اللہ کی مملکت کی وسعت ، اللہ کی قدرت کے عظیم مشاہد ، جن کے مقابلے میں یہ زمین ، رائی کے دانے جیسی حقیر نظر آتی ہے ، اور اس کے اندر جو مخلوق ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اس سے حقیر تر ہے۔ اور اس کے حادثات پھر مزید حقیر تر ہیں ، اللہ کی کائنات میں اگر پوری زمین ایک حقیر سی گیند ہے تو اس کے اندر چند ٹکوں کی کیا حقیقت ہے جو ایک خاوند خرچ کرتا ہے اور ایک بیوی وصول کرتی ہے ؟

اس ہولناک طور پر وسیع اور محیرالعقول طور پر عظیم کائنات کے اندر اللہ کے احکام واوامرچلتے ہیں نکاح و طلاق تو اللہ کے اوامر کا ایک حصہ ہیں۔ خود انسانی علم کے زاویہ سے بھی اللہ کے احکام جو اس کائنات میں نازل ہوتے ہیں ، خود انسانی تصورات کے پیمانوں سے بھی بہت عظیم ہیں۔ اللہ کے کسی حکم کی مخالفت گویا پوری کائنات کی مخالفت کو دعوت دیتا ہے۔ زمین و آسمان کی مخالفت کو دعوت دینا اور یہ مخالفت بہت ہی جسارت ہے۔ کوئی عقلمند آدمی اس جسارت کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔ جبکہ رسول آگیا ہے ، وہ کھلی آیات سنا رہا ہے اور لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لارہا ہے۔

زمین اور آسمان میں اللہ کے احکام کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ قلب مومن میں یہ تصور بٹھایا جائے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا وہ جو چاہتا ہے اسے کوئی چیز اس سے عاجز نہیں کرسکتی۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے ۔ اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ ہر چیز اس کی بادشاہت میں ہے اور وہ دلوں کے راز بھی جانتا ہے۔

اس بات کے یہاں دو پہلو ہیں : ایک یہ کہ جو اللہ یہاں عائلی احکام دے رہا ہے ، وہ وسیع علم رکھتا ہے۔ اللہ تمام حالات ، تمام مصلحتوں اور انسان کی استعداد کی حدود سے واقف ہے ، لہٰذا لوگوں کو اللہ کے احکام سے سرموسرتابی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ علیم و محیط کا بنایا ہوا قانون ہے۔

دوسرا یہ کہ یہ احکام اور ان پر تعمیل تمہارے دلوں اور تمہارے ضمیر پر چھوڑ دی گئی ہے اور تمہارے ضمیر اور شعور کا بھی اللہ کو علم ہے۔ لہٰذا اپنے دل کی گہرائیوں سے ان احکام پر صدق دل کے ساتھ عمل کرو ، اللہ دنیا کے قوانین کے مقستین کی طرح نہیں ہے کہ جو جانتے نہیں۔ وہ تو علیم بذات الصدور ہے۔

اس آخری زمزمے اور وسعت علم الٰہی کے زمزمے پر اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ انسان سوچ کر ہی خائف ہوجاتا ہے اور اس کے سامنے سرجھکانے ، اطاعت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ سبحان اللہ ، اللہ ہی تو دلوں کا خالق ہے ، وہ ان دلوں کی وادیوں کے نشیب و فراز سے ہی واقف ہے۔

559