پست ہمت اور بزدل وری فوج کو پست ہمت اور بزدل بنا دیتے ہیں اور خیانت کار پوری سوسائٹی کو خائن بنا دیتے ہیں۔ اگر یہ منافقین مسلمانوں کے ہمراہی بن بھی جاتے تو اسلام صفوں کے اندر بےچینی ، بد دلی اور انتشار پیدا کردیتے اور اسلامی فوج کے اندر فتنہ و فساد اور تفرقہ اور خذلان پیدا کردیتے ، یہ اس لیے کہ مسلمانوں کے اندر بھی ایسے لوگ موجود تھے جن کے ان سابقہ قائدین کے ساتھ سماجی تعلقات تھے اور ابھی تک مسلمان ان لوگوں کی باتوں پر کان دھرتے تھے لیکن اللہ اپنی دعوت کا محافظ خود تھا اور وہ داعیوں کی نگہبانی بھی اپنی نگرانی میں کر رہا تھا۔ اللہ نے موممنین کو فتنے سے اس طرح بچایا کہ منافقین اور ذلیل لوگ بی تھے ہی رہ گئے۔
وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ : " اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے " یہاں ظالموں سے مراد مشرک ہیں۔ زیر بحث لوگوں کو بھی اللہ نے مشرکین کے زمرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کا ماضی ان کے دلوں کا غماز ہے۔ اور ان کی بدفطرتی پر ان کی تاریخ گواہ ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول خدا کی راہ روکی۔ اور تحریک اسلامی کی مخالفت میں انہوں نے وہی کچھ کیا جو ان لوگوں کے بس میں تھا۔ لیکن جب تحریک اسلامی غالب ہوئی تو انہوں نے سر تسلیم خم کردیا البتہ ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری موجود رہی۔
آیت 47 لَوْ خَرَجُوْا فِیْکُمْ مَّا زَادُوْکُمْ الاَّ خَبَالاً ان کے دلوں میں چونکہ روگ تھا ‘ اس لیے لشکر کے ساتھ جا کر بھی یہ لوگ فتنے ہی اٹھاتے ‘ لڑائی جھگڑا کرانے کی کوشش کرتے اور سازشیں کرتے۔ لہٰذا ان کے بیٹھے رہنے اور سفر میں آپ لوگوں کے ساتھ نہ جا نے میں بھی بہتری پوشیدہ تھی۔ گویا بندۂ مؤمن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر طرح خیر ہی خیر ہے ‘ جبکہ منافق کے لیے ہر حالت میں شر ہی شر ہے۔ وَّلَا اَوْضَعُوْا خِلٰلَکُمْ یَبْغُوْنَکُمُ الْفِتْنَۃَ ج وَفِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ لَہُمْط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بالظّٰلِمِیْنَ اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ تمہارے درمیان ان کی باتیں سننے والے بھی ہیں۔ یعنی تمہارے درمیان ایسے نیک دل اور سادہ لوح مسلمان بھی ہیں جو ان منافقین کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں۔ ایسے مسلمانوں کے ان منافقین کے ساتھ دوستانہ مراسم بھی ہیں اور وہ ان کی باتوں کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔ چناچہ اگر یہ منافقین تمہارے ساتھ لشکر میں موجود ہوتے اور کوئی فتنہ اٹھاتے تو عین ممکن تھا کہ تمہارے وہ ساتھی اپنی سادہ لوحی کے باعث ان کے اٹھائے ہوئے فتنے کا شکار ہوجاتے۔