یہ واقعہ اس وقت ہوا جب حضور ﷺ عوامی تائید کے ذریعے مدینہ تشریف لائے اور حالات یہ تھے کہ ابھی تک انہیں اپنے دشمنوں پر فیصلہ کن غلبہ حاصل نہ ہوا تھا اور مدینہ میں جب حضور کو کامیابی نصیب ہوتی رہیں تو ان اعداء نے بھی سر جھکا دئیے لیکن دل سے وہ تحریک جدید کو بدستور ناپسند کرتے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ اسلام پر کوئی برا وقت آئے اور انہیں ریشہ دوانیوں کا موقع ملے۔
آیت 48 لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ یاد رہے کہ یہی لفظ فتنہ اس حدیث میں بھی آیا ہے جس کا ذکر علمائے سو کے کردار کے سلسلے میں قبل ازیں آیت 34 کے ضمن میں ہوچکا ہے : عُلَمَاءُ ھُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَہُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ یعنی ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین لوگ ہوں گے ‘ فتنہ ان ہی میں سے برآمد ہوگا اور ان ہی میں پلٹ جائے گا۔ یعنی وہ آپس میں لڑائی جھگڑوں ‘ فتویٰ پردازیوں اور تفرقہ بازیوں میں مصروف ہوں گے۔ وَقَلَّبُوْا لَکَ الْاُمُوْرَ یہ لوگ اپنی امکانی حدتک کوشش کرتے رہے ہیں کہ آپ ﷺ کے معاملات کو تلپٹ کردیں۔حَتّٰی جَآءَ الْحَقُّ وَظَہَرَ اَمْرُ اللّٰہِ وَہُمْ کٰرِہُوْنَ یعنی جزیرہ نمائے عرب کی حد تک ان لوگوں کی خواہشوں اور کوششوں کے علی الرغم اللہ کا دین غالب ہوگیا۔
فتنہ و فساد کی آگ منافق اللہ تعالیٰ منافقین سے نفرت دلانے کے لئے فرما رہا ہے کہ کیا بھول گئے مدتوں تو یہ فتنہ و فساد کی آگ سلگاتے رہے ہیں اور تیرے کام کے الٹ دینے کی بیسیوں تدبیریں کرچکے ہیں مدینے میں آپ کا قدم آتے ہی تمام عرب نے ایک ہو کر مصیبتوں کی بارش آپ پر برسا دی۔ باہر سے وہ چڑھ دوڑے اندر سے یہود مدینہ اور منافقین مدینہ نے بغاوت کردی لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک ہی دن میں سب کی کمانیں توڑ دیں ان کے جوڑ ڈھیلے کردیئے ان کے جوش ٹھنڈے کردیئے بدر کے معرکے نے ان کے ہوش حواس بھلا دیئے اور ان کے ارمان ذبح کردیئے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے صاف کہہ دیا کہ بس اب یہ لوگ ہمارے بس کے نہیں رہے اب تو سوا اس کے کوئی چارہ نہیں کہ ظاہر میں اسلام کی موافقت کی جائے دل میں جو ہے سو ہے وقت آنے دو دیکھا جائے گا اور دکھا دیا جائے گا۔ جیسے جیسے حق کی بلندی اور توحید کا بول بالا ہوتا گیا یہ لوگ حسد کی آگ میں جلتے گئے آخر حق نے قدم جمائے، اللہ کا کلمہ غالب آگیا اور یہ یونہی سینہ پیٹتے اور ڈنڈے بجاتے رہے۔