آیت 88 لٰکِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ جَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ ط وَاُولٰٓءِکَ لَہُمُ الْخَیْرٰتُز وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ فلاح محض ایک لفظ ہی نہیں بلکہ قرآن کی ایک جامع اصطلاح ہے۔ اس اصطلاح پر تفصیلی گفتگو ان شاء اللہ سورة المؤمنون کے آغاز میں ہوگی۔
منافق کی آخرت خراب منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی خستہ حالت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لئے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لئے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔