درس نمبر 93 ایک نظر میں
یہ سبق غزوہ تبوک سے قبل اسلامی معاشرے کے عناصر ترکیبی سے بحث کرتا ہے۔ نیز اس وقت اسلامی معاشرے میں جس قدر طبقات اہل ایمان شامل تھے۔ ان کی تفصیلات بتاتا ہے اور اس میں اسلامی معاشرے کی عضویاتی تشکیل سے بحث کی گئی ہے۔ مختلف طبقات کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور ان کے خدوخال بیان کیے گئے ہیں۔
اس سورت کے آغاز میں ہم نے تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ وہ کیا تاریخی اسباب تھے جن کی وجہ سے اسلامی معاشرے میں اس قسم کے مختلف مزاج کے لوگ جمع ہوگئے تھے۔ یہاں مناسب ہے کہ چند پیرا گراف یہاں دوبارہ نقل کردیے جائیں تاکہ وہ حالات ذہن کے سامنے آجائیں جن سے اس وقت اسلامی معاشرہ گزر رہا تھا۔ جزیرۃ العرب میں اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں قریش ایک دیوار اور بند کی طرح کھڑے تھے ، کیونکہ دینی اور دنیاوی معاملات میں قریش کو ایک بڑا مقام حاصل تھا۔ پھر ادبی ، ثقافتی اور علمی و اقتصادی اعتبار سے بھی وہ دوسرے عربوں کے لیے قابل تقلید تھے۔ اس وجہ سے ان کا مقابلے پر اتر آنا اور اس دین کی راہ روک دینا اس بات کا باعث ہوا کہ تمام عرب نے اس دین سے منہ پھیرلیا اور اسلام میں داخل نہ ہوئے ، یا اگر انہوں نے صرف نظر نہ کیا تو کم از کم یہ صورت حالات ضرور تھی کہ لوگ تردد میں رہے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ انتظار کیا جائے ، تاکہ مسلمانوں اور قریش کی کشمکش کا کوئی فیصلہ ہوجائے۔ جب فتح مکہ کے بعد قریش سرنگوں ہوئے ہوازن و ثقیف بھی سرنگوں ہوگئے۔ مدینہ میں جو قوی یہودی قبائل تھے ، ان کی قوت اس سے پہلے ہی ٹوٹ گئی تھی۔ بنی قینقاع اور اور بنو نظیر شام کی طرف جلا وطن ہوگئے۔ بنو قریظہ بھی ختم ہوکر خیبر کا معاملہ بھی صاف ہوگیا تھا۔ ان واقعات کی وجہ سے اب پورے جزیرۃ العرب میں اسلام پھیل گیا اور لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہونے لگے اور صرف ایک سال کے عرصے میں لوگ دین اسلام میں داخل ہوگئے۔
اسلام کا گراف افقی طور پر بلند ہونے کی وجہ سے وہ کمزوریاں اسلامی صفوں میں در آئیں جو جنگ بدر کی حیران کن کامیابی کی وجہ سے آگئی تھی۔ اب یہ کمزوریاں بہت بڑے پیمانے پر تھیں۔ بدر الکبری کے بعد جو کمزور عناصر اسلامی صفوں میں در آئے تھے۔ ان کو تعلیم وتربیت کے ذریعے اس قدر پاک و صاف کردیا گیا کہ بدر الکبری کے بعد فتح مکہ تک سات سالوں میں قریب تھا کہ مدنی معاشرہ تمام کمزوریوں سے پاک ہوجائے اور اہل مدینہ اسلامی انقلاب کے لیے مضبوط بیس اور مضبوط بنیاد بن جائے۔ یہاں اولین ، مہاجرین و انصار کی ایسی ایسی جمعیت تیار بیٹھی تھی کہ وہ ہر وقت اسلامی نظام کے لیے امین تھی۔ اگر یہ جمعیت نہ ہوتی تو اس عظیم انقلاب کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا۔ لیکن بدر الکبری کے بعد اس جمعیت نے جو مہاجرین و انصار کے سابقین اولین پر مشتمل تھی اس عظیم انقلابی امانت کی مسلسل نگہبانی کی۔ ان سات سالوں میں اللہ تعالیٰ نے مدینہ طیبہ کی اس جمعیت کو اس کام کے لیے تیار کیا اور تربیت دی کہ یہ لوگ فتح عظیم کے بعد اسلام میں داخل ہونے والے انسانوں کے سیلاب کو کنٹرول کرسکیں۔ اللہ خوب جانتا تھا کہ وہ اپنی رسالت اور انقلابی رسالت کی حفاظت کا کام کس کے سپرد کرے۔
ان کمزوریوں کا سب سے پہلے ظہور یوم حنین میں ہوا۔ اس کا تذکرہ سورت توبہ میں ان الفاظ میں ہوا ہے :
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الأرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ (25) ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ (26): " اللہ اسے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کرچکا ہے۔ ابھی غزوہ حنین کے روز۔ اس روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرور تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اس وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔ پھر اللہ نے اپنی سینت اپنے رسول پر اور مومنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور منکرین حق کو سزا دی کہ یہی بدلہ ہے ان لوگوں کا جو حق کا انکار کریں۔
اس جنگ میں ابتدائی شکست کا پہلا سبب یہ تھا کہ دس ہزار اسلامی لشکر میں دوہزار طلقاء شریک تھے۔ یہ فتح ، مکہ کے موقع پر ایمان لائے تھے اور اسلامی لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے تھے۔ چناچہ اسلامی لشکر کے ساتھ ان دوسرے افراد کا وجود بھی اس انتشار کا سبب بنا۔ دوسرا سبب یہ تھا کہ ہوازن نے بالکل اچانک حملہ کیا اور لشکر اسلام چونکہ صرف مدینہ طیبہ کی حققی تربیت یافتہ فوج پر مشتمل نہ تھا ، جن کی تربیت گزشتہ سات سالوں میں مکمل ہوچکی تھی اور جو اس تحریک کی اصل اساس اور سرمایہ تھے ، اس لیے انتشار پیدا ہوگیا۔
غزوہ حنین میں جو کمزوریاں سامنے آئیں وہ اسلام کی عددی قوت کے گراف اچانک عمودی بلندی کی وجہ سے تھیں۔ جدید لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے ، جو ایمان اور اخلاص کے اعتبار سے مختلف درجات کے لوگ تھے۔ جن کے درمیان تفاوت درجات تھا اور سورت توبہ میں ان کمزوریوں سے بحث کی گئی ہے اور پھر مختلف زاویوں سے اور مختلف پہلوؤں سے سخت تنقید کی گئی ہے جن کے تفصیلی اقتباسات ہم اس سے قبل دے آئے ہیں۔
اس اجمال کی تفصیل میں اب ہم آیات کی تشریح کرتے ہیں۔
اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ: یہ بدوی عرب کفر ونفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملہ میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ اور حکیم ودانا ہے۔
یہاں سے بدوی عربوں کی انواع و اقسام پر تبصرہ شروع ہوتا ہے۔ یہ بدوی عرب مدینہ کے ارگرد سکونت پذیر تے۔ اسلام لانے سے قبل ان لوگوں نے اسلام کے خلاف ہر کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اسلام لانے کے بعد وہ عموماً دو قسم کے تھے جن کا تذکرہ ان آیات میں ہوا ہے۔ یہاں ان دونوں اقسام کے بیان سے قبل ان بدوی لوگوں پر ایک عمومی تبصرہ ہے۔
ان عمومی الفاظ میں بدویوں کی تعریف کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ بدویت کی صفات کیا ہوتی ہیں ، لہذا ہر بدوی کی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ سخت کافر اور پرلے درجے کے منافق ہوتے ہیں اور ان کے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں وہ زیادہ جاہل اور حدود اللہ سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اور ان تعلیمات سے دور رہتے ہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہیں۔
یعنی ان کے عدم علم اور ناواقفیت کی اصل وجہ ہی ان کے ظروف و احوال ہیں۔ مشکل حالات میں رہ رہ کر یہ لوگ سخت جان ، اجڈ اور دین کے راہ و رسم سے ناواقف رہتے ہیں۔ ان کا تعلق چونکہ ہر وقت حسی مادی اشیاء سے ہوتا ہے ، اس لیے وہ اعلی اقدار اور اخلاقی اصولوں سے زیادہ مادی اشیاء کو اہمیت دتے ہٰں۔ اگرچہ ایمان ان کے مزاج میں تبدیلی پیدا کردیتا ہے۔ اور ان کی اقدار اور ترجیحات کو بلند کردیتا ہے اور حسی افق سے ان کو بلند کرکے معنوی آفاق پر ان کی نظریں مرکوز کردیتا ہے۔
بدویوں کی سنگدلی کے بیشمار واقعات ، احادیث و روایات میں نقل ہوئے ہیں۔ علامہ ابن کثیر نے ان میں اکثر واقعات کو نقل فرمایا ہے۔
۔۔۔
اعمش نے ابراہیم سے نقل کیا ہے ، کہتے ہیں کہ ایک بدوی زید ابن صومان کے پاس آ کر بیٹھا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ ان کا ہاتھ جنگ نہاوند میں زخمی ہوگیا تھا۔ تو بدوی نے کہا تمہاری باتیں تو مجھ عجیب لگ رہی ہیں لیکن تمہارا ہاتھ مجھے شب ہے میں ڈآل رہا ہے تو زید نے کہا تم میرے ہاتھ کی وجہ سے شک میں کیوں پڑگئے ؟ دیکھتے نہیں کہ یہ تو بایاں ہے ؟ اس پر بدوی نے کہا : خدا کی قسم مجھے یہ معلوم نہیں کہ مجرمین کا بایاں ہاتھ کاٹا جاتا ہے یا دایاں۔ اس زید ابن صومان نے فرمایا
اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ : یہ بدوی عرب کفر ونفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملہ میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے۔ امام احمد روایت کرتے ہیں عبدالرحمن ابن مہدی سے ، سفیان نے ، ابوموسی سے ، وھب ابن منبہ نے ، ابن عباس نے ، رسول اللہ ﷺ سے ، فرماتے ہیں کہ جو شخص دیہات میں رہائش رکھتا ہے ، وہ خشک ہوجاتا ہے اور جو شکار کا پیچھا کرتا ہے وہ غافل ہوجاتا ہے ، اور جو بادشاہوں کے ہاں جاتا ہے ، فتنے میں پڑتا ہے۔ شدت اور ظلم چونکہ چونکہ بدوی لوگوں میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بدویوں میں سے کبھی رسول نہیں بھیجا۔ تمام رسول قصبوں اور شہروں سے مبعوث ہوئے ہٰں۔
وما ارسلنا من قبلک الا رجالا انوحی الیہم من اھل القری " اور آپ سے پہلے بھی اہل قریہ میں سے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا جن کے طرف وحی کی گئی۔ ایک بار جب ایک بدوی نے رسول اللہ کو ہدیہ دیا تو رسول اللہ نے جواب میں کئی گنا دیا " چناچہ وہ راضی ہوگیا۔ حضور نے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں کسی قریشی ، ثقفی انصاری اور دوسی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں۔ کیونکہ یہ لوگ شہروں میں رہتے تھے یعنی مکہ ، طائف ، مدینہ اور یمن میں رہتے تھے۔ یہ لوگ نہایت نرم مزاج تھے جبکہ بدوی لوگوں کے مزاج میں درشتی ہوتی ہے۔
امام مسلم نے ابوبکر ابن ابو شیبہ سے اور ابوکریب سے ، انہوں نے ابو امامہ سے اور ابن تمیر سے ، ہشام سے ، اس کے باپ سے انہوں نے ، عائشہ سے ، فرماتی ہیں : بعض دیہاتی حضور سے ملاقات کے لیے آئے تو انہوں نے کہا " کیا تم لوگ اپنے چبوں کو بوسہ دیتے ہو تو لوگوں نے کہا : " ہاں " تو انہوں نے کہا : " خدا کی قسم ہم تو بوسہ نہٰں دیتے " اس پر حضور اکرم نے فرمایا : " میں کیا کرسکتا ہوں کہ اللہ نے تمہارے دلوں سے شفقت نکال دی ہے۔
غرض بیشمار روایات میں عرب دیہاتیون کی درشت مزاجی اور سنگدلی کے واقعات نقل ہوئے ہیں۔ اور بعض واقعات کا تعلق ان واقعات سے ہے جو اسلام کے بعد کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا ان کی یہ صفت بجا طور پر اسلام کے بعد بھی ہوسکتی ہے کہ بعض بدوی کفر میں اور نفاق میں زیادہ شدید ہوں ، اور ان کے بارے میں زیادہ امکان اس بات کا ہو کہ وہ حدود اللہ سے لاعلم ہوں ، جو رسول اللہ پر نازل ہوئے تھے کیونکہ انہوں نے پوری زندگی دیہاتوں میں درشتی اور سختی کے ماحول میں گزاری تھی ، جس میں وہ دوسروں کو کنٹرول میں رکھتے تھے اور جب کمزور زیر دست ہوتے تھے تو وہ اظہار نفرت میں نفاق اور عیاری سے کام لیتے تھے۔ یہ لوگ چونکہ دین جدید کی راہ و رسم سے واقف نہ تھے اس لیے وہ بسا اوقات حدود سے تجاوز کر جاتے تھے۔
واللہ علیم حکیم " اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے " اسے اپنے بندوں کے حالات کا اچھی طرح علم ہے۔ ان کی صفات اور ان کے مزاج کا اچھی طرح علم رکھتا ہے اور وہ حکیم دانا ہے ، اس نے مختلف لوگوں کو مختلف خصوصیات ، صفات اور استعداد سے نوازا ہے اور اس نے لوگوں کو مختلف نسلوں ، جنسوں اور خاندانوں اور اقوام کی شکل میں منقسم کررکھا ہے۔
بدوی لوگو کی عمومی صفات کے بیان کے بعد اب اسلامی تحریک اسلامی تربیت کے نتیجے میں جو تغیرات ہوئے ، اس زاویہ سے ان کے درمیان جو فرق پیدا ہوگیا ہے ، اس کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ بعض دل بہرحال ایسے تھے جن میں حقیقی ایمان داخل ہوگیا تھا ، اور بعض ایسے تھے جو ابھی تک اپنی سابقہ حالت پر قائم تے اور حالت کفر و نفاق ان کے اندر موجود تھی۔
آیت 97 اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلاَّ یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ یعنی اہل مدینہ تو مسلسل رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہو رہے تھے ‘ آپ ﷺ سے جمعہ کے خطبات سنتے تھے اور آپ ﷺ کی نصیحت کا ایک سلسلہ شب و روز ان کے درمیان چلتا رہتا تھا۔ مگر ان بادیہ نشین لوگوں کو تعلیم و تعلّم کے ایسے مواقع میسر نہیں تھے۔ لہٰذا فطری اور منطقی طور پر کفر و شرک اور نفاق کی شدت ان لوگوں میں نسبتاً زیادہ تھی۔
دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار و منافق بھی ہیں اور مومن مسلمان بھی ہیں۔ لیکن کافروں اور منافقوں کا کفر و نفاق نہایت سخت ہے۔ ان میں اس بات کی مطلقاً اہلیت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدوں کا علم حاصل کریں جو اس نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہیں۔ چناچہ ایک اعرابی حضرت زید بن صوحان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس وقت یہ اس مجلس میں لوگوں کو کچھ بیان فرما رہے تھے۔ نہاوند والے دن انکا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی بول اٹھا کہ آپ کی باتوں سے تو آپ کی محبت میرے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ لیکن آپ کا یہ کٹا ہوا ہاتھ مجھے اور ہی شبہ میں ڈالتا ہے۔ آپ نے فرمایا اس سے تمہیں کیا شک ہوا یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔ تو اعرابی نے کہا واللہ مجھے نہیں معلوم کہ دایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا بایاں ؟ انہوں نے فرمایا اللہ عزوجل نے سچ فرمایا کہ اعراب بڑے ہی سخت کفر ونفاق والے اور اللہ کی حدوں کے بالکل ہی نہ جاننے والے ہیں۔ مسند احمد میں ہے " جو بادیہ نشین ہوا اس نے غلط و جفا کی۔ اور جو شکار کے پیچھے پڑگیا اس نے غفلت کی۔ اور جو بادشاہ کے پاس پہنچا وہ فتنے میں پڑا "۔ ابو داؤد ترمذی اور نسانی میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں چونکہ صحرا نشینوں میں عموماً سختی اور بدخلقی ہوتی ہے، اللہ عزوجل نے ان میں سے کسی کو اپنی رسالت کے ساتھ ممتاز نہیں فرمایا بلکہ رسول ہمیشہ شہری لوگ ہوتے رہے۔ جیسے فرمان اللہ ہے۔ (آیت وما ارسلنا من قبلک الا رجلا نوحی الیھم من اھل القری) ہم نے تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سب انسان مرد تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے تھے وہ سب متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کو کچھ ہدیہ پیش کیا، آپ ﷺ نے اس کے ہدیہ سے کئی گناہ زیادہ انعام دیا جب جا کر بمشکل تمام راضی ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اب سے میں نے قصد کیا ہے کہ سوائے قریشی، ثقفی، انصاری یا دوسی کے کسی کا تحفہ قبول نہ کروں گا۔ یہ اس لئے کہ یہ چاروں شہروں کے رہنے والے تھے۔ مکہ، طائف، مدینہ اور یمن کے لوگ تھے، پس یہ فطرتاً ان بادیہ نشینوں کی نسبت نرم اخلاق اور دور اندیش لوگ تھے، ان میں اعراب جیسی سختی اور کھردرا پن نہ تھا۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ ایمان و علم عطا فرمائے جانے کا اہل کون ہے ؟ وہ اپنے بندوں میں ایمان و کفر، علم وجہل، نفاق و اسلام کی تقسیم میں باحکمت ہے۔ اس کے زبردست علم کی وجہ سے اس کے کاموں کی بازپرس اس سے کوئی نہیں کرسکتا۔ اور اس حکمت کی وجہ سے اس کا کوئی کام بےجا نہیں ہوتا۔ ان بادیہ نشینوں میں وہ بھی ہیں جو اللہ کی راہ کے خرچ کو ناحق اور تاوان اور اپنا صریح نقصان جانتے ہیں اور ہر وقت اسی کے منتظر رہتے ہیں کہ تم مسلمانوں پر کب بلا و مصیبت آئے، کب تم حوادث و آفات میں گھر جاؤ لیکن ان کی یہ بد خواہی انہی کے آگے آئے گی، انہی پر برائی کا زوال آئے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اور خوب جانتا ہے کہ مستحق امداد کون ہے اور ذلت کے لائق کون ہے۔ دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں اعراب کی اس قوم کو بیان فرما کر اب ان میں سے بھلے لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں آخرت کو مانتے ہیں۔ راہ حق میں خرچ کر کے اللہ کی قربت تلاش کرتے ہیں، ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کی دعائیں لیتے ہیں۔ بیشک ان کو اللہ کی قربت حاصل ہے۔ اللہ انہیں اپنی رحمتیں عطا کر دے گا۔ وہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے۔