چونکہ اس سے پہلے کے پورے سبق میں منافقین مدینہ کا ذکر تھا اس لیے یہاں مومنین سے بھی پہلے منافقین کا ذکر کیا گیا تاکہ بدوی منافقین اور مدینہ کے منافقین کا ذکر ایک جگہ ہوجائے۔
ومن الاعراب من یتخذ ما ینفق مغرما " اور ان بدویوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو راہ خدا میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اپنے اوپر زبردستی کی چٹی سمجھتے ہیں " اپنے ظاہری اعلان ایمان کی وجہ سے یہ لوگ مجبور ہیں کہ زکوۃ ادا کریں اور مسلمانوں کی جنگی مہمات کے لیے مالی امداد دیں کیونکہ اس ظاہر داری کے بغیر وہ اسلامی معاشرے میں پر امن زندگی کے ثمرات سے متمتع نہ ہوسکتے تھے۔ نیز مدینہ میں چونکہ اسلامی حکومت قائم تھی اور اس کے ساتھ بھی انہیں ہاں میں ہاں ملانا تھی۔ لیکن در حقیقت وہ ان تمام اخراجات کو زبردستی کی چٹی سمجھتے تھے ، وہ دل کی خوشی سے یہ اخراجات نہ کرتے تھے کیونکہ ان کو مسلمانوں کی فتح اور نصرت سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔
و یتربص بکم الدوائر " اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشون کا انتظار کر رہے ہیں تھے " وہ انتظار کرتے تھے کہ مسلمان کسی چکر میں پھسن جائیں اور ان کو شکست ہو اور ان کے غازی صحیح سلامت واپس نہ لوٹیں۔
ان یہاں ان کے حق میں اللہ کی جانب سے بد دعا آجاتی ہے۔ اللہ کی جانب سے بد دعا کا مفہوم تو یہ ہے کہ بددعا کا مفہوم عملاً ان پر واقعہ ہوجاتا ہے۔
علیہم دائرۃ السوء " حالانکہ بدی کا چکر ان پر مسلط ہے " گویا بدی ایک دائرہ ہے جس نے انہیں گھیرے میں لے لیا ہے ، اور اس سے وہ کسی طرح بچ کر نکل نہیں سکتے۔ وہ مکمل گھیرے میں ہیں۔ یہاں یہ معنی و مفہوم کو مجسم شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ یالی تجسیم ہے جس کے ذریعے مفہوم زیادہ موثر اور زندہ نظر آتا ہے ۔
واللہ سمیع علیم " اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے " یہاں اللہ کی صٖات سمع اور علم کو لایا گیا ہے ، جو زیر بحث صورت حال میں نہایت موزوں اور مناسب ہے۔ یہ لوگ دلوں میں خفیہ خواہشات بسائے اور چھپائے ہوے ہیں کہ کوئی مصیبت مسلمانوں پر نازل ہو ، نیز کفر کو چھپا کر ایمان کو ظاہر کر رہے تے اس لیے اللہ ان کی خفیہ باتوں کو سنتا ہے اور چھپائے ہوئے بھیدوں اور کفر کا علم رکھتا ہے۔ اور دوسرا گروہ جن کے دلوں کے اندر ایمان کی چمک پیدا ہوگئی :
آیت 98 وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا یعنی زکوٰۃ ‘ عشر وغیرہ کی ادائیگی جو اسلامی نظام حکومت کے تحت ان پر عائد ہوئی ہے یہ لوگ اس کو تاوان سمجھتے ہوئے بڑی ناگواری سے ادا کرتے ہیں ‘ اس لیے کہ اس سے پہلے اس علاقے میں نہ تو کوئی ایسا نظام تھا اور نہ ہی یہ لوگ محصولات وغیرہ ادا کرنے کے عادی تھے۔ وَّیَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَآءِرَط یہ لوگ بڑی بےصبری سے انتظار کر رہے ہیں کہ گردش زمانہ کے باعث مسلمانوں کے خلاف کچھ ایسے حالات پیدا ہوجائیں جن سے مدینہ کی یہ اسلامی حکومت ختم ہوجائے اور وہ ان پابندیوں سے آزاد ہوجائیں۔عَلَیْہِمْ دَآءِرَۃُ السَّوْءِط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ان کی منافقت جو ان کے دلوں کا روگ بن چکی ہے ‘ وہی اصل برائی ہے جو ان پر مسلط ہے۔