ان نعمتوں اور لذتوں کے ساتھ ساتھ پھر استقبال اور تکریم بھی۔
کلواواشربوا ........ تعملون (25 : 91) ” کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کررہے تھے “ یہ کہ عالم بالا سے ان کو پکاراجائے گا بذات خود ایک بلند مرتبہ واعزازیہ کہا جائے گا کہ تم اس کے مستحق ہو۔
آیت 19{ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ہَنِیْٓئًام بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ } ”اور کھائو پیو رچتا پچتا ‘ اُن اعمال کا صلہ جو تم کرتے رہے ہو۔“ قبل ازیں بھی متعدد مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کی قدر افزائی کے لیے جنت اور اس کی نعمتوں کو ان کے اعمال کا صلہ قرار دیا جائے گا ‘ جبکہ اہل جنت بار بار یہ اقرار کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! یہ تیرا فضل ہے جو تو نے ہمیں بخش دیا اور جنت کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا ‘ ورنہ ہم اس قابل ہرگز نہ تھے۔