سورۃ الطور: آیت 45 - فذرهم حتى يلاقوا يومهم الذي... - اردو

آیت 45 کی تفسیر, سورۃ الطور

فَذَرْهُمْ حَتَّىٰ يُلَٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى فِيهِ يُصْعَقُونَ

اردو ترجمہ

پس اے نبیؐ، اِنہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن کو پہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fatharhum hatta yulaqoo yawmahumu allathee feehi yusAAaqoona

آیت 45 کی تفسیر

یہ مخالفین پر ایک نیا تنقیدی حملہ ہے۔ اس کا آغاز ایک شدید دھمکی اور تہدید سے ہوتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ سب لوگ مار گرائے جائیں گے اور یہ واقعہ حشر ونشر اور قیامت میں اٹھانے سے قدرے پہلے ہوگا۔ اس دن ان کی کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ آج تو یہ لوگ تحریک اسلامی کے خلاف کچھ نہ کچھ تدابیر کرتے ہیں لیکن اس دن کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ قیامت سے پہلے بھی ان پر عذاب آنے والا ہے لیکن ان کو پتہ نہیں ہے۔

اس آخری دھمکی کے بعد مکذبین کے معاملے میں یہ حملہ فارغ ہوجاتا ہے۔ اس سے قبل اس سورت نے ان کا خوب تعاقب کیا اور سخت حملے ان پر کئے اور آخر میں کہہ دیا کہ قریبی عذاب بھی ان کے انتظار میں ہے اور دور کا عذاب بھی ان کے انتظار میں ہے۔ اب روئے سخن نبی کریم ﷺ کی طرف ہے جن پر زیادتیاں کرنے والے زیادتی کرکے طرح طرح کی باتیں آپ کے خلاف بناتے تھے۔ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ مشکلات دور ہونے والی ہیں۔ یہ مکذبین خود عذاب سے دو چار ہونے والے ہیں دعوت کا راستہ دشوار گزار ہے اور طویل ہے اور اس پر صبر ہی کرنا طریقہ دعوت ہے۔ انجام اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ فیصلہ اسی نے کرنا ہوتا ہے۔

آیت 45{ فَذَرْہُمْ حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ فِیْہِ یُصْعَقُوْنََ۔ } ”تو اے نبی ﷺ ! چھوڑے رکھیے ان کو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس میں ان پر بجلی کی کڑک گرے گی۔“ ”چھوڑ دینے“ کے مفہوم میں یہ حکم ابتدائی زمانے کی سورتوں میں تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ جیسے سورة المعارج میں فرمایا گیا : { فَذَرْھُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا حَتّٰی یُلٰـقُوْا یَوْمَھُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۔ } ”تو اے پیغمبر ﷺ ! ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ان کے سامنے آموجود ہو“۔ سورة القلم میں فرمایا گیا : { فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّـکَذِّبُ بِھٰذَا الْحَدِیْثِط سَنَسْتَدْرِجُھُمْ مِنْ حَیْثُ لاَ یَعْلَمُوْنَ۔ } ”تو آپ مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دیں۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی“۔ اس حکم کے تکرار کا مطلب یہی ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کے تمسخر ‘ استہزاء اور دیگر مخالفانہ ہتھکنڈوں کو بالکل خاطر میں نہ لائیں اور تبلیغ و تذکیر کے حوالے سے اپنا مشن جاری رکھیں۔ ان لوگوں کے معاملے کو آپ ﷺ مجھ پر چھوڑ دیں ‘ ان سے میں خود نمٹ لوں گا۔

آیت 45 - سورۃ الطور: (فذرهم حتى يلاقوا يومهم الذي فيه يصعقون...) - اردو