درس نمبر 232 ایک نظر میں
قریش کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ اور یہ دعویٰ برحق تھا۔ پھر ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ ملت ابراہیمی پر ہیں اور ان کی یہ بات غلط تھی۔ حضرت ابراہیم نے تو عقیدۂ توحید کا اعلان نہایت کھل کر کیا تھا۔ جس کے اندر کوئی التباس اور پیچیدگی نہ تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے باپ کو چھوڑا ، اپنی قوم کو چھوڑا ، اس سے پہلے ان کو قتل کرنے اور جلانے کی سعی کی گئی۔ اور ان کی شریعت بھی عقیدۂ توحید پر قائم تھی اور اسی کی انہوں نے اپنی اولاد کو تاکید کی تھی۔ اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور شریعت میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔
اس سبق میں قرآن اپنے مخاطبین کو خود ان کی تاریخ کی سیر کراتا ہے تا کہ ان کے دعوے کو تاریخ کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ اس کے بعد رسالت محمدی پر ان کے اعتراضات کو پرکھا جا رہا ہے۔
وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (43 : 31) “ کہتے ہیں یہ قرآن دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں ہوا ”۔ ان کے اس قول کی تردید کی جاتی ہے کہ ان کی سوچ میں بہت بڑی کجی ہے۔ کیونکہ اسلام جن قدروں پر مبنی ہے ، ان کے اعتبار سے یہ سوچ ہی غلط ہے کہ دعوت اسلامی کی زمام کسی بڑے آدمی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہ جھوٹی قدریں ہیں اور یہی اسلام کی طرف آنے میں ان کے لئے رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہی باطل سوچوں نے ان کو حق و ہدایت سے دور رکھا ہوا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان کو یہ اطلاع بھی کردی جاتی ہے کہ اس گمراہی کی اصل علت اور وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ اس درس کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کی طرف آپ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ان سے منہ موڑ لیں ، ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں ، آپ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی اندھے کو بینا کردیں ، کسی بہرے کو شنوائی دے دیں۔ یہ اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں ۔ اور ان کو ضرور سزا ملے گی خواہ آپ کی زندگی میں اللہ ان سے انتقام لے یا آپ کے بعد وہ اس سے دو چار ہوں۔ آپ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ کو جو پیغام دیا گیا ہے ، آپ اس کو مضبوطی سے پکڑیں ۔ یہی پیغام تمام انبیاء کو دیا گیا تھا۔ سب کلمہ توحید لے کر آئے تھے۔
وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ، ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ” ۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا ایک حلقہ پیش کیا جاتا ہے۔ فرعون کلیم کے قصے کا وہ حصہ جس میں وہی جھوٹی قدریں سامنے آتی ہیں جو اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پیش کیں گویا یہ ایک تیار استدلال ہے ، بنا بنایا اور تاریخ کے ہر مرحلے میں اسے دہرایا جاتا ہے۔
٭٭٭٭
درس نمبر 232 تشریح آیات
26 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 56
آیت نمبر 26 تا 28 دعوت توحید جسے یہ لوگ انوکھا سمجھتے ہیں ، یہ دراصل ان کے باپ کی دعوت ہے ، یہ وہ دعوت ہے جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے سامنے پیش کی اور ان کے باطل عقائد کی تردید کی۔ اور اس میں انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے موروثی عقائد کو ترک کیا اور موروثی راہ پر رسم نہ چلے۔ محض اس لیے کہ آباء و اجداد یہی کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ، اس معاملے میں ان کے مقابلے میں برات کے اظہار میں کوئی لگی لپٹی بات نہیں کی بلکہ نہایت ہی صاف الفاظ اور شفاف عمل میں ان کی تردید کی ، جس طرح قرآن نقل کرتا ہے :
اننی براء مما تعبدون (43 : 26) الا الذی فطرنی فانہ سیھدین (43 : 27) “ بیشک میں ان سے بری الذمہ ہوں جن کی تم بندگی کرتے ہو ، میرا تعلق اس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا وہی میری رہنمائی کرے گا ”۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اظہار برات اور پھر اس اعلان سے کہ میں صرف اس خدا کی بندگی کروں گا جو میرا خالق ہے ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ نمرودی معاشرہ بھی بالکل خدا کا منکر نہ تھا بلکہ وہ اللہ کے سوا اور الہٰوں کو اللہ کے ساتھ شریک قرار دیتے تھے۔ اور ان کی بندگی کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ان سے برات کا اظہار کیا۔ اس لا تعلقی کے اظہار سے آپ نے خالق کائنات کو مستثنیٰ لیا۔ اور اللہ کی یہاں آپ نے وہ صفت بیان جو صرف اللہ کے لئے عبادت کا استحقاق ثابت کرتی ہے۔ یہ کہ وہ پیدا کرنے والا ہے۔ لہٰذا بندگی اور حکم بھی اسی کا چلنا چاہئے اور آپ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اللہ انہیں ہدایات دے گا کہ وہ کیا کریں کیونکہ خالق اپنی مخلوق کی راہنمائی کا انتظام بھی کرتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس طرح ہدایت دے۔ یہ کلمہ جس کے اوپر زندگی قائم ہے جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے اور جس پر شہادت دے رہی ہے ، یہ حضرت ابراہیم نے کہا۔
وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون (43 : 28) “ اور ابراہیم یہی کلمہ پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تا کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں ”۔ اس کرۂ ارض پر کلمہ توحید کے اقرار اور رواج میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا بڑا حصہ ہے۔ آپ ہی کے بعد یہ کلمہ تمام نسلوں میں رائج ہوا۔ اور یہ رواج آپ کی اولاد کے ذریعے ہوا۔ آپ کی اولاد سے بیشمار رسول بھیجے گئے۔ تین رسول تو اولو العزم رسول تھے۔ حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ ۔ آج دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ ایسے پائے جاتے ہیں ، جو مختلف بڑے ادیان کے پیروکار ہیں جو اپنے باپ کے کلمہ توحید پر کاربند ہیں۔ اس نے اس کلمے کو اپنی اولاد میں باقی رکھا۔ اگرچہ ان میں سے بھی گمراہ ہونے والے گمراہ ہوئے لیکن یہ کلمہ باقی رہا۔ کبھی یہ بالکل نا پید نہیں ہوا ، اور اس کے قدم مضبوط رہے ، کبھی کسی نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا اور نہ اس کے ساتھ باطل کا امتزاج ہوا ہے تا کہ لوگ اللہ کی طرف لوٹیں اور اسے سینے سے لگائیں۔
ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے بھی کلمہ توحید سے انسانیت واقف تھی لیکن زمین کے اوپر کلمہ توحید کو قرار و ثبات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نصیب ہوا۔ آپ سے پہلے حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت صالح اور شاید حضرت ادریس (علیہ السلام) نے کلمہ توحید پیش کیا لیکن ان رسولوں کو ایسے جانشین نہ ملے جو ان کے بعد کلمہ توحید کو باقی رکھتے اور اس کے مطابق زندگی گزارتے اور جو اس کے لئے زندہ رہتے۔ لیکن جب یہ کلمہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے پیش فرمایا تو آپ کے بعد اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اور رسولوں کا بھی ایک غیر منقطع سلسلہ چل نکلا۔ چناچہ آپ کی اولاد میں سے آخری بیٹے اور آپ کے ساتھ زیادہ مشابہ حضرت محمد خاتم النبین ﷺ تشریف لائے ، اور انہوں نے کلمہ توحید کو اس کی کامل اور شامل صورت میں پیش کیا جس نے پوری زندگی کو اس کلمے کے ارد گرد گمادیا۔ اور انسان کی ہر سرگرمی میں اس کو اثر انداز کردیا۔
یہ تھی توحید کی کہانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جن کے بارے میں اہل قریش یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور اس کلمے کو ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جن کے بارے میں اہل قریش یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور اس کلمے کو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں وراثت میں باقی رکھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر یہ کلمہ نسلاً بعد نسل نقل ہوتا رہا۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف نسبت کرنے والے اس کلمے کے مقابلے میں کیا رد عمل اختیار کرتے ہیں۔
زمانے گزر گئے۔ اللہ نے نسلاً بعد نسل ان کو زندگی کے خوب سازو سامان دئیے ، بہت زیادہ دور چلے جانے کے بعد انہوں نے ملت ابراہیمی کو بھلا دیا۔ اور ان عربوں کے اندر کلمہ توحید انوکھا ہوگیا۔ اب جبکہ حضرت محمد ﷺ آئے ہیں تو انہوں نے اس کا بہت ہی برا استقبال کیا اور اسے بھی اہل زمین اور دنیا پرستوں کی قدروں کے پیمانوں سے ناپنا شروع کردیا اور خود ان کے پیمانے بھی بدل گئے۔
آیت 26 { وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِیْمُ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖٓ اِنَّنِیْ بَرَآئٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ } ”اور یاد کرو جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا اپنے والد اور اپنی قوم سے کہ یقینا میں بیزار ہوں ان سے جنہیں تم پوجتے ہو۔“
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت قریشی کفار نیکی اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفا حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی طرف منسوب تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بےتعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرات حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں ہمیشہ کے لئے باقی رکھ لیا ناممکن ہے کہ آپ کی اولاد میں اس پاک کلمے کے قائل نہ ہوں انہی کی اولاد اس توحید کلمہ کی اشاعت کرے گی اور سعید روحیں اور نیک نصیب لوگ اسی گھرانے سے توحید سیکھیں گے۔ غرض اسلام اور توحید کا معلم یہ گھرانہ قرار پا گیا۔ پھر فرماتا ہے بات یہ ہے کہ یہ کفار کفر کرتے رہے اور میں انہیں متاع دنیا دیتا رہا یہ اور بہکتے گئے اور اس قدر بد مست بن گئے کہ جب ان کے پاس دین حق اور رسول حق آئے تو انہوں نے جلانا شروع کردیا کہ کلام اللہ اور معجزات انبیاء جادو ہیں اور ہم ان کے منکر ہیں۔ سرکشی اور ضد میں آکر کفر کر بیٹھے عناد اور بغض سے حق کے مقابلے پر اتر آئے اور باتیں بنانے لگے کہ کیوں صاحب اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کا کلام ہے تو پھر مکہ اور طائف کے کسی رئیس پر کسی بڑے آدمی پر کسی دنیوی وجاہت والے پر کیوں نہ اترا ؟ اور بڑے آدمی سے ان کی مراد ولید بن مغیرہ، عروہ بن مسعود، عمیر بن عمرو، عتبہ بن ربیعہ، حبیب بن عمرو مابن عبطدیالیل، کنانہ بن عمرو وغیرہ سے تھی۔ غرض یہ تھی کہ ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے مرتبے کے آدمی پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الہٰی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں ؟ اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے دے پھر کہاں اس کا علم اور کہاں تمہارا علم ؟ اسے بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسالت کا حقدار صحیح معنی میں کون ہے ؟ یہ نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو تمام مخلوق سے زیادہ پاک دل ہو۔ سب سے زیادہ پاک نفس ہو سب سے بڑھ کر اشرف گھر کا ہو اور سب سے زیادہ پاک اصل کا ہو پھر فرماتا ہے کہ یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہوگئے ؟ اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق و تفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیں اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے ایک ایک کے ماتحت رہے پھر ارشاد ہوا کہ تم جو کچھ دنیا جمع کر رہے ہو اس کے مقابلہ میں رب کی رحمت بہت ہی بہتر اور افضل ہے زاں بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ مال کو میرا فضل اور میری رضامندی کی دلیل جان کر مالداروں کے مثل بن جائیں تو میں تو کفار کو یہ دنیائے دوں اتنی دیتا کہ ان کے گھر کی چھتیں بلکہ ان کے کوٹھوں کی سیڑھیاں بھی چاندی کی ہوتیں جن کے ذریعے یہ اپنے بالا خانوں پر پہنچتے۔ اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے بیٹھنے کے تخت بھی چاندی کے ہوتے اور سونے کے بھی میرے نزدیک دنیا کوئی قدر کی چیز نہیں یہ فانی ہے زائل ہونے والی ہے اور ساری مل بھی جائے جب بھی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے ان لوگوں کی اچھائیوں کے بدلے انہیں یہیں مل جاتے ہیں۔ کھانے پینے رہنے سہنے برتنے برتانے میں کچھ سہولتیں بہم پہنچ جاتی ہیں۔ آخرت میں تو محض خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی باقی نہ ہوگی جو اللہ سے کچھ حاصل کرسکیں جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے اور حدیث میں ہے اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں صرف ان کے لئے نہیں جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہوگا۔ چناچہ جب حضرت عمر رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کے بالا خانہ میں گئے اور آپ نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ قیصرو کسرٰی کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول ﷺ ہو کر کس حال میں ہیں ؟ حضور ﷺ یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے اے ابن خطاب کیا تو شک میں ہے ؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سونے چاندی کے برتنوں میں نہیں کھاؤ پیو یہ دنیا میں ان کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں اور دنیا میں یہ ان کے لئے یوں ہیں کی رب کی نظروں میں دنیا ذلیل و خوار ہے۔ ترمذی وغیرہ کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمایا اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا۔