آیت نمبر 54
جمہور عوام کو ڈکٹیٹروں کی طرف سے خفیف و حقیر سمجھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے وہ پہلے تو عوام سے ہر بات کو چھپا کر رکھتے ہیں۔ ان سے حقائق کو چھپاتے ہیں تا کہ وہ بھول جائیں۔ اور ان کے بارے میں وہ دوبارہ کھوج ہی نہ لگائیں۔ ان کے دل و دماغ کو اس قدر متاثر کرتے ہیں کہ ان کی شخصیت عوام کے ذہنوں پر چھا جاتی ہے۔ اس کے بعد پھر ان کے لئے عوام کو ہلکا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد وہ مطیع ہوجاتے اور جدھر چاہتے ہیں ، ادھر جاتے ہیں۔
لیکن کوئی ڈکٹیٹر عوام کو اس قدر ہلکا نہیں بنا سکتا جب تک وہ خود فاسق و فاجر نہ ہوں اور بےراہ روی نہ کرتے ہوں۔ انہوں نے اللہ کی رسی نہ پکڑی ہو۔ معاملات کو ایمان کے ترازو سے نہ تولتے ہوں ، رہے مومن تو نہ ان کو کوئی ہلکا سمجھ سکتا ہے ، نہ ان کو دھوکہ دے سکتا ہے ، اور نہ ان کو کھلونا بنایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید یہ بتاتا ہے کہ عوام الناس نے فسق وفجور کی وجہ سے فرعون کا ساتھ دیا۔
فاستخف قومہ فاطاعوہ انھم کانوا قوما فسقین (43 : 54) “ اس نے اپنی قوم کو ہلکا بنا دیا ، پس انہوں نے اس کی اطاعت کرلی اور یہ لوگ ایک فاسق قوم کے فرد تھے ”۔
اب ان کی آزمائش ، ان کو ڈرانے اور سمجھانے کا مرحلہ ختم ہوتا ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ فتنہ عام ہوگیا ہے ، جمہور عوام فرعون کے پیچھے لگ گئے ہیں اور فرعون بہت ہی سر کش ، متکبر ، مغرور ہے اور عوام کے بین معجزات کے مقابلے میں بالکل اندھے ہوگئے ہیں ، ان کو یہ روشنی نظر ہی نہیں آتی۔ اب اللہ کے عذاب کا فیصلہ ان پر آجاتا ہے۔
آیت 54 { فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ فَاَطَاعُوْہُ } ”تو اس طرح اس نے اپنی قوم کی مت مار دی اور انہوں نے اسی کا کہنا مانا۔“ یہاں پر لفظ اِسْتَخَفَّ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ لغوی اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے ان کو بالکل ہی خفیف اور ہلکا سمجھا۔ مراد یہ ہے کہ اس نے ان کی عقل ہی گنوا دی ‘ ان کو بیوقوف بنا لیا۔ اسی طرح آج کے سیاسی شعبدہ باز demagogs اپنے عوام کو نت نئے طریقوں سے بیوقوف بناتے ہیں۔ کوئی ان کے سامنے روٹی کپڑا اور مکان کی ڈگڈگی بجاتا ہے تو کوئی اس مقصد کے لیے کسی دوسرے نعرے کا سہارا لیتا ہے۔ بقول اقبالؔ ابلیس کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ میں جب چاہوں ہر قسم کے انسانوں کو بیوقوف بنا سکتا ہوں : ؎کیا امامانِ سیاست ‘ کیا کلیسا کے شیوخ سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ُ ہو !چنانچہ جب ابلیس یا ابلیس کا کوئی چیلہ عوام الناس کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر وہ اندھوں کی طرح اپنے ”محبوب لیڈر“ کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔ پھر نہ تو وہ سامنے کے حقائق کو دیکھتے ہیں اور نہ ہی کسی علمی و عقلی دلیل کو لائق توجہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح فرعون نے بھی اپنے اقتدار کے رعب و داب کی ڈگڈگی بجا کر اپنی قوم کو ایسا متاثر کیا کہ وہ آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے ہولیے۔ یہاں فَاَطَاعُوْہُ کے لفظ میں ان کے اسی رویے ّکی عکاسی کی گئی ہے۔{ اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ } ”یقینا وہ لوگ خود بھی نافرمان ہی تھے۔“