پارہ ۔ 24
آیت نمبر 32
یہ سوال استفہام کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ سوال تقریری ہے۔ اس لیے کہ ایسے شخص سے بڑا ظالم اور کوئی نہیں ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے ، کسی کو اللہ کا بیٹا اور کسی کو بیٹی کہتا ہے۔ سچائی کی تکذیب کرتا ہے جسے رسول اللہ لے آئے ہیں۔ وہ کلمہ توحید کی تصدیق نہیں کرتا۔ چونکہ یہ ایک کفریہ عمل ہے ، اور کافروں کا ٹھکانہ یقیناً جہنم ہے اس لیے اس کے فیصلہ کن اظہار کی خاطر سوالیہ انداز اور اسلوب اختیار کیا گیا ہے تاکہ بات زیادہ واضح ہوجائے اور اس کی زیادہ تاکید ہوجائے۔ یہ تو مجادلہ اور جھگڑے کا ایک فریق تھا۔ اور فریق مقابل کون ہے ؟ تو وہ شخص ہے جو اللہ کی طرف سے وہ سچائی لے کر آیا۔ اور اسنے اس کی تصدیق کی اور اس سچائی کو لوگوں تک پہنچایا ، نہایت عقیدت مندی اور تسلی کے ساتھ۔ اور اس شخص یعنی رسول اللہ کے ساتھ تمام رسول اور انبیائے کرام شامل ہیں۔ اور اسی طرح رسول اللہ کے ساتھ اس میں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں درآنحالیکہ وہ اسلام پر پوری طرح ایمان لاتے ہیں اور اچھی طرح مطمئن ہیں اور اس دعوت میں ان کا قلب اور ان کی زبان دونوں شریک ہیں ایسے تمام لوگ متقی ہیں۔
آیت 32 { فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَکَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآئَ ہ } ”اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور جھٹلائے سچی بات کو جبکہ اس کے پاس آگئی ہو !“ یہ دونوں خصوصیات ایک ہی شخص کے کردار میں بھی ہوسکتی ہیں کہ وہ اللہ پر جھوٹ بھی باندھ رہا ہو اور اللہ کی طرف سے جو حق اس کے پاس آیا ہے اس کی تکذیب یا نفی بھی کر رہا ہو۔ اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دو الگ الگ کرداروں کا ذکر ہو۔ یعنی ایک وہ شخص جو اپنی کسی بات کو اللہ کی طرف منسوب کر کے دعویٰ کرے کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ ظاہر ہے ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اسی درجے کا ظالم وہ شخص بھی ہوگا جس کے پاس اللہ کا کلام پہنچ جائے جو کہ سراسر حق ہے اور وہ اس حق کو جھٹلا دے۔ { اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ } ”تو کیا جہنم ہی میں ٹھکانہ نہیں ہے ایسے کافروں کا !“ اب اگلی آیت میں اس کے برعکس کردار کا ذکر ہے :
مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا۔ مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند وبالا ذات پاک اور برتر تھی، ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کردیا کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں۔ ان کی بدخصلت اور سزا کا ذکر کر کے پھر مومنوں کی نیک خو اور ان کی جزا کا ذکر فرماتا ہے کہ جو سچائی کو لایا اور اسے سچا مانا یعنی آنحضرت ﷺ اور حضرت جبرائیل ؑ اور ہر وہ شخص جو کلمہ توحید کا اقراری ہو۔ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی ماننے والی ان کی مسلمان امت۔ یہ قیامت کے دن یہی کہیں گے کہ جو تم نے ہمیں دیا اور جو فرمایا ہم اسی پر عمل کرتے رہے۔ خود نبی ﷺ بھی اس آیت میں داخل ہیں۔ آپ بھی سچائی کے لانے والے، اگلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے اور آپ پر جو کچھ نازل ہوا تھا اسے ماننے والے تھے اور ساتھ ہی یہی وصف تمام ایمان داروں کا تھا کہ وہ اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان رکھنے والے تھے۔ ربیع بن انس کی قرأت میں (وَالَّذِيْ جَاۗءَ بالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖٓ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُتَّـقُوْنَ 33) 39۔ الزمر :33) ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں سچائی کو لانے والے آنحضرت ﷺ ہیں اور اسے سچ ماننے والے مسلمان ہیں یہی متقی پرہیزگار اور پارسا ہیں۔ جو اللہ سے ڈرتے رہے اور شرک کفر سے بچتے رہے۔ ان کے لئے جنت میں جو وہ چاہیں سب کچھ ہے۔ جب طلب کریں گے پائیں گے۔ یہی بدلہ ہے ان پاک باز لوگوں کا، رب ان کی برائیاں تو معاف فرما دیتا ہے اور نیکیاں قبول کرلیتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ ۭ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ 16) 46۔ الأحقاف :16) یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی نیکیاں ہم قبول کرلیتے ہیں اور برائیوں سے درگزر فرما لیتے ہیں۔ یہ جنتوں میں رہیں گے۔ انہیں بالکل سچا اور صحیح صحیح وعدہ دیا جاتا ہے۔