سورہ زمر: آیت 36 - أليس الله بكاف عبده ۖ... - اردو

آیت 36 کی تفسیر, سورہ زمر

أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُۥ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦ ۚ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍ

اردو ترجمہ

(اے نبیؐ) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟ یہ لوگ اُس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں حالانکہ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اُسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alaysa Allahu bikafin AAabdahu wayukhawwifoonaka biallatheena min doonihi waman yudlili Allahu fama lahu min hadin

آیت 36 کی تفسیر

درس نمبر 220 ایک نظر میں

اس سورت کا یہ سفر تمام اسفار سے زیادہ طویل اور وسیع ہے۔ اس میں عقیدہ توحید کو مختلف زاویوں سے لیا گیا ہے اور اس کے بارے میں نہایت ہی حساس دلائل دیئے گئے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی متنوع دلائل ہیں۔ اس سبق کا آغاز ایک سچے مومن کی قلبی کیفیات سے کیا گیا ہے ، جو صرف اللہ پر اعتماد رکھتا ہے۔ اللہ ہی کو بڑی قوت سمجھتا ہے اور اللہ کے سوا تمام حقیر اور کمزور قوتوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ اس لیے وہ ان تمام قوتوں سے قطع تعلق کرکے اپنے امور اور ان کے امور کا فیصلہ قیامت کے دن پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے راستے پر ثابت قدمی ، اعتماد اور یقین کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔

اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے فریضے کا تعین کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کے ذمہ دار اور ٹھیکہ دار نہیں ہیں کہ ضرور ان کو راہ ہدایت پر لانا ہے۔ وہ تو اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ان کی چوٹی اللہ کے ہاتھ میں ، ہر حال اور ہر صورت میں۔ لوگوں کے لیے اللہ کے سوا اور کوئی سفارش بھی نہیں ہے۔ سفارش کے اختیارات تو اللہ کے پاس ہیں۔ زمین و آسمانوں کا مالک ہی وہ ہے۔ اور سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

پھر مشرکین کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کی نفسیاتی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اگر کلمہ توحید کا ذکر ہو تو ان کی طبعیت منقبض ہوجاتی ہے اور اگر شرکیہ کلمہ سنیں تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کلمہ توحید کا اعلان کردیں۔ اور مشرکین کو اللہ پر چھوڑ دیں ۔ اور ان کی ایک تصویر آپ کے سامنے کردی جاتی ہے کہ قیامت کے دن تو یہ چاہیں گے کہ پوری روئے زمین کی دولت اور اس جیسی مزید دولت بھی فدیے میں دے کر جان چھڑا لیں۔ اس لیے کہ وہاں وہ اللہ کی وہ بادشاہت دیکھ لیں گے جس سے وہ حواس باختہ ہوجائیں گے۔

اور ان کی حالت یہ ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو وہ اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں اور اگر وہ خوشحالی پا لیں تو پھر اکڑ کر لمبے چوڑے دعوے کرنے لگتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ یہ دولت ہمیں اپنے علم وٹیکنالوجی کی وجہ سے دے دی گئی ہے اور یہ وہی بات ہے جو ان سے پہلے لوگوں نے بھی کہی تھی اور ان کو اللہ نے پکڑا اور وہ اللہ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ بن سکے اور نہ اللہ کو عاجز کرسکے ۔ رہی رزق کی فراخی اور اسکی تنگی تو یہ اللہ کے سنن اور قوانین پر موقوف رکھی گئی ہے اور اللہ کے یہ قوانین قدرت اس کی حکمت کے مطابق چلتے ہیں۔ وہی ہے جو رزق میں کشادگی دیتا ہے۔ اور وہی ہے جو کسی کا رزق تنگ کردیتا ہے۔

ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یومنون (39: 54) ” بیشک اس میں آیات اور نشانیاں ہیں ، ہر اس قوم کے لیے جو مومن ہو “۔

درس نمبر 220 تشریح آیات

آیت نمبر 36 تا 40 یہ چار آیات بتاتی ہیں کہ اہل ایمان کا سیدھا سادا استدلال کیا ہوتا ہے ، یہ استدلال کس قدر قدرتی اور زور ہوتا ہے۔ کس

قدر واضح اور گہرا ہوتا ہے۔ جس طرح یہ استدلال اور سوچ حضرت نبی ﷺ کے ذہین میں ہے اور جس طرح اسے ہر مومن کے قلب میں ہونا چاہئے۔ جس کا ایمان حضور اکرم ﷺ کی رسالت پر پختہ ہو۔ اور وہ اسی دعوت پر قائم ہو اور اسی کی تبلیغ کررہا ہو اور دستور ومنشور سمجھتا ہو اور وہ اس کے لیے کافی وشافی ہو۔

اس آیت کے نزول میں ایسی روایات آئی ہیں کہ مشرکین مکہ رسول اللہ کو اپنے بتوں اور ان کے غضب سے ڈراتے تھے۔ جبکہ حضور اکرم ﷺ ان کی یہ صفات ان کے سامنے رکھتے تھے اور ان کی بےبسی وبے کسی بیان فرماتے تھے۔ مشرکین مکہ حضور اکرم ﷺ کو ڈراتے تھے کہ اگر آپ ﷺ نے ان کے بارے میں خاموشی اختیار نہ کی تو یہ بت آپ ﷺ کو اذیت دیں گے۔

لیکن اس آیت کا مفہوم اس مخصوص شان نزول سے زیادہ وسیع ہے۔ مراد ہر وہ دعوت حق ہے جو اس کرۂ ارض پر قیام نظام اسلامی کیلیے اٹھی ہے اور ہر وہ قوت ہے جو اس نظام اور اس دعوت کے خلاف ہے۔ اسلیے کہ یہاں دعوت حق اٹھانے والے اہل ایمان کے مکمل پھر وسے اطمینان اور یقین کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مخالف قوتوں کو بھی صحیح طرح تولا گیا ہے کہ انکا وزن کیا ہے۔

الیس اللہ بکاف عبدہ (39: 36) ” کیا اللہ اپنے بندوں کے لیے کافی نہیں ہے “۔ ہاں اللہ کافی ہے ، لہٰذا وہ لوگ کون ہیں جن سے حضور ﷺ کو ڈرایا جارہا ہے۔ اللہ جب اپنے بندے کے ساتھ ہے ، تو ان دوسری مخلوقات کی حیثیت کیا ہے۔ خصوصاً جبکہ حضور ﷺ کا منصب لے لیا ہو اور بندگی کا حق بھی ادا کررہے ہوں۔ اللہ نہایت قوی اور اپنے تمام بندوں پر کنڑول کرنے والا ہے۔

ویخوفونک بالذین من دونه (39: 36) ” یہ لوگ اس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں “۔ آپ ﷺ کس طرح ڈرسکتے ہیں ۔ اللہ کے سوا دوسری تمام قوتیں کس طرح ڈراسکتی ہیں ۔ اس شخص کو جس کی حفاظت اللہ کررہا ہو۔ اور تمام روئے زمین پر جو قوتیں ہیں وہ اللہ سے فروترقوتیں ہیں۔

یہ ایک بالکل سادہ واضح مسئلہ ہے۔ یہ کسی بڑی بحث اور مباحثے اور کسی زیادہ سوچ کا محتاج نہیں ہے۔ نبی ﷺ اور ہر داعی کا حامی تو اللہ ہے اور دوسری تمام قوتیں فروتر ہیں۔ اور جب کوئی شخص یہ موقف اختیار کرے تو پھر کوئی شک اور اشباہ نہیں رہتا کہ اللہ کا ارادہ ہی نافذ ہو کر رہتا ہے اور اللہ کی مشیت ہی غالب رہتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے فرماتا ہے۔ ان کی ذات کے بارے میں ، ان کے دلوں کے بارے میں اور ان کی سوچ اور شعور کے بارے میں بھی۔

ومن یضلل ۔۔۔۔ من مضل (39: 36 تا 37) ” اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے۔ اور جسے وہ ہدایت دے دے اسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں ہے “۔ اللہ جانتا ہے کہ ضلالت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے گمراہ کردیتا ہے اور وہ بھی جانتا ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے لہٰذا وہ اسے ہدایت دے دیتا ہے۔ اور وہ جس کے بارے میں جو فیصلہ بھی کردے اس کے فیصلے کو بدلنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔

الیس اللہ بعزیز ذی انتقام (39: 37) ” کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے “۔ ہاں وہ انتقام لینے والا ہے۔ اور وہ عزیز وقوی ہے۔ اور وہ ان تمام لوگوں کو ان کے استحقاق کے مطابق جزاء دیتا ہے۔ اور جس سے وہ انتقام لیتا ہے۔ وہ مستحق ہوتا ہے

کہ اس سے انتقام لیا جائے لہٰذا اس کی بندگی کرنے والے کو کسی چیز کا ڈر نہیں رہتا وہ کافی اور کفیل ہے۔

اس کے بعد خود ان کی منطق اور ان کے زاویہ نگاہ کے مطابق استدلال کرکے یہی نتائج نکالے جاتے ہیں اور اس منطق اور اس طرز فکر کا وہ اقرار کرتے تھے اور اللہ کے بارے میں وہ اس قسم کا تصور رکھتے تھے۔

ولئن سالتھم من۔۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” ان لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ، تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔ ان سے پوچھو ، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں ، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچالیں گی ؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی ؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ جب ان لوگوں سے پوچھا جاتا تھا کہ خالق ارض وسما کون ہے ؟ تو وہ اقرار کرتے تھے کہ خالق ارض وسماء اللہ وحدہ ہے۔ کوئی صحیح الفطرت انسان اس کے سوا جواب دے ہی نہیں سکتا ۔ اور کوئی عقلمند زمین و آسمان کی تخلیق کا سبب ایک ذات بلند اور عالی مقام کے سوا کوئی اور نہیں بتاسکتا۔ لہٰذا قرآن ان کو اور تمام عقلاء کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ تمہاری فطرت کے اندر یہ بات بیٹھی ہوئی ہے اور بہت واضح ہے۔ اگر صورت یہی ہے تو پھر کوئی ہے جو اس مصیبت کو روک سکنے والا ہو جو وہ ذات عالی اپنے بندوں پر لانا چاہے ، یا زمین و آسمان میں کون ہے اگر وہ کسی پر رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت کو روک سکے۔

تو ان سوالات کا قطعی جواب یہ ہے کہ ” نہیں “۔ اگر یہ بات طے ہوجاتی ہے تو داعی الی اللہ کس سے ڈرسکتا ہے۔ وہ کس سے خائف ہوسکتا ہے اور کس سے امیدیں وابستہ کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اس کی مصیبتوں کو دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اللہ کی رحمت کو اس سے دور کرسکتا ہے۔ کون ہے جو اسے بےچین کرسکتا ، اسے ڈرادھمکا سکتا ہے اور اپنے راستے سے ہٹا سکتا ہے ؟ جب قلب مومن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو اس کی نسبت سے معاملہ ختم ہوجاتا ہے ، تنازعہ ختم ہے ، غیر اللہ سے تمام امیدیں ختم ۔ صرف اللہ سے امید باقی رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لیے کافی ہے اور ہمیں اسی پر توکل کرنا چاہئے۔

قل ۔۔۔ المتوکلون (39: 38) ” پس کہہ دو ، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ مجھے رب تعالیٰ پر پورا اعتماد ، بھروسہ اور یقین ہے۔ اس قدر بھروسہ جس میں کوئی شک نہیں ۔ ایسا یقین جس میں کوئی تزلزل نہیں ۔ اور اس قدر اطمینان جس میں بےچینی کا شائبہ نہیں۔ اور اس زادراہ کے ساتھ آپ چل پڑیں اور منزل تک پہنچنے سے پہلے دم نہ لیں۔

قل یٰقوم۔۔۔۔ عذاب مقیم (39: 39 تا 40) ان سے صاف کہو کہ ” میری قوم کے لوگو ، تم اپنی جگہ اپنا کام کئے جاؤ، میں اپنا کام کرتا رہوں گا ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسواکن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں “ سے قوم تم اپنے منہاج کے مطابق کام کرو ، اور میں اپنی راہ پر چل پڑا ہوں ، نہ ڈرتا ہوں اور نہ شک ہے مجھے۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ اسی دنیا میں تم پر کس قدر شرمسار کنندہ عذاب آتا ہے اور پھر آخرت میں تو یہ عذاب دائمی ہوگا۔

اس معاملے کا فیصلہ ہوچکا ، اور اس فطری استدلال کے ذریعہ ہوا جس پر ہر سلیم الفطرت انسان گواہی دیتا ہے اور جس پر یہ کائنات گواہ ہے کہ اللہ خالق سماوات ہے اور خالق ارض ہے۔ اوتمام رسولوں نے آج تک جو دعوت پیش کی ہے یہ دعوت اللہ کی ہے ۔ لہٰذا اللہ کے رسولوں اور داعیان حق کے لیے زمین اور آسمان میں کون ہے جو کوئی اختیار رکھتا ہے۔ کوئی ہے جو ان سے مصائب دور کرسکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو لوگ غیر اللہ اور ان دنیاوی قوتوں سے ڈرتے کیوں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ واضح ہے اور راستہ صاف ہے اور اب بحث کی مزید کچھ ضرورت نہیں ہے۔

یہ تو ہے تعلق رسولوں اور داعیان حق کا اور ان قوتوں کا جو ان کی راہ روکنے کی کوشش کرتی ہیں اب سوال یہ ہے کہ دعوت حق کے حوالے سے رسولوں اور داعیانکا فریضہ کیا ہے اور جھٹلانے والوں کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کریں گے۔

آیت 36 { اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ } ”کیا اللہ کافی نہیں ہے اپنے بندے کے لیے ؟“ یہاں بالخصوص نبی اکرم ﷺ اور تبعاً اہل ِایمان کی تسلی مقصود ہے کہ آپ لوگ مطمئن رہیں ‘ اللہ آپ کی مدد اور حفاظت کے لیے کافی ہے۔ لیکن بات میں زور پیدا کرنے کے لیے سوالیہ انداز اختیار فرمایا گیا ہے۔ { وَیُخَوِّفُوْنَکَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ } ”اور اے نبی ﷺ ! یہ لوگ آپ کو ڈراتے ہیں ان سے جو اس کے علاوہ ان کے معبود ہیں۔“ یہ لوگ اپنے جھوٹے معبودوں کی طرف سے آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ آپ پر ان کی کوئی پھٹکار پڑجائے گی۔ اسی طرح سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی آپ علیہ السلام کی قوم نے دھمکی دی تھی کہ آپ نے ہمارے سارے معبودوں کی نفی کر کے انہیں ناراض کردیا ہے ‘ اب آپ پر ان کی پھٹکار پڑے گی اور ان کی طرف سے آپ کی پکڑ ہوگی۔ ان کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا الانعام : 81 کہ ”میں ان سے کیونکر ڈروں جن کو تم نے شریک ٹھہرایا ہے جبکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن پر اس نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی !“ یعنی بدبختو ! مجھے تم ان پتھر کے ُ بتوں سے کیا ڈراتے ہو ‘ جب کہ ڈرنا تو تم لوگوں کو چاہیے کہ تم اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہو ! { وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ } ”اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔“ جس کی گمراہی پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دے اس کی راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔

بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے۔ایک قرأت میں (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 36؀ۚ) 39۔ الزمر :36) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی (ترمذی وغیرہ) اے نبی ﷺ یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی بہکا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ والا ہے اس پر بھروسہ کرنے والے کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی طرف جھک جانے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ اس سے بڑھ کر عزت والا کوئی نہیں۔ اسی طرح اس سے بڑھ کر انتقام پر قادر بھی کوئی نہیں۔ جو اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ اس کے رسولوں سے لڑتے بھڑتے ہیں یقینا وہ انہیں سخت سزائیں دے گا، مشرکین کی مزید جہالت بیان ہو رہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے پھر بھی ایسے معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں جنہیں کسی امر کا کوئی اختیار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے اللہ کو یاد کر وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد رکھ تو اسے ہر وقت اپنے پاس پائے گا۔ آسانی کے وقت رب کی نعمتوں کا شکر گذار رہ سختی کے وقت وہ تیرے کام آئے گا۔ جب کچھ مانگ تو اللہ ہی سے مانگ اور جب مدد طلب کر تو اسی سے مدد طلب کر یقین رکھ کر اگر تمام دنیا مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ سب تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور سب جمع ہو کر تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے مقدر میں نہ لکھا ہو تو ہرگز نہیں پہنچا سکتا۔ صحیفے خشک ہوچکے قلمیں اٹھالی گئیں۔ یقین اور شکر کے ساتھ نیکیوں میں مشغول رہا کر تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں۔ مدد صبر کے ساتھ ہے۔ غم و رنج کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے۔ ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لئے ہوئے ہے۔ (ابن ابی حاتم) تو کہہ دے کہ مجھے اللہ بس ہے۔ بھروسہ کرن والے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جیسے کہ حضرت ہود ؑ نے اپنی قوم کو جواب دیا تھا جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اے ہود ہمارے خیال سے تو تمہیں ہمارے کسی معبود نے کسی خرابی میں مبتلا کردیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے تمام معبودان باطل سے بیزار ہوں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات تم سے ہوسکتے ہیں سب کرلو اور مجھے مطلق مہلت نہ دو۔ سنو میرا توکل میرے رب پر ہے جو دراصل تم سب کا بھی رب ہے۔ روئے زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے ہیں سب کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ میرا رب صراط مستقیم پر ہے۔ رسول اللہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص سب سے زیادہ قوی ہونا چاہے وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور جو سب سے زیادہ غنی بننا چاہے وہ اس چیز پر جو اللہ کے ہاتھ میں ہے زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو خود اس کے ہاتھ میں ہے اور جو سب سے زیادہ بزرگ ہونا چاہے وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے۔ (ابن ابی حاتم) پھر مشرکین کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ اچھا تم اپنے طریقے پر عمل کرتے چلے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر عامل ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں ذلیل و خوار کون ہوتا ہے ؟ اور آخرت کے دائمی عذاب میں گرفتار کون ہوتا ہے ؟ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔

آیت 36 - سورہ زمر: (أليس الله بكاف عبده ۖ ويخوفونك بالذين من دونه ۚ ومن يضلل الله فما له من هاد...) - اردو