آیت نمبر 58
اور یہ تو ایک ایسی آرزو ہے ، جسے کوئی نہیں پاسکتا ۔ جب یہ زندگی ختم ہوگی تو دوبارہ اس جہاں میں کسی کے بھیجے جانے کی کوئی امید نہیں ہے۔ کیا تم دارالعمل میں موجود نہیں ہو۔ یہ ایک فرصت ہے اور جب یہ ختم ہوجائے تو پھر وقت لوٹ کر نہیں آتا۔ اور اس وقت کے بارے میں تم سے نہایت ہی سرزنش کے انداز میں بازپرس ہوگی !
آیت 58 { اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَی الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ کَرَّۃً فَاَکُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ } ”یا جب وہ عذاب کو دیکھے تو یوں کہے کہ اگر مجھے ایک بار لوٹنا نصیب ہوجائے تو میں محسنین میں سے ہو جائوں !“ یعنی اگر مجھے ایک دفعہ دنیا میں دوبارہ جانے کا موقع مل جائے تو میں صرف مسلم ‘ صرف مومن یا صرف متقی ہی نہیں بنوں گا بلکہ محسنین کی صف میں جگہ بنا لوں گا۔