سورہ زمر: آیت 64 - قل أفغير الله تأمروني أعبد... - اردو

آیت 64 کی تفسیر, سورہ زمر

قُلْ أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ تَأْمُرُوٓنِّىٓ أَعْبُدُ أَيُّهَا ٱلْجَٰهِلُونَ

اردو ترجمہ

(اے نبیؐ) اِن سے کہو "پھر کیا اے جاہلو، تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کے لیے مجھ سے کہتے ہو؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul afaghayra Allahi tamuroonnee aAAbudu ayyuha aljahiloona

آیت 64 کی تفسیر

آیت نمبر 64

یہ ایک فطری سرزنش ہے اور ان لوگوں کی پوچ تجویز کا مناسب جواب ان کی اس تجویز ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قدر گہری جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے اور خالص اندھے تھے۔ چناچہ اس کے بعد مشرک لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور اس ڈراوے کے مخاطب اول حضور اکرم ﷺ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ حضرات انبیاء کے بارے میں تو شرک کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ دراصل یہ ڈراوا ان کی امتوں کو ہے کہ وہ اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں ۔ اور بندگی صرف اللہ کی کریں اور تمام انسان جن میں انبیاء (علیہم السلام) بھی ہیں اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھیں۔

آیت 64 { قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَاْمُرُوْٓنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیُّہَا الْجٰہِلُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ اے جاہلو ! کیا تم مجھے بھی یہ مشورہ دے رہے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کروں ؟“ یہ انداز اس آیت کے علاوہ پورے قرآن میں اور کہیں نہیں پایا جاتا اور یہ خاص اسلوب دراصل مشرکین ِ مکہ کے اس دبائو کا جواب ہے جو انہوں نے حضور ﷺ پر ”کچھ لو اور کچھ دو“ کی پالیسی اختیار کرنے کے لیے ڈال رکھا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ آپ اپنے موقف میں کچھ نرمی پیدا کریں اور ہمارے معبودوں میں سے کچھ کو تسلیم کرلیں تو اس کے جواب میں ہم بھی آپ کی کچھ باتیں مان لیں گے ‘ بلکہ آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرلیں گے۔ اس طرح ایک درمیانی راہ نکل آئے گی اور جھگڑا ختم ہوجائے گا۔ چناچہ ان کے اس مطالبے کا جواب بہت سخت انداز میں دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ عربی میں ’ جاہل ‘ اس کو کہتے ہیں جو علم اور عقل کے بجائے جذبات اور خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔

آیت 64 - سورہ زمر: (قل أفغير الله تأمروني أعبد أيها الجاهلون...) - اردو