آیت نمبر 65
شرک سے ڈراوے کا خاتمہ توحید پر کاربند ہونے کے حکم پر کیا جاتا ہے۔ یعنی صرف اللہ کی بندگی کرو اور ایمان اور ہدایت پر اللہ کا شکر ادا کرو اور اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو جو اللہ کے بندوں کو ڈھانپ لیتی ہیں اور جن کو وہ گن بھی نہیں سکتے جبکہ وہ ان میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں :
آیت 65 { وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ } ”اور اے نبی ﷺ ! آپ کی طرف تو وحی کی جا چکی ہے اور جو رسول آپ سے پہلے تھے ان کی طرف بھی وحی کردی گئی تھی“ آگے اس وحی کا ُ لب ّلباب بیان کیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ کیجیے : { لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ } ”اگر آپ بھی بالفرض شرک کریں گے تو آپ کے سارے اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے اور آپ بھی نہایت خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔“ یہ سخت اسلوب دراصل حضور ﷺ کے لیے نہیں بلکہ مشرکین کے لیے ہے۔ آپ ﷺ کو مخاطب کر کے دراصل انہیں سنانا مقصود ہے کہ قانونِ خداوندی اس سلسلے میں بہت واضح اور اٹل ہے۔ شرک جو کوئی بھی کرے گا اسے اس کی سزا ضرور ملے گی ‘ کسے باشد ! اللہ کا قانون کسی کے لیے تبدیل نہیں کیا جاتا : { وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا۔ الاحزاب ”اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی !“