سورہ فاطر: آیت 19 - وما يستوي الأعمى والبصير... - اردو

آیت 19 کی تفسیر, سورہ فاطر

وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ

اردو ترجمہ

اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama yastawee alaAAma waalbaseeru

آیت 19 کی تفسیر

وما یستوی ۔۔۔۔۔۔ ولا الاموات (19 – 21) یہاں ایک طرف کفر ، اندھے پن ، تاریکی ، گرمی اور موت سب کے سب ایک مزاج رکھتے ہیں اور ان کے مفہومات کے درمیان ربط ہے۔ دوسری جانب ایمان ، نور ، بصارت ، چھاؤں اور زندگی کے مفہومات کا ایک ہی مزاج ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔

ایمان نور ہے۔ دل میں نور ، اعضاء میں نور ، حواس میں نور ، ایسا نور جس سے اشیاء کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔ اقدار اور واقعات روشن ہوتے ہیں اور ان کی حدود اور روابط واضح ہوتے ہیں۔ مومن اس نور سے تمام اشیاء کو دیکھتا ہے اور وہ روشنی کے اندر واقعات کو دیکھتا ہے۔ اس لیے اس کے معاملات اچھے ہوتے ہیں۔ اس کے اقدامات درست سمت میں ہوتے ہیں اور اس کے قدم ڈگمگاتے نہیں۔

ایمان ایک آنکھ ہے جو دیکھتی ہے۔ یہ آنکھ چیزوں کو ان کی حقیقت کے مطابق دیکھتی ہے۔ نہ اس میں تزلزل ہوتا ہے اور نہ اس میں انتشار ہوتا ہے اور صاحب ایمان اپنی راہ پر روشنی میں ، اعتماد کے ساتھ اور اطمینان کے ساتھ چلتا ہے۔ پھر ایمان ایک سایہ ہے جس کے نیچے انسان راحت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا نفس اس میں آرام کرتا ہے اور روح خوش ہوتی ہے۔ شک ، بےچینی ، حیرت اور اندھیروں کے سفر کی گرمی سے انسان پناہ میں ہوتا ہے۔

پھر ایمان ایک زندگی ہے۔ دلوں اور شعور کی زندگی۔ ارادہ کی زندگی ، رخ اور سمت کی زندگی۔ ایمان ایک حرکت اور جدوجہد کا نام ہے۔ یہ تعمیر جدوجہد ہے ، مفید اور بامقصد زندگی ہے ، جس کے اندر یہ مروگی اور مردنی نہیں ہے اور زندگی بجھی بجھی بھی نہیں ہوتی ہے۔ نہ اس میں کوئی چیز عبث ہے اور نہ بیہودگی ہے۔

کفر تاریکی ہے تاریکیاں ہیں۔ جب لوگ نور ایمان کے دائرہ سے نکل آئیں تو پھر وہ مختلف قسم کے اندھیروں میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ ایسے اندھیرے جن کے اندر کسی چیز کی صحیح حقیقت نظر نہیں آتی۔ کفر ایک قسم کی سخت دھوپ ہے۔ اس کے اندر دل حیرانی ، پریشانی ، قلق ، بےچینی ، تزلزل اور عدم اطمینان کی گرم آندھیوں کی لپیٹ میں آجاتا ہے اور آخرت میں جہنم کی گرمی کا شکار ہوتا ہے۔ کفر ایک طرح کی موت ہے۔ ضمیر کی موت ، منبع حیات سے کٹ جانا ، صحیح راستے سے کٹ جانا ، حقیقی سرچشمے سے کٹ جانا اور حقیقی آب حیات سے محروم ہونا ، جس سے انسانی سیرت متاثر ہوتی ہے۔ غرض ان صفات میں سے ہر ایک صفت کی ایک حقیقت ہے اور دونوں کے درمیان مکمل تضاد ہے اور اللہ کے ہاں دونوں برابر نہیں ہیں۔

اب روئے سخن نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور آپ کو بتایا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کے حوالے سے آپ کے فرائض اور عمل کی حدود کیا ہیں۔ اپنے فرائض و حدود سے آگے جو معاملات ہیں وہ اللہ کے سپرد کردیں کیونکہ اللہ ہی ان کا واکدار ہے۔

آیت 19 { وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ } ”اور برابر نہیں ہوسکتے اندھا اور دیکھنے والا۔“

ایک موازنہ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایمان دار اور بےایمان میں بھی بےانتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا (اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ01202) 6۔ الانعام :122) ، یعنی جو مردہ تھا پھر اسے ہم نے زندہ کردیا اور اسے نور دیا جسے لئے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے ایسا شخص اور وہ شخص جو اندھیروں میں گھرا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہیں سکتا کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور آیت میں ہے (مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 24؀) 11۔ ھود :24) ، یعنی ان دونوں جماعتوں کی مثال اندھے بہرے اور دیکھنے اور سننے والوں کی سی ہے۔ مومن تو آنکھوں اور کانوں والا اجالے اور نور والا ہے پھر راہ مستقیم پر ہے۔ جو صحیح طور پر سایوں اور نہروں والی جنت میں پہنچے گا اور اس کے برعکس کافر اندھا بہرا اور اندھیروں میں پھنسا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہ سکے گا اور ٹھیک جہنم میں پہنچے گا۔ جو تند و تیز حرارت اور گرمی والی آگ کا مخزن ہے۔ اللہ جسے چاہے سنا دے یعنی اس طرح سننے کی توفیق دے کہ دل سن کر قبول بھی کرتا جائے۔ تو قبر والوں کو نہیں سنا سکتا۔ یعنی جس طرح کوئی مرنے کے بعد قبر میں دفنا دیا جائے تو اسے پکارنا بےسود ہے۔ اسی طرح کفار ہیں کہ ہدایت و دعوت ان کے لئے بیکار ہے۔ اسی طرح ان مشرکوں پر بدبختی چھاگئی ہے اور ان کی ہدایت کی کوئی صورت باقی نہیں رہی تو انہیں کسی طرح ہدایت پر نہیں لاسکتا تو صرف آگاہ کردینے والا ہے۔ تیرے ذمے صرف تبلیغ ہے۔ ہدایت و ضلالت من جانب اللہ ہے۔ حضرت آدم ؑ سے لے کر آج تک ہر امت میں رسول ﷺ آتا رہا۔ تاکہ ان کا عذر باقی نہ رہ جائے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ۧ) 13۔ الرعد :7) اور جیسے فرمان ہے (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ 36؀) 16۔ النحل :36) ، وغیرہ، ان کا تجھے جھوٹا کہنا کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا ہے۔ جو بڑے بڑے معجزات، کھلی کھلی دلیلیں، صاف صاف آیتیں لے کر آئے تھے اور نورانی صحیفے ان کے ہاتھوں میں تھے، آخر ان کے جھٹلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے انہیں عذاب و سزا میں گرفتار کرلیا۔ دیکھ لے کہ میرے انکار کا نتیجہ کیا ہوا ؟ کس طرح تباہ و برباد ہوئے ؟ واللہ اعلم

آیت 19 - سورہ فاطر: (وما يستوي الأعمى والبصير...) - اردو