وان یکذبوک فقد ۔۔۔ بالکتب المنیر (35: 25) ” اب اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل اور صحیفے اور روشن ہدایات دینے والی کتاب کے کر آئے تھے “۔ بینات سے مراد مختلف قسم کے دلائل ہیں۔ معجزات بھی دلائل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے معجزات طلب کرتے تھے اور تحدی دیتے تھے۔ الزبر سے مراد متفرق صحیفے ، رسائل اور پمفلٹ ہیں ، جن میں نصیحتیں ، ہدایات اور تکالیف و فرائض ہوتے تھے۔ کتاب منیر سے مراد مطابق قول راجح حضرت موسیٰ کی کتاب تورات ہے۔ لیکن ان کی امت نے کتب الہیہ کی تکذیب کی۔
ہمیشہ اکثر اقوام نے رسولوں اور ان کی ہدایات اور کتابوں کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ لہٰذا معاملہ جدید نہیں ہے۔ یہ حضور ﷺ کے ساتھ ہونے والا سلوک کوئی منفرد سلوک نہیں ہے۔ یہ تو ایک معمول بہ طرز عمل ہے۔ لیکن ایسا رویہ اختیار کرنے والوں کا انجام بھی ایک ہی رہا ہے۔
آیت 25 { وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”اور اگر یہ لوگ آپ ﷺ کو جھٹلائیں تو جھٹلا چکے ہیں وہ لوگ بھی جو ان سے پہلے تھے۔“ { جَآئَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ } ”ان کے پاس آئے تھے ان کے رسول علیہ السلام واضح نشانیاں ‘ صحیفے اور روشن کتابیں لے کر۔“ آپ ﷺ سے پہلے بہت سے انبیاء و رسل علیہ السلام کو ان کی قومیں جھٹلا چکی ہیں ‘ حالانکہ وہ ان کے پاس بہت واضح معجزات ‘ صحیفے اور کتابیں لے کر آئے تھے۔ سورة الاعلیٰ کی آخری آیت میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ ﷺ کے صحائف کا ذکر ہے جبکہ تین الہامی کتابوں تورات ‘ زبور اور انجیل کا ذکر قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔