فان یصبروا فالنار مثوی لھم (41 : 24) ” اس حالت میں اگر وہ صبر کریں تو آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے “۔ کیا سنجیدہ مزاح ہے۔ صبر اب آگ جہنم پر ہے۔ یہ وہ صبر نہیں ہے جس کے نتیجے میں انسان کو خوشی ، اور حسن جزاء نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر جزاء نار جہنم ہے کیونکہ اب تو قرار دیا جا چکا ہے کہ یہی ان کا ٹھکانا ہے۔
وان یستعتبوا فماھم من المعتبین (41 : 24) ” اگر رجوع کا موقعہ چاہیں گے تو کوئی موقعہ انہیں نہ دیا جائے گا “ ۔ نہ وہاں رضا مندی ہے اور نہ وہاں توبہ کی گنجائش ہے۔ کیونکہ جو شخص معافی مانگتا ہے تو معافی تب ہوتی ہے جب ظلم و زیادتی کو زائل کر کے معافی طلب کی جائے۔ آج تو معافی اور ازالے کا دروازہ ہی بند ہوچکا ہے۔ اور اس لئے ان کے پاس کوئی موقعہ نہیں ہے۔
آیت 24 { فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ } ”تو اب اگر یہ لوگ صبر کریں یا نہ کریں پس ان کا ٹھکانہ آگ ہی ہے۔“ { وَاِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا ہُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ } ”اور اگر وہ معافی مانگیں تو اب انہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔“ قیامت کے دن وہ چاہیں گے کہ انہیں معافی مانگنے پر چھوڑ دیا جائے مگر اس وقت یہ ممکن نہیں ہوگا۔ معافی مانگنے اور استغفار کرنے کا موقع تو دنیا میں ہے۔ انفرادی طور پر ہر آدمی کی موت کے وقت تک اور اجتماعی طور پر قیامت کے آثار نمایاں ہونے تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے ‘ لیکن اس کے بعد عالم برزخ یا عالم آخرت میں توبہ کا کوئی سوال نہیں۔