سورہ فصیلات: آیت 25 - ۞ وقيضنا لهم قرناء فزينوا... - اردو

آیت 25 کی تفسیر, سورہ فصیلات

۞ وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُوا۟ لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ فِىٓ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ خَٰسِرِينَ

اردو ترجمہ

ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کر دیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بنا کر دکھاتے تھے، آخر کار اُن پر بھی وہی فیصلہ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہو چکا تھا، یقیناً وہ خسارے میں رہ جانے والے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqayyadna lahum quranaa fazayyanoo lahum ma bayna aydeehim wama khalfahum wahaqqa AAalayhimu alqawlu fee omamin qad khalat min qablihim mina aljinni waalinsi innahum kanoo khasireena

آیت 25 کی تفسیر

اب اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا اقتدار تو تمہارے دلوں پر بھی قائم ہے۔ جب تم زمین میں تھے اس وقت بھی تمہارے دل اللہ کے قبضہ قدرت میں تھے۔ جب تم اللہ کی نافرمانی کرتے تھے۔ جب اللہ کو تمہارے دلوں کا میلان فساد معلوم ہوا تو اللہ نے تمہارے دلوں پر ایسے ساتھی مسلط کر دئیے جو جنوں میں سے بھی تھے اور انسانوں میں سے بھی ۔ یہ برائی کو تمہارے دل و دماغ کے لئے مزین کرتے تھے۔ یہ ساتھی ان کو اس قافلے میں ملا دیتے تھے جس کا انجام گھاٹے کا لکھا گیا تھا۔ یوں ان پر کلمہ عذاب اور فیصلہ عذاب صادق ہوا :

ذرا دیکھیں تو سہی کہ وہ کس حد تک اللہ کے قبضے میں ہیں ، جس کی بندگی کرنے سے وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔ اور ان کے دل جو ان کے پہلوؤں میں ہیں ، وہ ان کو عذاب اور برے انجام کی طرف لے جارہے ہیں۔ جس کو اللہ گمراہ کرنا چاہے اس پر وہ ایسے ساتھ مسلط کردیتا ہے جو اس کے دل میں وسوسہ اندازی کا کام کرتے ہیں اور اس کے ماحول میں جو بری چیز ہوتی ہے اس کو اس کے لئے مزین کرتے ہیں اور اس کے جو اعمال ہوتے ہیں اس کی نظروں میں اچھے بناتے ہیں ، ان کو ان میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی اور انسان کے لئے سب سے بڑی بیماری یہ ہوتی ہے کہ اس کے برے افعال اور اس کی گمراہی کے بارے میں اس کا احساس ختم ہوجائے۔ اپنی ذات کے ہر پہلو کے بارے میں وہ یہ دیکھنے لگے کہ وہ اچھا ہے ۔ اس مقام پر جب انسان پہنچ جائے تو پھر وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہ لوگ اس گلے میں شامل ہوگئے جس نے ہلاکت کی طرف جانا تھا۔ یعنی ان گروہوں میں جن پر اللہ کا فیصلہ طے ہوچکا تھا ، جنوں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی کہ :

انھم کانوا خسرین (41 : 25) ” کہ یقیناً وہ خسارہ میں رہ جائیں گے “۔

ان لوگوں کے جو ساتھی تھے ان کو گمراہ کرنے کے لئے ، انہوں نے ان کو آمادہ کیا کہ قرآن کا مقابلہ اس طرح کرو کہ اسے نہ سنو ، نہ سننے دو کیونکہ انہوں نے معلوم کرلیا تھا کہ اس کے اندر غضب کی تاثیر ہے۔

آیت 25 { وَقَیَّضْنَا لَہُمْ قُرَنَآئَ فَزَیَّنُوْا لَہُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ } ”اور ہم نے ان کے لیے ایسے ساتھی مقرر کردیے جنہوں نے ان کو مزین ّکر کے دکھلائی ہر وہ چیز جو ان کے سامنے تھی اور جوان کے پیچھے تھی“ جیسے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ فرشتے مقرر کر رکھے ہیں ایسے ہی ہر انسان کے ساتھ شیاطین ِجن بھی لگا دیے گئے ہیں۔ انسانوں کے ساتھ فرشتوں کی موجودگی کا ذکر قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سورة الانعام کی آیت 61 میں { وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً } کے الفاظ میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے سے انسانوں کی حفاظت کا انتظام فرماتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے کراماً کاتبین اس کے اعمال کا ریکارڈ رکھنے کے لیے بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ ان فرشتوں کا ذکر سورة الانفطار میں اس طرح آیا ہے : { وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ۔ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ } اسی طرح انسانوں کے ساتھ شیاطین ِجن بھی ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ”تم میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کے ساتھ ایک ساتھی جنات شیاطین میں سے اور ایک ساتھی ملائکہ میں سے مقرر نہ کردیا گیا ہو“۔ اس پر صحابہ کرام رض نے دریافت فرمایا : اے اللہ کے رسول ! آپ کے ساتھ بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وَاِیَّایَ ، لٰـکِنْ اَعَانَنِیَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ 1 ”ہاں ! میرے ساتھ بھی ایک شیطان ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر نصرت عطا فرمائی ہے اور میں نے اسے مسلمان کرلیا ہے“۔ یعنی میں نے اسے اپنا تابع بنا لیا ہے اور اب وہ مجھے کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ بہر حال اس آیت میں غلط کار انسانوں کے ان شیطان ساتھیوں کا ذکر ہے جو دنیا میں ان کے غلط عقائد اور برے اعمال کو خوش نما بنا کر انہیں دکھاتے رہتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ گناہوں کی لذت اور دنیا کی رنگینیوں میں ہی گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ { وَحَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِج } ”اور ان پر سچ ثابت ہوئی اللہ کے عذاب کی بات ‘ اور وہ شامل ہوگئے ان امتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنوں اور انسانوں کی۔“ ان پر بھی بالآخر وہی بات پوری ہو کر رہی جو جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں پر پوری ہوئی تھی جو ان سے پہلے تھے۔ یعنی وہ اللہ کے عذاب کے مستحق قرار پائے۔ { اِنَّہُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ } ”یقینا وہ خسارہ پانے والے لوگ تھے۔“

آداب قرآن حکیم۔اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ مشرکین کو اس نے گمراہ کردیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کردیئے تھے۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں۔ جیسے اور آیتیں ہے (وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ 36؀) 43۔ الزخرف :36) ، ان پر کلمہ عذاب صادق آگیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہوگئے، کفار نے آپس میں مشورہ کرکے اس پر اتفاق کرلیا ہے کہ وہ کلام اللہ کو نہیں مانیں گے نہ ہی اس کے احکام کی پیروی کریں گے۔ بلکہ ایک دوسرے سے کہہ رکھا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور و غل کرو اور اسے نہ سنو۔ تالیاں بجاؤ سیٹیاں بجاؤ آوازیں نکالو۔ چناچہ قریشی یہی کرتے تھے۔ عیب جوئی کرتے تھے انکار کرتے تھے۔ دشمنی کرتے تھے اور اسے اپنے غلبہ کا باعث جانتے تھے۔ یہی حال ہر جاہل کافر کا ہے کہ اسے قرآن کا سننا اچھا نہیں لگتا۔ اسی لئے اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم فرمایا کہ (وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ02004) 7۔ الاعراف :204) جب قرآن پڑھا جائے تو تم سنو اور چب رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے، ان کافروں کو دھمکایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم سے مخالفت کرنے کی بناء پر انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ اور ان کی بدعملی کا مزہ انہیں ضرور چکھایا جائے گا، ان اللہ کے دشمنوں کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس میں ان کیلئے ہمیشہ کا گھر ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے، اس کے بعد آیت کا مطلب حضرت علی سے مروی ہے کہ جن سے مراد ابلیس اور انس سے مراد حضرت آدم کا وہ لڑکا ہے جس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ابلیس تو ہر مشرک کو پکارے گا۔ اور حضرت آدم کا یہ لڑکا ہر کبیرہ گناہ کرنے والے کو پکارے گا۔ پس ابلیس شرک کی طرف اور تمام گناہوں کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والا ہے اور اول رسول حضرت آدم کا یہ لڑکا جو اپنے بھائی کا قاتل ہے۔ چناچہ حدیث میں ہے روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا گناہ حضرت آدم کے اس پہلے فرزند پر بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل بےجا کا شروع کرنے والا یہ ہے۔ پس کفار قیامت کے دن جن و انس جو انہیں گمراہ کرنے والے تھے انہیں نیچے کے طبقے میں داخل کرانا چاہیں گے تاکہ انہیں سخت عذاب ہوں۔ وہ درک اسفل میں چلے جائیں اور ان سے زیادہ سزا بھگتیں۔ سورة اعراف میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے کہ یہ ماننے والے جن کی مانتے تھے ان کیلئے قیامت کے دن دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے جس پر کہا جائے گا کہ ہر ایک دوگنے عذاب میں ہی ہے۔ لیکن تم بےشعور ہو۔ یعنی ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا ہو رہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ) 47۔ محمد :1)۔ یعنی جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم ان کے فساد کی وجہ سے عذاب پر عذاب دیں گے۔

آیت 25 - سورہ فصیلات: (۞ وقيضنا لهم قرناء فزينوا لهم ما بين أيديهم وما خلفهم وحق عليهم القول في أمم قد خلت من قبلهم...) - اردو