اب سیاق کلام انہی لوگوں کے بارے میں آگے بڑھتا ہے جو قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں ، جبکہ وہ ایک طاقتور اور غالب ہونے والی کتاب ہے ، نہایت ہی محفوظ ہے۔ اس کے قریب بھی باطل نہیں پھٹک سکتا۔
آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ذکر ربی کا انکار کرتے ہیں جبکہ وہ ان کے پاس آگیا ہے۔ لیکن یہ لوگ کون ہیں اور ان کا انجام کیا ہوگا ، اس کا ذکر نہیں ہے۔ مبتداء ہے اور خیر نہیں ہے۔ گویا ان کا فعل اس قدر گھناؤنا ہے کہ اس پر منطبق کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ بہت ہی بری حرکت یہ کر رہے ہیں۔۔۔ ان لوگوں کے بارے میں کوئی خبر دینے کی بجائے یہ تفصیلات دے دی جاتی ہیں کہ وہ ذکر و نصیحت کیسی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں تا کہ ان کے اس فعل کی کراہت اور زیادہ سمجھی جائے۔
انہ لکتب عزیز (41 : 41) لا یاتیہ الباطل ۔۔۔۔۔۔ حکیم حمید (41 : 42) “ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ باطل نہ سامنے سے اس پر آسکتا ہے نہ پیچھے سے ، یہ ایک حکیم وحمید کی نازل کردہ چیز ہے ”۔ باطل اس کتاب میں کس طرح داخل ہو سکتا ہے۔ یہ تو اللہ برحق کی طرف سے نازل شدہ ہے جو حق بیان کرتا ہے ، اور یہ کتاب اس سچائی سے مربوط ہے جس کے اوپر آسمان و زمین ۔۔۔ ہیں۔ یہ کتاب ، کتاب عزیز ہے اور یہ محفوظ ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (15 : 9) “ بیشک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ”۔
جو شخص بھی قرآن پر تدبر کرتا ہے وہ اس سچائی کو پالیتا ہے جس کو لے کر یہ نازل ہوئی ہے۔ اور جو نازل ہی اس لیے ہوئی ہے کہ اسے پڑھا جائے اور جو شخص بھی اسے پڑھے گا وہ یہ سچائی ایک طرف اپنی روح میں پائے گا اور دوسری طرف اس کے نصوص میں پائے گا۔ بڑی سادگی اور آسانی کے ساتھ قرآن سے ہر شخص سچائی حاصل کرسکتا ہے۔ یہ سچائی نہایت فطری ، اطمینان بخش اور انسانی فطرت کے اندر موجود ہے۔ ہر قاری پر اس کتاب کا نہایت ہی گہرا اور عجیب اثر ہوتا ہے۔
آیت 41{ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِالذِّکْرِ لَمَّا جَآئَ ہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جنہوں نے اس یاد دہانی کا انکار کیا جبکہ یہ ان کے پاس آگئی۔“ اس سے آگے اس مفہوم کے الفاظ محذوف ہیں کہ ”اب ان لوگوں کی شامت آنے والی ہے“۔ نوٹ کیجیے کہ اس سورت میں یہاں تیسری مرتبہ قرآن کا ذکر آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت 3 اور آیت 26 میں بھی قرآن کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں قرآن کو ”الذکر“ یعنی یاد دہانی قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب تو اس گواہی کو اجاگر کرکے تمہارے سامنے لا رہی ہے جو پہلے سے تمہاری فطرت کے اندر مخفی ہے۔ اللہ کی معرفت اور اس کی محبت تو تمہاری ارواح کے اندر پہلے سے موجود تھی لیکن تمہاری عدم توجہی کی وجہ سے اس معرفت پر غفلت اور ذہول کے پردے پڑگئے تھے ‘ جس کے نتیجے میں تم اپنی فطرت کی اصل پہچان کو بھول کر اللہ ہی کو بھول گئے تھے۔ سورة الحشر کی آیت 19 میں اہل ایمان کو اسی حوالے سے تاکید کی گئی ہے : { وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹہُمْ اَنْفُسَہُمْط } کہ اے اہل ایمان ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو نتیجتاً اللہ نے انہیں ایسا کردیا کہ وہ خود اپنے آپ ہی کو بھول گئے۔ چناچہ یہاں قرآن کو ”الذکر“ کہہ کر گویا اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ کتاب انسانی فطرت میں مضمرمعرفت خداوندی کے ابدی سبق کی یاد دہانی کے لیے آئی ہے۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس یاد دہانی کا انکار کردیا ہے اب ان کی شامت آنے والی ہے۔ { وَاِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیْزٌ} ”انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بلاشبہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔“