سورہ فصیلات: آیت 43 - ما يقال لك إلا ما... - اردو

آیت 43 کی تفسیر, سورہ فصیلات

مَّا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبْلِكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ

اردو ترجمہ

اے نبیؐ، تم سے جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں سے نہ کہی جاچکی ہو بے شک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے، اور اس کے ساتھ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ma yuqalu laka illa ma qad qeela lilrrusuli min qablika inna rabbaka lathoo maghfiratin wathoo AAiqabin aleemin

آیت 43 کی تفسیر

ما یقال لک ۔۔۔۔۔ وذوا عقاب الیم (41 : 43) “ اے نبی ﷺ ، تم کو جو کچھ کہا جا رہا ہے ، اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کو نہ کہی جا چکی ہو۔ بیشک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے ، اور اس کے ساتھ بڑی درد ناک سزا دینے والا بھی ہے ”۔ ایک ہی وحی ، ایک ہی رسالت ، ایک ہی عقیدہ اور پوری تاریخ میں انسانوں کا اس کے مقابلے میں ایک ہی رد عمل رہا ہے۔ سب لوگوں نے تکذیب کی ، سب نے ایک جیسا اعتراض کیا۔ لہٰذا تمام انبیاء کے درمیان ایک ہی پختہ رشتہ ہے ، ایک شجرۂ نسب ہے ، ایک ہی خاندان ہے ، دکھ اور درد بھی ایک ہے۔ تجربات بھی ایک ہی طرح کے ہیں اور مقاصد بھی ایک ہی جیسے اور راستہ بھی ایک اور طریقہ کار بھی ایک۔

انس و محبت کا کیا گہرا شعور ہے یہ ! قوت ، صبر اور گہری پختگی کا شعور ۔ داعی کو یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ آپ ایک ایسے راستے پر رواں ہیں جس پر آپ سے قبل نوح ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ رواں دواں رہے ہیں ۔۔۔ کس قدر اعزاز اور بلندی کا شعور دیا جا رہا ہے کہ اس راہ کے مصائب ، اس کی ٹھوکریں ، اس کے کانٹے اور مشکلات کو برداشت کرو کہ یہ راہ تو بہت بڑے لوگوں کی ہے۔ یہ تو انبیاء و صالحین کی راہ ہے اور اس شعور کے ساتھ داعی کی قوت برداشت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اور یہ حقیقت ہے۔

ما یقال لک الا ما قد قیل للرسل من قبلک (41 : 43) “ تم کو جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے ، جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کو نہ کہی جا چکی ہو “۔ کہنے کو تو یہ ایک معمولی بات ہے لیکن اس حقیقت کو مومنین کے دل و دماغ میں بٹھانے کے کس قدر عظیم اثرات ہیں۔ اس سے اندازہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ کام قرآن ہی کرسکتا ہے۔ وہ اس عظیم حقیقت کے بیج دلوں میں کاشت کرتا ہے اور رسولوں اور حضرت محمد ﷺ کو خدا کی طرف سے یہ بھی کہا گیا :

ان ربک لذو ومغفرۃ وذو عقاب الیم (41 : 43) “ بیشک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے اور اس کے ساتھ بڑی درد ناک سزا دینے والا بھی ”۔ مغفرت کے ساتھ سزا بھی ہے تا کہ توازن قائم ہوجائے ۔ انسان اگر کسی مغفرت کا امیداوار بھی ہوگا اور اس کے عقاب الیم سے ڈرنے والا بھی ۔ نہ مایوس ہو اور نہ بےباک ہو حقیقت یہ ہے کہ توازن اسلامی تعلیمات کا بنیادی اصول ہے۔

اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ اللہ کی یہ مہربانی ہے کہ اس نے عربی مبین میں ، تمہاری زبان میں قرآن اتارا لیکن تمہاری ہت دھرمی ، تمہارے مغالطے ، تمہارے مجادلے اور پھر اس کتاب میں تحریفات قابل تعجب ہیں۔

آیت 43{ مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ } ”اے نبی ﷺ ! نہیں کہا جاتا آپ سے مگر وہی کچھ جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا تھا۔“ { اِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ مَغْفِرَۃٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ } ”یقینا آپ کا رب مغفرت والا بھی ہے اور دردناک سزا دینے والا بھی۔“

آیت 43 - سورہ فصیلات: (ما يقال لك إلا ما قد قيل للرسل من قبلك ۚ إن ربك لذو مغفرة وذو عقاب أليم...) - اردو