رسالت محمدی ﷺ نے اعلان کردیا کہ انسانیت اب بالغ ہوچکی ہے اور اس کے کاندھوں پر آزادی کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ اور ہر شخص کو اپنی کئے کا ذاتی طور پر ذمہ دار قرار دے دیا گیا ہے۔ اب جو شخص جو راستہ چاہے اختیار کرے۔
وما ربک بظلام للعبید (41 : 46) “ اور تیرا رب اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے ”۔
آیت 46{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْہَا } ”جو کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اپنے ہی لیے کرتا ہے ‘ اور جو کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آئے گا۔“ { وَمَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۔ } ”اور آپ کا رب کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے اپنے بندوں کے حق میں۔“
ناکردہ گناہ سزا نہیں پاتا۔اس آیت کا مطلب بہت صاف ہے بھلائی کرنے والے کے اعمال کا نفع اسی کو ہوتا ہے اور برائی کرنے والے کی برائی کا وبال بھی اسی کی طرف لوٹتا ہے۔ پروردگار کی ذات ظلم سے پاک ہے۔ ایک کے گناہ پر دوسرے کو وہ نہیں پکڑتا۔ ناکردہ گناہ کو وہ سزا نہیں دیتا۔ پہلے اپنے رسول ﷺ بھیجتا ہے۔ اپنی کتاب اتارتا ہے، اپنی حجت تمام کرتا ہے، اپنی باتیں پہنچا دیتا ہے، اب بھی جو نہ مانے وہ مستحق عذاب و سزا قرار دے دیا جاتا ہے۔