سورہ فصیلات: آیت 47 - ۞ إليه يرد علم الساعة... - اردو

آیت 47 کی تفسیر, سورہ فصیلات

۞ إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ ۚ وَمَا تَخْرُجُ مِن ثَمَرَٰتٍ مِّنْ أَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِۦ ۚ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَآءِى قَالُوٓا۟ ءَاذَنَّٰكَ مَا مِنَّا مِن شَهِيدٍ

اردو ترجمہ

اُس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، وہی اُن سارے پھلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اسی کو معلوم ہے کہ کونسی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے پھر جس روز وہ اِن لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ یہ کہیں گے، "ہم عرض کر چکے ہیں، آج ہم میں سے کوئی اِس کی گواہی دینے والا نہیں ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ilayhi yuraddu AAilmu alssaAAati wama takhruju min thamaratin min akmamiha wama tahmilu min ontha wala tadaAAu illa biAAilmihi wayawma yunadeehim ayna shurakaee qaloo athannaka ma minna min shaheedin

آیت 47 کی تفسیر

آیات گزشتہ میں قیامت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اس میں اللہ کی جانب سے سب کے ساتھ انصاف کرنے کی طرف بھی اشارہ تھا کہ کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اس لیے یہاں یہ بھی کہہ دیا گیا کہ قیامت کی گھڑی کا علم صرف اللہ وحدہ کو ہے۔ اس ضمن میں اللہ کے علم کی تصویر کشی بھی کردی جاتی ہے کہ وہ ہر معاملے میں کتنی گہرائیاں اور تفصیلات رکھتا ہے۔ بعض مثالیں بھی دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد قیامت کا ایک منظر بھی پیش کیا جاتا ہے جس میں مشرکوں سے سوال و جواب ہوتے ہیں :

قیام قیامت ایک ایسا غیب ہے جو مجہول اور مستقبل کے ضمیر میں گہرا پوشیدہ ہے۔ اسی طرح شگوفوں میں سے جو پھل مستقبل میں برآمد ہوتے ہیں ان کو بھی صرف اللہ جانتا ہے۔ اسی طرح رحم میں حمل بھی غیب ہے ، جو چھپا ہوا ہے۔ یہ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ انسانی سوچ ان پھلوں کے پیچھے دوڑ رہی ہے جو پھولوں اور کلیوں سے نکلتے ہیں ، ان بچوں کے پیچھے جو ماؤں کے رحم میں ہیں ، ہماری سوچ اس وسیع زمین کے نشیب و فراز میں دوڑ رہی ہے اور لاتعداد پھولوں اور شگوفوں کے بارے میں سوچتی ہے ۔ پھر ہر مادہ کے رحم میں موجود بچے جن کی تعداد متعین کرنا انسان کے دائرہ قدرت میں نہیں ہے ، تمام انسانوں ، حیوانوں کی عادیاں ، چرندوں پرندوں اور حشرات کی مادیاں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا را ہوار خیال تھک کر گر گر پڑتا ہے۔ اللہ کے علم کے حدود کا تصور بھی ممکن نہیں کہ وہ لامحدود ہے۔

انسانوں میں سے گمراہوں کا ایک چھوٹا سا ریوڑ ، ایک دن اس علم کا سامنا کرے گا اور اس علم کے دائرے سے تو کوئی چیز باہر نہ ہوگی۔

ویوم ینادیھم این شرکاءی (41 : 47) “ پھر جس روز وہ ان کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے شریک ؟ ” اس وقت بھی کوئی جھگڑا ، مجادلہ اور مغالطہ کام نہ دے گا ، نہ زبان کی تحریف و تاویل چل سکے گی تو وہ پھر کیا کہہ سکیں گے اس کے سوا :

قالوا اذنک ما منا من شھید (41 : 47) “ یہ کہیں گے ہم عرج کرچکے ہیں ، آج ہم میں سے کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے ”۔ اے اللہ ہم نے تو تجھے اطلاع کردی ہے کہ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس بات کا گواہ نہیں ہے۔

آیت 47{ اِلَیْہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ } ”اسی کی طرف لوٹتا ہے قیامت کا علم۔“ یعنی قیامت کا علم صرف اسی کے پاس ہے۔ { وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَکْمَامِہَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ } ”اور نہیں نکلتے کوئی پھل اپنے غلافوں سے اور نہ کسی مادہ کو حمل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اس کو جنتی ہے ‘ مگر اسی کے علم سے۔“ یعنی صرف قیامت ہی نہیں بلکہ تمام امور غیب کا علم اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ جزئیات کا بھی اتنا تفصیلی علم رکھتا ہے کہ اس کی نگاہ سے کسی شخص کا کوئی چھوٹا سا عمل بھی مخفی نہیں رہ سکتا۔ واضح رہے کہ یہاں پر اُنْثٰی کا لفظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے انسانوں کے علاوہ تمام حیوانات کی مادائوں کا احاطہ بھی کرتا ہے۔ { وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ اَیْنَ شُرَکَآئِ } ”اور جس دن وہ ان کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟“ { قَالُوْٓا اٰذَنّٰکَ مَا مِنَّا مِنْ شَہِیْدٍ } ”وہ کہیں گے : ہم نے تو آپ سے عرض کردیا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی گواہی دینے والا نہیں۔“ اس وقت وہ بےبسی کے عالم میں یہ بھی نہیں کہہ سکیں گے کہ دنیا میں ہم نے واقعتا کچھ سہارے ڈھونڈ کر ان سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔

علم الٰہی کی وسعتیں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم اس کے سوا اور کسی کو نہیں تمام انسانوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے جب فرشتوں کے سرداروں میں سے ایک سردار یعنی حضرت جبرائیل ؑ نے قیامت کے آنے کا وقت پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جس سے پوچھا جاتا ہے وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے (اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا 44؀ۭ) 79۔ النازعات :44) یعنی قیامت کب ہوگی ؟ اس کے علم کا مدار تیرے رب کی طرف ہی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اور جگہ فرمایا آیت (لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً ۭ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ01807) 7۔ الاعراف :187) مطلب یہی ہے کہ قیامت کے وقت کو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ پھر فرماتا ہے کہ ہر چیز کو اس اللہ کا علم گھیرے ہوئے ہے یہاں تک کہ جو پھل شگوفہ سے کھل کر نکلے جس عورت کو حمل رہے جو بچہ اسے ہو یہ سب اس کے علم میں ہے۔ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ جیسے فرمایا آیت (لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْـقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ ڎڎ) 34۔ سبأ :3) ایک اور آیت میں ہے (وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ 59؀) 6۔ الانعام :59) یعنی جو پتہ جھڑتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے۔ ہر مادہ کو جو حمل رہتا ہے اور رحم جو کچھ گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں اللہ خوب جانتا ہے اس کے پاس ہر چیز کا اندازہ ہے۔ جس قدر عمریں گھٹتی بڑھتی ہیں وہ بھی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ایسا کوئی کام نہیں جو اللہ پر مشکل ہو۔ قیامت والے دن مشرکوں سے تمام مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ جنہیں تم میرے ساتھ پرستش میں شریک کرتے تھے وہ آج کہاں ہیں ؟ وہ جواب دیں گے کہ تو ہمارے بارے میں علم رکھتا ہے۔ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقرار نہ کرے گا کہ تیرا کوئی شریک بھی ہے، قیامت والے ان کے معبودان باطل سب گم ہوجائیں گے کوئی نظر نہ آئے گا جو انہیں نفع پہنچا سکے۔ اور یہ خود جان لیں گے کہ آج اللہ کے عزاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں یہاں ظن یقین کے معنی میں ہے۔ قرآن کریم کی اور آیت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے آیت (وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا 53؀) 18۔ الكهف :53) یعنی گنہگار لوگ جہنم دیکھ لیں گے۔ اور انہیں یقین ہوجائے گا کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔

آیت 47 - سورہ فصیلات: (۞ إليه يرد علم الساعة ۚ وما تخرج من ثمرات من أكمامها وما تحمل من أنثى ولا تضع إلا بعلمه...) - اردو