وضل عنھم ما ۔۔۔۔۔ من محیص (41 : 48) “ اس وقت وہ سارے معبودان سے گم ہوجائیں گے جنہیں یہ اس سے پہلے پکارتے تھے اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کے لئے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے ”۔
کیونکہ اب ان کو اپنے سابقہ دعویٰ کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ ہوگا کہ اس کی تصدیق کرسکیں۔ ان کے نفوس میں یہ بات گہرے طور پر بیٹھ گئی ہوگی کہ اب تو کوئی جائے فرار نہیں ہے۔ یہ ہوگی ان کی کربناک اور مدہوش کردینے والی حالت اس دن۔ جب ایسی حالت آتی ہے تو انسان اپنا تمام ماضی بھول جاتا ہے ، پھر اسے وہی حالات یاد ہوتے ہیں جو درپیش ہوتے ہیں۔
آیت 48{ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ } ”اور وہ سب گم ہوجائیں گے ان سے جنہیں وہ پکارا کرتے تھے اس سے پہلے“ اس دن کی سختی کو دیکھ کر گویا ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔ { وَظَنُّوْا مَا لَہُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ } ”اور وہ یقین کرلیں گے کہ اب ان کے لیے کوئی جائے فرار نہیں۔“