سورہ فصیلات: آیت 5 - وقالوا قلوبنا في أكنة مما... - اردو

آیت 5 کی تفسیر, سورہ فصیلات

وَقَالُوا۟ قُلُوبُنَا فِىٓ أَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُونَآ إِلَيْهِ وَفِىٓ ءَاذَانِنَا وَقْرٌ وَمِنۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَٱعْمَلْ إِنَّنَا عَٰمِلُونَ

اردو ترجمہ

کہتے ہیں "جس چیز کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں، ہمارے کان بہرے ہو گئے ہیں، اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہو گیا ہے تو اپنا کام کر، ہم اپنا کام کیے جائیں گے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqaloo quloobuna fee akinnatin mimma tadAAoona ilayhi wafee athanina waqrun wamin baynina wabaynika hijabun faiAAmal innana AAamiloona

آیت 5 کی تفسیر

آیت 5 { وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْٓ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ } ”اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل پر دوں میں ہیں اس چیز سے جس کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں“ { وَفِیْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ} ”اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے“ مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ سے ایسی باتیں ادب و احترام کے دائرے میں نہیں بلکہ آپ ﷺ کو تنگ کرنے کے لیے گستاخانہ اور استہزائیہ انداز میں کرتے تھے۔ وہ لوگ مختلف طریقوں سے آپ ﷺ کے سامنے اپنے اس موقف کو بار بار دہراتے رہتے تھے کہ آپ ﷺ جس قدر چاہیں اپنے آپ کو ہلکان کرلیں ‘ آپ ﷺ کی یہ باتیں ہمارے دلوں میں اتر کر اپنا اثر نہیں دکھا سکتیں۔ آپ ﷺ کی ان باتوں کو نہ تو ہم سنتے ہیں اور نہ ہی ان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ بلکہ ایسی باتیں سننے کے حوالے سے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ آپ ﷺ خواہ مخواہ ہمیں تنگ نہ کریں۔ { وَّمِنْم بَیْنِنَا وَبَیْنِکَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ } ”اور ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان تو ایک پردہ حائل ہے ‘ تو آپ اپنا کام کریں ‘ ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔“ یہ گویا ان کی طرف سے چیلنج تھا کہ آپ ﷺ جو کچھ کرسکتے ہیں کرلیں ‘ جتنا چاہیں زور لگا لیں ہم آپ ﷺ کی اس دعوت کو چلنے نہیں دیں گے۔

آیت 5 - سورہ فصیلات: (وقالوا قلوبنا في أكنة مما تدعونا إليه وفي آذاننا وقر ومن بيننا وبينك حجاب فاعمل إننا عاملون...) - اردو