اس کے بعد اب قرآن کریم ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے کہ سوچیں۔ اور پھر اس وسیع کائنات کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ دیکھو اللہ نے اس میں کچھ نشانات اور تقدیرات طے کر رکھی ہیں ، جن کا ظہور مستقبل میں ہوگا۔
یہ آخر ضرب ہے اور آخری تبصرہ ہے۔ ۔۔۔ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے کہ عنقریب تمہیں اس کائنات کے کچھ رازوں سے آگاہ کیا جائے گا ، اسی طرح خود تمہارے نفس اور ذات کے اندر جو راز ہیں ان کے بارے میں تم پر انکشافات ہوں گے یعنی انفس و آفاق کے نشانات تمہیں دکھائے جائیں گے۔ اور یہ راز ہائے ۔۔۔ جب کھلیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ کتاب ، کتاب برحق ہے۔ یہ کتاب اور یہ منہاج اور نظام زندگی ، اور یہ قول جو تمہیں بتایا جارہا ہے ، یہ سب سچے ہیں۔
فی الواقع اللہ کا وعدہ سچا تھا۔ گزشتہ چودہ سو سال سے اللہ نے انفس و آفاق کے کئی نشانات انسانوں پر ظاہر فرمائے ہیں۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ انسان کی ذات کے بارے میں بھی عجیب و غریب انکشافات ہوئے ہیں۔ اور کائنات کے بارے میں بھی۔
پھر انسان بھی لگا ہوا ہے ، اس نے نزول قرآن کے وقت سے آج تک بہت سارے انکشافات کئے ہیں۔ اس کائنات کی وسعتیں بھی دور تک انسان نے دیکھ لیں اور اس کے لئے کھل گئیں اور نفس انسانی کے وسائل بھی اس پر واضح ہوگئے اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔
انسان نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے ، اور دیکھ لیا ہے ، اگر انسان یہ بات معلوم کرے کہ کس طرح اس نے ان چیزوں کا ادراک کیا اور اللہ کا شکر ادا کرے تو یہ اس کے لئے بہتر ہوگا۔
مثلاً انسان نے معلوم کرلیا کہ وہ جس زمین کو کائنات کو مرکز سمجھتا تھا۔ یہ تو ایک حقیر سا ذرہ ہے جو سورج کے تابع ہے۔ اور انہوں نے معلوم کرلیا کہ یہ سورج اس کائنات کا ایک چھوٹا سا کرہ ہے۔ اور اس جیسے کئی سو ملین سورج ہیں۔ انہوں نے شمس و قمر اور ارح و سما کی حقیقت معلوم کرلی اور انہوں نے اپنے وجود کی اور نفس کی حقیقت بھی معلوم کرلی ہے۔
پھر انسان نے اس کائنات کے مادے میں سے بھی اکثر چیزوں کو معلوم کرلیا ہے کہ اس مادے کے اندر کیا عناصر ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہو کہ کوئی مادہ ہے۔ پھر انسان نے یہ دیکھ لیا کہ اس کائنات کا اصل مادہ ذرہ ہے۔ اس نے یہ بھی معلوم کرلیا کہ یہ ذرہ شعاع کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ چناچہ اس نے یہ دیکھ لیا کہ دراصل تو یہ پوری کائنات روشنی ہے۔ مختلف انداز کی روشنی جس سے مختلف انداز کی روشنی جس سے مختلف شکل و صورت کی چیزیں بنتی ہیں۔
افسانوں نے اس چھوٹے سے کرے اور زمین کے بارے میں تو بہت کچھ جان لیا ہے کہ یہ گیند ہے اور گیند کی طرح ہے۔ یہ بھی معلوم کرلیا ہے کہ یہ اپنے گرد بھی گھومتا ہے اور سورج کے گرد بھی گھومتا ہے۔ انہوں نے اس کے براعظموں ، اس کے سمندروں اور اس کے دریاؤں کو معلوم کرلیا ۔ اس کے اندرون تک گھس گئے اور اس کے پیٹ میں جو کچھ چھپا تھا اس کو بھی انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ کیا کیا قوتیں اس کے اندر ودیعت کردہ ہیں۔ پھر اس قوتوں میں سے فضا میں کون کون سی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی معلوم کرلیا ہے کہ ان کی اس زمین کو اس پوری کائنات کے ساتھ جس قانون قدرت نے مربوط کردیا ہے وہ ایک ہی قانون ہے۔ اس کائنات میں تصرفات ہوتے ہیں ، ان میں سے بیشتر کو انسان نے دریافت کرلیا ہے۔ اب انسانوں میں سے کچھ اہل علم ایسے ہیں کہ انہوں نے ان قوانین سے معلوم کرلیا ہے کہ کوئی ۔۔۔ اور خالق ہے اور بعض ایسے ہیں کہ ان کے لئے ان کا یہ عالم ہی وبال بن گیا۔ یہ ان ظاہری انکشافات کے اندر ہی گم ہوگئے۔ آگے نہ بڑھ سکے۔ لیکن آیات الٰہیہ کے اس عظیم انکشاف کے بعد انسانیت نے اب اللہ کی طرف رجوع کرنا شروع کردیا ہے اور تسلیم کرنا شروع کردیا ہے کہ یہ حق ہے۔
انسان کی ذات اور اس کے نفس کے اندر علم کی فتوحات اس کائنات سے کم نہیں ہیں انسانوں نے انسانی جسم ، اس کی ترکیب ، اس کے خصائص اور اس کے اسر اور موز کے بارے میں بہت کچھ معلوم کرلیا ہے۔ اس کی بناوٹ ، اس کے اعضاء ان کے فرائض ، اس کے امراض ، اس کی غذا کے بارے میں وافر علوم جمع کرلیے ہیں ، انسانی اعمال اور حرکات کے بارے میں بھی بہت کچھ معلوم کرلیا ہے۔ یہ تمام انکشافات دراصل آیات الٰہیہ کے بارے میں ہیں۔ ان چیزوں کا خالق اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔
انسانی نفسیات کے بارے میں بھی انسان نے بہت کچھ جان لیا ہے۔ یہ اگرچہ اس حد تک نہیں ہے جو نشانات جسم کے بارے میں انسان نے دریافت کرلیے ہیں۔ کیونکہ انسان کی جدو جہد زیادہ تر انسانی جسم اور اس کی آلاتی حیثیت پر مرکوز ہے۔ انسان کی عقل ، اس کی روح کی طرف ابھی زیادہ توجہ نہیں ہوئی۔ لیکن نفس انسانی کے میدان میں بعض چیزوں کا انکشاف ہوا ، وہ بتاتا ہے کہ اس میدان میں بھی مستقبل میں بڑی فتوحات ہوں گی اور انسان مزید نشانات دیکھیں گے۔ ابھی تو انسان راستے ہی میں ہے۔
اللہ کا وعدہ قائم ہے۔
سنریھم ایتینا فی الافاق ۔۔۔۔۔ انہ الحق (41 : 53) “ عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے ، اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے ”۔ اور اس وعدے کا آخری حصہ کہ قرآن کتاب برھق ہے ، بیسویں صدی میں اس کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ایمان کے قافلے مختلف راستوں سے جمع ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خالص مادی علوم کے راستے سے بھی لوگ اسلام کی حقانیت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہر طرف سے اسلامی افواج کا اجتماع ہو رہا ہے۔ اگرچہ ماضی میں اس کرۂ ارضی پر مادیت و الحاد کی جو لہریں اٹھیں وہ بڑی سرکش تھیں۔ لیکن یہ طوفان ختم ہو رہا ہے۔ اگرچہ باد مخالف بڑی تند تھی۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ صدی جس سے ہم گزر رہے ہیں ، ابھی ختم نہ ہوگی کہ مادیت و الحاد کے یہ طوفان ختم ہوں گے اور اللہ کا کلمہ حق ہو کر رہے گا۔ (سید قطب ! آپ کی روح کو اللہ اطلاع کرے کہ اشتراکی روس ختم ہوگیا ہے ، جس کے ایک کتے نے آپ کو شہادت کے منصب پر فائز کیا۔ اور یہ تو تھی مادیت اور امریکہ الحاد کے خلاف بھی خدائی فوجیں لڑ رہی ہیں ، امید ہے کہ بہت جلد وہ بھی ختم ہوگا۔ مترجم )
اولم یکف بربک انہ علی کل شییء شھید (41 : 53) “ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے ”۔ اللہ نے یہ وعدہ علم و یقین کے ساتھ کیا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے اور شاید عادل ہے ، اس لیے یہ سچا ہے۔
آیت 53{ سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ } ”عنقریب ہم انہیں دکھائیں گے اپنی نشانیاں آفاق میں بھی اور ان کی اپنی جانوں کے اندر بھی“ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جانوں اور زمین و آسمان کے اندر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مبرہن انداز میں ان لوگوں کے سامنے آتی چلی جائیں گی۔ { حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ } ”یہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔“ اس آیت میں دراصل معلومات کے اس explosion کی طرف اشارہ ہے جو سائنسی ترقی کے باعث آج کے دور میں ممکن ہوا ہے۔ موجودہ دور سائنس کا دور ہے۔ اس دور کی تاریخ زیادہ سے زیادہ دو سو برس پرانی ہے اور سائنسی ترقی میں یہ برق رفتاری جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اسے شروع ہوئے تو ابھی نصف صدی ہی ہوئی ہے۔ چناچہ پچھلی نصف صدی سے سائنسی ترقی کے سبب مسلسل حیرت انگیز انکشافات ہو رہے ہیں اور آئے روز نت نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں۔ ان سائنسی معلومات کے اکتشافات اور حقائق کے بےنقاب ہونے سے بتدریج قرآن کا حق ہونا ثابت ہوتا چلا جا رہا ہے۔ دورئہ ترجمہ قرآن کے آغاز میں ”تعارفِ قرآن“ کے تحت اعجازِ قرآن کے مختلف پہلوئوں پر تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔ ان تمام پہلوئوں کا احصاء اور احاطہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ نزولِ قرآن کے وقت اعجازِ قرآن کے جس پہلو نے اہل ِعرب کو سب سے زیادہ متاثر بلکہ مسحور کیا تھا وہ اس کی فصاحت ‘ بلاغت اور ادبیت تھی۔ اس وقت قرآن نے عرب بھر کے شعراء ‘ خطباء اور فصحاء کو ان کے اپنے میدان میں چیلنج کیا کہ اگر تم لوگ دعویٰ کرتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے تو تم اس جیسی ایک سورت بنا کر دکھائو۔ یہ چیلنج انہیں اس میدان میں دیا گیا تھا جس کے شہسوار ہونے پر انہیں خود اپنے اوپر ناز تھا اور جس کے نشیب و فراز کو وہ خوب اچھی طرح سے سمجھتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے۔ نزولِ قرآن کے وقت عربوں کے ہاں چونکہ شاعری اور سخن وری و سخن فہمی کا بہت چرچا تھا اس لیے اس دور میں قرآن نے اپنے اسی ”اعجاز“ کو نمایاں کیا تھا۔ آج جبکہ سائنس کا دور ہے تو آج اعجازِ قرآن کے سائنسی پہلو کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ قرآن نے انسان کو کائنات میں بکھری ہوئی آیاتِ الٰہیہ کا مشاہدہ کرنے اور ان پر غور کرنے کی بار بار دعوت دی ہے ‘ لیکن ظاہر بات ہے کہ اس میدان میں چودہ سو سال پہلے کے مشاہدے اور آج کے مشاہدے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پرانے زمانے کا انسان کائنات کے عجائبات کو ننگی آنکھ سے دیکھتا تھا جبکہ آج کے انسان کو بہت بڑی بڑی ٹیلی سکوپس ‘ الیکٹرانک مائیکرو سکوپس اور نہ جانے کون کون سی سہولیات میسر ہیں۔ بہرحال آج خصوصی محنت اور کوشش سے یہ حقیقت دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے کہ جن حقائق تک سائنس آج پہنچ پا رہی ہے قرآن نے بنی نوع انسان کو چودہ صدیاں پہلے ان سے متعارف کر ادیا تھا۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ ابھی تک کسی مسلمان اسکالر کو قرآن اور سائنسی معلومات کا تقابلی مطالعہ comparative study کرکے یہ ثابت کرنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ اب تک کے تمام سائنسی انکشافات قرآن کی فراہم کردہ معلومات کے عین مطابق ہیں۔ حال ہی میں فرانسیسی سرجن ڈاکٹر موریس بوکائی [ Maurice Bucaile 1920- 1998 ] نے ”بائبل ‘ قرآن اور سائنس“ The Bible , The Quran and Science کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ‘ جس میں اس نے ثابت کیا ہے کہ اب تک جو بھی سائنسی حقائق دنیا کے سامنے آئے ہیں وہ نہ صرف قرآن میں دی گئی تفصیلات کے عین مطابق ہیں بلکہ ان سب کے مطالعہ سے قرآن کی حقانیت بھی ثابت ہوتی ہے۔ اپنی اسی تحقیق کی بدولت موصوف سرجن کو ایمان کی دولت بھی نصیب ہوئی۔ قرآن کی بعض آیات تو اگرچہ آج بھی سائنسی حوالے سے تحقیق طلب ہیں ‘ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اب تک سامنے آنے والے سائنسی انکشافات کی روشنی میں قرآن کی متعلقہ آیات و عبارات کے مفاہیم و مطالب مزید نکھرکر سامنے آئے ہیں۔ بلکہ ایسا بھی ہوا ہے کہ قرآن کے بعض الفاظ کے جو معانی پرانے زمانے میں سمجھے گئے تھے وہ غلط ثابت ہوئے ہیں اور ان کی جگہ ان الفاظ کے زیادہ واضح اور زیادہ منطقی معانی سامنے آئے ہیں۔ مثلاً لفظ عَلَقَہ کا وہ مفہوم جو قبل ازیں سورة المومنون کی آیت 14 کے ضمن میں بیان ہوا ہے زیادہ بہتر اور درست ہے۔ اور لفظ ”فائدہ“ اور ”فواد“ کی وہ وضاحت جو سورة بنی اسرائیل کی آیت 36 کے تحت دی گئی ہے زیادہ واضح اور منطقی ہے۔ اسی طرح اجرام سماویہ کے بارے میں قرآنی الفاظ { وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ۔ } یٰسٓ کا وہ مفہوم جو آج کے انسان کو معلوم ہوا ہے وہ پرانے زمانے کے انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ‘ بلکہ انسانی تاریخ شاہد ہے کہ اجرامِ فلکی اور ان کی گردش سے متعلق مختلف زمانوں میں مختلف موقف اختیار کیے گئے۔ کسی زمانے میں انسان سمجھتا تھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج حرکت میں ہے۔ پھر اسے یوں لگا جیسے سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھومتی ہے۔ حتیٰ کہ آج کے انسان نے اپنی تحقیق و جستجو سے یہ ثابت کردیا کہ سچ یہی ہے : { وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ 4 } کہ یہ سب ہی اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ بلکہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ متحرک ہے ‘ حتیٰ کہ ہر ایٹم atom کے اندر اس کے اجزاء الیکٹرانز ‘ پروٹانز اور نیوٹرانز بھی بےتابانہ مسلسل گردش میں ہیں۔ اقبالؔ نے اپنے اس شعر میں اسی حقیقت کی ترجمانی کی ہیـ: ؎ سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں ! موجودہ دور میں اگرچہ مسلمانوں کو قرآن اور سائنس کے حوالے سے خصوصی اہتمام کے ساتھ تحقیق و تدقیق کرنے کی ضرورت ہے ‘ لیکن ایسی کسی تحقیق کے دوران خواہ مخواہ تکلف کرنے اور زبردستی کھینچ تان کر کے قرآن کے دور ازکار مفاہیم نکالنے کی کوشش میں نہیں رہنا چاہیے۔ بلکہ جہاں پر عقلی اور سائنسی طور پر بات سمجھ میں نہ آئے وہاں تسلیم کرلینا چاہیے کہ ابھی بات واضح نہیں ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی یقین رکھنا چاہیے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے : { کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاج } آل عمران : 7۔ ایک وقت ضرور آئے گا کہ جو بات آج واضح نہیں ہے وہ واضح ہوجائے گی ‘ اور خارج کی دنیا میں اس حوالے سے جو حقائق بھی منکشف ہوں گے وہ قرآن کے الفاظ کے عین مطابق ہوں گے۔ ان شاء اللہ ! البتہ جن سائنسی حقائق کی اب تک قرآن کے ساتھ مطابقت ثابت ہوچکی ہے انہیں عام کر کے قرآن کی حقانیت کے سائنٹفک ثبوت کے طور پر لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آیت زیر مطالعہ میں فعل مضارع سَنُرِیْہِمْ سے پہلے ”س“ کی وجہ سے اس لفظ کے مفہوم میں خصوصی طور پر مستقبل کا مفہوم پیدا ہوگیا ہے۔ یعنی مستقبل میں ہم انہیں اپنی ایسی نشانیاں دکھائیں گے جن سے قرآن کی حقانیت واضح ہوجائے گی۔ اس ”مستقبل“ کا احاطہ کرنے کی کوشش میں اگر چشم تصور کو جنبش دی جائے تو اس کی حدود نزول قرآن کے دور کی فضائوں سے لے کر زمانہ قیامت کی دہلیز تک وسعت پذیر نظر آئیں گی۔ آج وقت کی شاہراہ پر انسانی علم کی برق رفتاری کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ انسانی تحقیق کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ خلاء کی پہنائیوں کے راز اس کے سامنے ایک ایک کر کے بےنقاب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ سمندروں کی اتھاہ گہرائیاں اس کی عمیق نظری کے سامنے سرنگوں ہیں۔ قطب شمالی Arctic اور قطب جنوبی Antarctic سمیت زمین کا چپہ چپہ ہر پہلو سے نت نئی تحقیق کی زد میں آچکا ہے۔ غرض سائنسی ترقی کا یہ ”جن“ کہکشائوں کی بلندیوں سے لے کر تحت الثریٰ ّکی گہرائیوں تک معلومات کے خزانے اکٹھے کر کے بنی نوع انسان کے قدموں میں ڈالتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن الحمد للہ ! اس تحقیق کے ذریعے سے اب تک جو حقائق بھی سامنے آئے ہیں وہ سب کے سب قرآن کی حقانیت پر گواہ بنتے چلے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے علم و تحقیق کا یہ قافلہ وقت کی شاہراہ پر اپنا سفر قیامت تک جاری رکھے گا۔ ہمارا ایمان ہے کہ اس سفر کے دوران ایجادو دریافت کے میدان میں انسان کو جو کامیابیاں بھی نصیب ہوں گی اور انفس و آفاق کی دنیائوں کے جو جو راز بھی منکشف ہوں گے وہ سب کے سب بالآخر قرآن حکیم کی حقانیت پر مہر ِتصدیق ثبت کرتے چلے جائیں گے۔ { اَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَہِیْدٌ } ”کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ آپ کا ربّ ہرچیز پر گواہ ہے !“ کائنات کی ہرچیز اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ لیکن اس نے قرآن میں صرف اسی حد تک حقائق کا ذکر کیا ہے جس حد تک انسان انہیں سمجھ سکتا ہے اور اسی انداز میں ان کا ذکر کیا ہے جس انداز میں انسانی فہم و شعور کی رسائی ان تک ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے وہ حقائق جن تک آج کے انسان کی تدریجاً رسائی ہوئی ہے اگر وہ آج سے پندرہ سو سال پہلے من و عن بیان کردیے جاتے تو اس وقت انہیں کون سمجھ سکتا تھا۔