سورہ فصیلات: آیت 6 - قل إنما أنا بشر مثلكم... - اردو

آیت 6 کی تفسیر, سورہ فصیلات

قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ فَٱسْتَقِيمُوٓا۟ إِلَيْهِ وَٱسْتَغْفِرُوهُ ۗ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ

اردو ترجمہ

اے نبیؐ، اِن سے کہو، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے، لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul innama ana basharun mithlukum yooha ilayya annama ilahukum ilahun wahidun faistaqeemoo ilayhi waistaghfiroohu wawaylun lilmushrikeena

آیت 6 کی تفسیر

آیت 6 { قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں تو بس ایک انسان ہوں تمہاری طرح کا“ مخالفین کی طرف سے چیلنج کا گستاخانہ انداز دیکھئے اور حضور ﷺ کا جواب ملاحظہ فرمائیے۔ یعنی میں نے تم لوگوں کے سامنے نہ تو خدائی کا دعویٰ کیا ہے اور نہ ہی میں نے کہا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو بس ایک انسان ہوں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ { یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ} ”میری طرف وحی کی جا رہی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے“ ان سورتوں کا مرکزی مضمون چونکہ توحید ہے ‘ اس لیے سورت کے آغاز میں ہی اس مضمون کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ { فَاسْتَقِیْمُوْٓا اِلَیْہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ } ”تو اسی کی طرف سیدھا رکھو اپنے رخ کو اور اس سے استغفار کرو۔“ جو خطائیں اور غلطیاں اس سے پہلے ہوچکی ہیں ان کی معافی مانگو اور کفر و شرک کے عقائد سے توبہ کرو۔ { وَوَیْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ } ”اور بڑی تباہی اور ہلاکت ہوگی مشرکین کے لیے۔“

حصول نجات اور اتباع رسول ﷺ۔اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ان جھٹلانے والے مشرکوں کے سامنے اعلان کر دیجئے کہ میں تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ مجھے بذریعہ وحی الٰہی کے حکم دیا گیا ہے کہ تم سب کا معبود ایک اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم جو متفرق اور کئی ایک معبود بنائے بیٹھے ہو یہ طریقہ سراسر گمراہی والا ہے۔ تم ساری عبادتیں اسی ایک اللہ کیلئے بجا لاؤ۔ اور ٹھیک اسی طرح جس طرح تمہیں اس کے رسول سے معلوم ہو۔ اور اپنے اگلے گناہوں سے توبہ کرو۔ ان کی معافی طلب کرو۔ یقین مانو کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہلاک ہونے والے ہیں، جو زکوٰۃ نہیں دیتے۔ یعنی بقول ابن عباس لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتے۔ عکرمہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ہے (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا ۽) 91۔ الشمس :9) یعنی اس نے فلاح پائی جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا۔ اور وہ ہلاک ہوا جس نے اسے دبا دیا۔ اور آیت میں فرمایا (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى 14 ۙ) 87۔ الأعلی :14) یعنی اس نے نجات حاصل کرلی جس نے پاکیزگی کی اور اپنے رب کا نام ذکر کیا پھر نماز ادا کی۔ اور جگہ ارشاد ہے (هَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰى 18؀ۙ) 79۔ النازعات :18) کیا تجھے پاک ہونے کا خیال ہے ؟ ان آیتوں میں زکوٰۃ یعنی پاکی سے مطلب نفس کو بےہودہ اخلاق سے دور کرنا ہے اور سب سے بڑی اور پہلی قسم اس کی شرک سے پاک ہونا ہے، اسی طرح آیت مندرجہ بالا میں بھی زکوٰۃ نہ دینے سے توحید کا نہ ماننا مراد ہے۔ مال کی زکوٰۃ کو زکوٰۃ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ حرمت سے پاک کردیتی ہے۔ اور زیادتی اور برکت اور کثرت مال کا باعث بنتی ہے۔ اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ کی توفیق ہوتی ہے۔ لیکن امام سعدی، ماویہ بن قرہ، قتادہ اور اکثر مفسرین نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ مال زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔ اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے امام ابن جریر بھی اسی کو مختار کہتے ہیں۔ لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ اس لئے کہ زکوٰۃ فرض ہوتی ہے مدینے میں جاکر ہجرت کے دوسرے سال۔ اور یہ آیت اتری ہے مکہ شریف میں۔ زیادہ سے زیادہ اس تفسیر کو مان کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صدقے اور زکوٰۃ کی اصل کا حکم تو نبوت کی ابتدا میں ہی تھا، جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے (وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ01401ۙ) 6۔ الانعام :141) جس دن کھیت کاٹو اس کا حق دے دیا کرو۔ ہاں وہ زکوٰۃ جس کا نصاب اور جس کی مقدار من جانب اللہ مقرر ہے وہ مدینے میں مقرر ہوئی۔ یہ قول ایسا ہے جس سے دونوں باتوں میں تطبیق بھی ہوجاتی ہے۔ خود نماز کو دیکھئے کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے ابتداء نبوت میں ہی فرض ہوچکی تھی۔ لیکن معراج والی رات ہجرت سے ڈیڑھ سال پہلے پانچوں نمازیں باقاعدہ شروط و ارکان کے ساتھ مقرر ہوگئیں۔ اور رفتہ رفتہ اس کے تمام متعلقات پورے کردیئے گئے واللہ اعلم، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے۔ کہ اللہ کے ماننے والوں اور نبی کے اطاعت گزاروں کیلئے وہ اجر وثواب ہے جو دائمی ہے اور کبھی ختم نہیں ہونے والا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے (مَّاكِثِيْنَ فِيْهِ اَبَدًا ۙ) 18۔ الكهف :3) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور فرماتا ہے (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ01008) 11۔ ھود :108) انہیں جو انعام دیا جائے گا وہ نہ ٹوٹنے والا اور مسلسل ہے۔ سدی کہتے ہیں گویا وہ ان کا حق ہے جو انہیں دیا گیا نہ کہ بطور احسان ہے۔ لیکن بعض ائمہ نے اس کی تردید کی ہے۔ کیونکہ اہل جنت پر بھی اللہ کا احسان یقینا ہے۔ خود قرآن میں ہے۔ (بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 17؀) 49۔ الحجرات :17) یعنی بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ وہ تمہیں ایمان کی ہدایت کرتا ہے۔ جنتیوں کا قول ہے۔ (فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَوَقٰىنَا عَذَاب السَّمُوْمِ 27؀) 52۔ الطور :27) پس اللہ نے ہم پر احسان کیا اور آگ کے عذاب سے بچا لیا۔ رسول کریم علیہ افضل اصلوۃ والتسلیم فرماتے ہیں مگر یہ کہ مجھے اپنی رحمت میں لے لے اور اپنے فضل و احسان میں۔

آیت 6 - سورہ فصیلات: (قل إنما أنا بشر مثلكم يوحى إلي أنما إلهكم إله واحد فاستقيموا إليه واستغفروه ۗ وويل للمشركين...) - اردو