وَقُلْ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (11 : 121)
رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جاتے ہیں انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں ٗٗ ۔
اور اے پیغمبر تمہارے ایک دوسرے بھائی نے بھی اپنی قوم کو ایسا ہی کہا تھا ، جس کا تذکرہ اسی سورت میں ہوچکا ہے اور پھر اپنی قوم کو ایک طرف چھوڑ دیا تھا ، کہ وہ اپنے انجام کا انتظار کرے۔
آیت 121 وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْط اِنَّا عٰمِلُوْنَ یعنی تم میری مخالفت اور دشمنی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرو ‘ اس ضمن میں جو کرسکتے ہو بیشک میرے خلاف کر گزرو ‘ تم اپنے طریقے پر چلتے رہو ‘ ہم اپنی روش پرچلتے رہیں گے۔
بطور دھمکانے ڈرانے اور ہوشیار کرنے کے ان کافروں سے کہہ دو کہ اچھا تم اپنے طریقے سے نہیں ہٹتے تو نہ ہٹو ہم بھی اپنے طریقے پر کار بند ہیں۔ تم منظر رہو کہ آخر انجام کیا ہوتا ہے ہم بھی اسی انجام کی راہ دیکھتے ہیں فالحمد للہ دنیا نے ان کافروں کا انجام دیکھ لیا ان مسلمانوں کا بھی جو اللہ کے فضل و کرم سے دنیا پر چھا گئے۔ مخالفین پر کامیابی کے ساتھ غلبہ حاصل کرلیا دنیا کو مٹھی میں لے لیا فللہ الحمد۔