سورہ ہود: آیت 15 - من كان يريد الحياة الدنيا... - اردو

آیت 15 کی تفسیر, سورہ ہود

مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَٰلَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ

اردو ترجمہ

جو لوگ بس اِسی دنیا کی زندگی اور اس کی خو ش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Man kana yureedu alhayata alddunya wazeenataha nuwaffi ilayhim aAAmalahum feeha wahum feeha la yubkhasoona

آیت 15 کی تفسیر

اس دنیا میں جو لوگ بھی جدوجہد کرتے ہیں وہ اس کا ثمرہ پاتے ہیں۔ اب بات اس کے نصب العین پر موقوف ہے۔ بعض لوگوں کی نظر اعلی مقاصد اور بلند افق پر ہوتی ہے۔ اور بعض لوگ صرف اپنے قدموں پر نظر رکھتے ہٰں اور دنیا کے قریب اور محدود مقاصد ان کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کے کروفر کے متلاشی ہوتے ہیں تو وہ صرف اس کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ان کو ان کے عمل کا نتیجہ اس دنیا ہی میں ملتا ہے۔ اور پھر وہ اس سے نفع اٹھاتے ہیں جس طرح ان کی مرضی ہوتی ہے۔ لیکن آخرت میں ان کا حصہ صرف آگ ہوتی ہے کیونکہ ایسے شخص نے آخرت کے لیے کچھ کمائی نہیں کی اور نہ آخرت کو اس نے اہمیت دی۔ اس لیے وہ دنیا میں جو بھی اچھا عمل کرے گا ، اس کی جزاء اسے یہاں ہی مل جائے گی اور آخرت میں وہ عمل باطل ہوگا۔ وہاں اس کے اعمال کا کوئی وزن نہ ہوگا۔ آخرت میں ایسے لوگوں کے اعمال حبط ہوں گے۔ یعنی اس طرح جس طرح کسی مویشی کو زہر آلود گھاس پھلا دیتی ہے جبکہ در حقیقت وہ بیمار ہوتا ہے ، موٹا نہیں ہوتا اور اس کا یہ موٹاپا موجب ہلاکت ہوتا ہے۔

اس دنیا میں ہمیں بہت سے افراد اور اقوام نظر آتے ہیں جو رات دن اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کو ان کی جدوجہد کے ثمرات بھی ملتے ہیں۔ ان کی دنیا نہایت ہی ترقی یافتہ اور فلاح یافتہ ہوتی ہے ، اور اس طرح پھولی ہوتی ہے جس طرح بیمار جانور۔ لہذا ہمیں ایسے لوگوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی پوچھنا چاہیے کہ کیوں ؟ کیونکہ زمین میں یہی قانون الہی ہے کہ :

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ " جو شخص حیات دنیا اور اس کی زینت کا طلبگار ہے اس دنیا میں ہم اس کے اعمال کا ثمر پورا پورا دیں گے اور ان کا کچھ نقصان نہ کیا جائے گا " لیکن اللہ کی اس سنت کو تسلیم کرتے ہوئے اور اس کے نتائج کو یقین مانتے ہوئے ہمیں یہ حقیقت بھولنا نہ چاہئے کہ ایک شخص دنیا کے لیے کام کرتے ہوئے بھی آخرت پر نظر رکھ سکتا ہے اور دنیا کی جدوجہد کے دوران بھی آخرت کے لیے کام کرسکتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ اس کی دنیا بھی اچھی اور مزین ہو اور دنیا میں بھی کوئی کمی نہ ہو اور آخرت میں بھی کوئی کمی نہ ہو اور آخرت میں بھی کامیاب ہو

حقیقت یہ ہے کہ آخرت کے لیے کام کرنا ، دنیا کے لیے کام کرنے کے ساتھ تضاد نہیں رکھتا بلکہ دنیا کا کام بھی آخرت کے لیے کام ہے بشرطیکہ توجہ الی اللہ قائم ہو اور اگر ایک انسان دنیا کی جدوجہد میں اللہ کو یاد رکھے تو اس کی جدوجہد میں کمی نہیں ہوتی بلکہ اس میں مزید برکت ہوتی ہے۔ اس کی کمائی پاکیزہ اور ستری ہوتی ہے اور دنیا کے ساتھ آخرت بھی اسے ملتی ہے۔ الا یہ کہ جو شخص دنیا میں حرام خواہشات کی پیروی کرے ناجائز شہوات نہ صرف یہ کہ آخرت میں مردود ہیں بلکہ دنیا میں بھی وہ پسندیدہ نہیں ہیں۔ اس کا تجربہ مغربی اقوام کو ان کی نفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہوچکا ہے اور انسانی تاریخ کا جن لوگوں نے مطالعہ کیا ہے وہ بھی اچھی طرح ان نتائج تک پہنچ چکے ہیں۔

اب سیاق کلام اس رویے کی طرف مڑجاتا ہے ، جو مشرکین نے رسول اللہ کے ساتھ اختیار کر رکھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حضور کی سچائی منجانب اللہ ہے اور پھر یہ قرآن بھی حضور کی رسالت اور حقانیت پر گواہ ہے۔ اور یہ کہ حضور مرسل من جانب اللہ ہیں اور اس پر حضرت موسیٰ کی کتاب بھی گواہ ہے۔ چناچہ رسول اللہ اور آپ کی دعوت کے بارے میں تمام براہین اور دلائل بیان کیے جاتے ہیں۔ اس طرح حضور کی تالیف قلب مقصود ہے۔ نیز آپ کے ساتھ جو مختصر جماعت اس عظیم مقصد کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کی ڈھارس بندھانا بھی پیش نظر ہے۔ اور مخالفین اور کفار کو ان کے انجام بد سے ڈرانا بھی مطلوب ہے کہ اگر انہوں نے روش نہ بدلی تو انجام آگ ہے۔ ان کو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جس میں وہ شرمندگی ، بےعزتی اور ذلت کا شکار ہیں ، محض اس لیے کہ انہوں نے دنیا میں کبر اور غرور کا رویہ اختیار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ جواب ڈینگیں مار رہے ہیں۔ قیامت میں کس قدر ذلیل و خوار اور عاجز ہوں گے اور اللہ کے عذاب سے بچ نکلنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی ولی اور مددگار ہوگا۔

لاجرم انہم فی الاخرۃ ھم الاخسرون (یہ لازمی بات ہے کہ آخرت میں یہی لوگ سخت خسارے میں ہوں گے) چناچہ اب (اگلی آیات میں) کفار اور مومنین کے درمیان ایک مشاہداتی موزانہ کیا جاتا ہے اور دونوں کے درمیان فرق کو نمایاں کی ا جاتا ہے کہ دونوں کا حال اور مآل کس قدر مختلف ہے۔ ذرا غور سے پڑھیے :

آیت 15 مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا جن لوگوں کا مقصد حیات ہی دنیوی مال و متاع کو حاصل کرنا ہو اور اسی کے لیے وہ رات دن دوڑ دھوپ میں لگے ہوں تو :نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ ان لوگوں کے دل و دماغ پر دنیا پرستی چھائی ہوئی ہے ‘ اور انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں دنیوی زندگی کو حسین و دلکش بنانے کے لیے ہی صرف کردی ہیں۔ ان کی ساری منصوبہ بندی اسی دنیا کے مال و متاع کے حصول کے لیے ہے۔ چناچہ ان کی اونچی اونچی عمارات بھی بن گئی ہیں ‘ کاروبار بھی خوب وسیع ہوگئے ہیں ‘ ہر قسم کا سامان آسائش بھی ان کی دسترس میں ہے ‘ عیش و عشرت کے مواقع بھی حسب خواہش انہیں میسر ہیں۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ :

ریا ہر نیکی کے لیے زہر ہے ابن عباس فرماتے ہیں ریاکاروں کی نیکیوں کا بدلہ سب کچھ اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔ ذرا سی بھی کمی نہیں ہوتی۔ پس جو شخص دنیا میں دکھاوے کے لے نماز پڑھے، روزے رکھے یا تہجد گزاری کرے، اس کا اجر اسے دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ آخرت میں وہ خالی ہاتھ اور محض بےعمل اٹھتا ہے۔ حضرت انس ؓ وغیرہ کا بیان ہے یہ آیت یہود و نصاری کے حق میں اتری اور اور مجاہد کہتے ہیں ریاکاروں کے بارے میں اتری ہے۔ الغرض کس کا جو قصد ہو اسی کے مطابق اس سے معاملہ ہوتا ہے دنیا طلبی کے لیے جو اعمال ہوں وہ آخرت میں کار آمد نہیں ہوسکتے۔ مومن کی نیت اور مقصد چونکہ آخرت طلبی ہی ہوتا ہے اللہ اسے آخرت میں اس کے اعمال کا بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے اور دنیا میں بھی اس کی نیکیاں کام آتی ہیں ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی مضمون آیا ہے۔ قرآن کریم کی (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا 18؀) 17۔ الإسراء :18) میں بھی اسی کا تفصیلی بیان ہے کہ دنیا طلب لوگوں میں سے جسے ہم جس قدر چاہیں دے دیتے ہیں۔ پھر اس کا ٹھکانا جہنم ہوتا ہے جہاں وہ ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوتا ہے۔ ہاں جس کی طلب آخرت ہو اور بالکل اسی کے مطابق اس کا عمل بھی ہو اور وہ ایمان دار بھی تو ایسے لوگوں کی کوشش کی قدر دانی کی جاتی ہے۔ انہیں ہر ایک کو ہم تیرے رب کی عطا سے بڑھاتے رہتے ہیں تیرے پروردگار کا انعام کسی سے رکا ہوا نہیں۔ تو خود دیکھ لے کہ کس طرح ہم نے ایک کو ایک پر فضیلت بخشی ہے۔ آخرت کیا باعتبار درجوں کے اور کیا باعتبار فضیلت کے بہت ہی بڑی اور زبردست چیز ہے اور آیت میں ارشاد ہے (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِيْ حَرْثِهٖ ۚ وَمَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِيْبٍ 20؀) 42۔ الشوری :20) جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم خود اس میں اس کے لیے برکت عطا فرماتے ہیں اور جس کا ارادہ دنیا کی کھیتی کا ہو ہم گو اسے اس میں سے کچھ دے دیں لیکن آخرت میں وہ بےنصیب رہ جاتا ہے۔

آیت 15 - سورہ ہود: (من كان يريد الحياة الدنيا وزينتها نوف إليهم أعمالهم فيها وهم فيها لا يبخسون...) - اردو