اب اس سے آگے رب کریم کی شان کا ایک دوسرا رخ پیش کیا جاتا ہے۔ رب کریم کی قدرت کے بعض و آثار اور مظاہر پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کی حکمت اور کارکردگیوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ دیکھو ، اللہ نے زمین اور آسمانوں کو کس قدر حکیمانہ انداز دیا ہے۔ یہاں اس کائنات کے ان پہلوؤں کو سامنے لایا جاتا ہے جو عمل ، حساب و کتاب ، اور بعث بعد الموت کے عقائد کے ساتھ متناسب ہوں بلکہ یہ تصور دیتے ہوں :
وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭ وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْــرٌ مُّبِيْن : اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ جب کہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اب اگر اے نبی ، تم کہتے ہو کہ لوگو ! مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے ، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔
اللہ نے زمین و آسمان کو چھو دنوں میں پیدا کیا ، اس موضوع پر ہم سورت یونس میں بات کر آئے ہیں۔ وہاں یہ بات سیاق وسباق میں آئی تھی۔ وہ یہ تھا کہ اس کائنات کے قوانین فطرت جن کے مطابق زمین و آسمان چلتے ہیں اور اس نظام کے درمیان جن کے مطابق لوگوں کی زندگی چلتی ہے ، ربط اور مطابقت ہے۔
لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (تاکہ تم کو آزما کر دیکھے کہ تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے) یہاں جو نئی بات ہے وہ یہ ہے ، خلق آسمان و زمین کے بیان کے بعد ایک جملہ معترضہ ہے۔
وکان عشہ علی الماء (جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا) اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق کے عمل میں وہ جس طرح کہ موجودہ شکل میں ہیں اس تک پہنچنے سے پہلے یہاں پانی تھا اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔
یہ پانی کیسے تھا ، یہ پانی کہاں تھا اور اس کی حالت کیا تھی ، اور اس کے بعد عرش الہی کس طرح تھا ، اس آیت میں ان امور کی کوئی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ جن مفسرین کو اپنے مبلغ علم کی حدود کا علم ہے۔ وہ اس سے زیادہ بہرحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہ غیبی امور ہیں اور ان کے بارے میں اللہ نے ہمیں فقط یہی معلومات دی ہیں جو اس آیت میں ہیں اور محدود ہیں۔
ہمارا کام یہ نہیں ہے کہ ہم قرآنی نصوص کی تائید میں سائنسی نظریات پیش کریں۔ خواہ کوئی نص کسی سائنسی نظریے کے ساتھ منطبق کیوں نہ ہو اس لیے کہ سائنسی نظریات بار بار بدلتے ہیں بلکہ الٹتے رہتے ہیں علماء طبیعیات جب کوئی نظریہ پیش کرتے اور سائنسی تجربات کرکے اسے ثابت کرتے ہیں تو وہ اس جدید نظریے کو سابقہ نظریات کے مقابلے میں تکوینی مظاہر سے زیادہ قریب پاتے ہیں جبکہ نص قرآنی بذات خود صادق اور حق ہے۔ چاہے سائنس اس حق اور حقیقت تک پہنچ سکی ہو یا نہیں۔ پھر سائنسی حقیقت اور سائنسی نظریات کے درمیان فرق بھی ہے۔ سائنسی حقیقت وہ ہوتی ہے جو تجربے میں آجائے۔ اگرچہ تجربات بھی ہمیشہ احتمالی رہتے ہیں ، قطعی نہیں ہوتے۔ رہے سائنسی نظریات تو وہ مفروضوں پر مبنی ہوتے ہیں اور یہ مفروضے بعض کائنات مظاہر یا چند مظاہر کے مجموعے کی بنا پر قائم کیے جاتے ہیں اور ان میں ہر وقت تبدیلی ہوسکتی ہے۔ اس لیے نہ ہم ان نظریات سے قرآن کی تائید کرسکتے ہیں اور نہ ان نظریات پر قرآن سے استدلال کرسکتے ہیں۔ کیونکہ قرآن کا طریقہ کار اور ہے اور سائنس کا اور۔ اس طرح قرآن اور سائنس کے موضوعات کار بھی مختلف ہیں۔
ہمارے دور میں قرآن کریم میں بعض سائنسی نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں یہ طرز فکر نصوص قرآن پر ہمارے ایمان کے منافی ہے۔ قرآن کریم حکیم اور خبیر کی طرف سے ہے ، یہ غلطی اس لیے کی جاتی ہے کہ ہم سائنس کو اپنے دائرہ کار کے اندر محدود نہیں رکھتے۔ اور اسے اپنے دائرے سے وسعت دیتے ہیں۔ یہ در اصل ہماری اخلاقی اور ذہنی شکست خوردگی ہے۔ جبکہ ایسا کرنے والے لوگ اپنے اس فعل کو خدمت قرآن سمجھتے ہیں۔ اور اس طرح اپنے ایمان کو ثابت کرتے ہیں۔ وہ ایمان جسے سائنس کے کسی اصول سے ثابت کیا جاتا ہے ، میں یہ کہوں گا کہ ایسے ایمان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یہ محل نظر ہے۔ قرآن کریم اصل الاصول ہے اور سائنسی نظریات اس کے موافق ہوں یا مخالف ، قرآن کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ رہے وہ سائنسی حقائق جو تجربات سے ثابت ہیں تو ان کے دائرہ کار اور قرآن کے دائرہ کار میں فرق ہے۔ دونوں موضوعات ہی مختلف ہیں۔ قرآن کریم نے سائنسی حقائق کے دریافت کے کام کو عقل انسانی کے لیے چھوڑ دیا ہے اور اسے مکمل آزادی دی ہے کہ وہ اس میدان میں کام کرے اور تجربے کرکے جن نتائج تک پہنچا جاسکتا ہو ، پہنچا جائے۔ قرآن کریم نے اپنے ذمے صرف یہ ڈیوٹی لی ہے کہ عقل انسانی کی تربیت صحیح سلامت اور سمتقیم انداز میں کرے۔ اور اسے وہم و خرافات اور دیومالائی سوچ سے باہر نکالے۔ اس طرح قرآن نے اپنے ذمہ یہ کام لیا ہے کہ انسانی زندگی کے درست چلن کے لیے ایک نظام تجویز کرے جس کے دائرے کے اندر عقل انسانی بھی درست راہ پر آگے بڑھے اور آزاد ہو کر امن و سلامتی کے ساتھ رہے اور اپنے محدود اور مخصوص دائرے میں کام کرے تاکہ اصول کی روشنی میں جزوی حقائق دریافت کرے۔ قرآن کریم نے سائنسی حقائق کا تذکرہ شاذ و نادر ہی کیا ہے مثلاً یہ کہ تمام جاندار پانی سے زندہ ہیں اور پانی ان کی زندگی کا اہم عنصر ہے۔ مثلاً تمام زندہ جانور اور نباتات جوڑے جوڑے پیدا ہوئے ہیں۔ اور جوڑوں کے ملاپ سے زندگی انسانی ، حیوانی اور نباتاتی اشکال میں نشوونما پاتی ہے۔ یہ وہ بعض حقائق ہیں جن کا قرآن نے تذکرہ کیا ہے (تفصیلات کے لیے دیکھئے پارہ دوئم اور پارہ ہفتم)
اس جملہ معترضہ کے بعد ہم دوبارہ قرآنی آیت کی طرف آتے ہیں :
وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۔ اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ جب کہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔
آسمان اور زمین کو چھ دنوں کے اندر پیدا کیا۔ اس کے بعد کئی فقرے اور جملے محذوف ہیں۔ ان پر بعد کی عبارت دلالت کرتی ہے یعنی اس عرصے میں اسے پیدا کرکے انسان کی رہائش کے لیے اسے صالح اور کار آمد بنایا گیا۔ زمین میں سب چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کیا اور آسمانوں میں وہ انتظام کیا تاکہ تم یہاں زندہ رہ سکو اور اللہ کی ذات اس پوری کائنات پر حاوی ہے۔
ِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (تاکہ تم کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے) ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پوری کائنات کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اس کی کنجیاں اور کنٹرول ہے اور یہ سب انتظام انسان کی آزمائش کے لیے ہے تاکہ معلوم ہو کہ یہ آزمائش ایک اہم معاملہ ہے ، اور یہ محض کھیل تماشا نہیں ہے بلکہ ایک بامقصد اور سنجیدہ اسکیم ہے۔ اور انسان کی تخلیق ایک با مقصد منصوبے کے تحت ہوئی ہے۔
جس طرح اللہ نے زمین و آسمان کو اس طرح تیار کیا ہے کہ وہ جنس انسان کے لیے ممد و معاون ہوں ، اسی طرح جنس انسان کو بھی ایک مخصوص اور جیب صلاحیت اور قوت دی ہے۔ انسان کی تخلیق بھی اسی قانون فطرت کے مطابق ہوئی ہے ، جس کے مطابق اس کائنات کی تخلیق ہوئی ہے۔ لیکن انسان کے اس تکوینی پہلو کے علاوہ اسے ایک صلاحیت اختیار و ارادے کی بھی دی ہے۔ اس اختیاری صلاحیت کی وجہ سے وہ کبھی راہ ہدایت اختیار کرتا ہے اور اللہ اس کے ساتھ معاونت کرتا ہے اور اسے ہدایت مل جاتی ہے اور کبھی وہ راہ ضلالت اختیار کرتا ہے اور اللہ بھی اسے ڈھیل دیتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کو چھوڑتا ہے تاکہ وہ عمل کریں اور یہ اس کی جانب سے ایک آزمائش ہے کہ کون اچھی راہ لیتا ہے اور کون بری۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو آزماتا اور ڈھیل دیتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ اللہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ تو پہلے سے جانتا ہے۔ آزمائش اور عمل کے ذریعے در اصل لوگوں کے خفیہ اعمال لوگوں پر ظاہر ہوجاتے ہیں اور پھر وہ ان اعمال پر جزا پاتے ہیں۔ اور اس طرح اللہ نے یہ اسکیم تیار فرمائی۔
اس لیے بعث بعد الموت اور جزاء و سزا کے عمل کا سر انجام پانے سے انکار اس فضا میں عجیب ہی لگتا ہے۔ کیونکہ قانون مکافات عمل ایک تکوینی مقانون ہے۔ اور یہ اس کائنات کے اصول میں سے ایک مستقل اور بنیادی اصول ہے۔ اور جو لوگ اس اصول کی تکذیب کرتے ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ ان کا رویہ معقول رویہ نہیں ہے۔ اور ایسے لوگ اس کائنات کے عظیم اصولوں کے ادراک سے محروم ہیں۔ اپنی اس ناقص سوچ ہی کی وجہ سے وہ تعجب کرتے ہیں کہ انسان پھر اٹھے گا ، یہ ایک عجیب بات ہوگی :
وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْــرٌ مُّبِيْنٌ۔ اب اگر اے نبی ، تم کہتے ہو کہ لوگو ! مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے ، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔
بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ بعث بعد الموت کو عجیب سمجھنے والوں کا یہ قول عجیب و غریب ہے اور مذکورہ بالا واقعات کی روشنی میں اس سے زیادہ جھوٹ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
۔۔۔
وہ جس طرح بعث بعد الموت کی تکذیب کرتے ہیں اور اس کائنات کے اٹل اصولوں کی روشنی میں نہیں سمجھتے ، اسی طرح دنیاوی عذاب الہی اور تکوینی ہلاکت آفرینیوں کو بھی سمجھ نہیں پا رہے وہ یہ پوچھتے ہیں کہ ان پر پھر عذاب الہی نازل کیوں نہیں ہوتا ؟ حالانکہ اس میں تاخیر بھی بوجہ حکمت ہے۔ اللہ ہر کسی کو مہلت دیتا ہے۔
آیت 7 وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ میرے نزدیک یہ آیت آج بھی متشابہات میں سے ہے ‘ لیکن شاید یہ اس دور کی طرف اشارہ ہے جب یہ دنیا معرض وجود میں آئی۔ زمین کی تخلیق کے بارے میں سائنسی اور تاریخی ذرائع سے اب تک ملنے والی معلومات کو مجتمع کر کے جو آراء سامنے آئی ہیں ان کے مطابق زمین جب ٹھنڈی ہونی شروع ہوئی تو اس سے بخارات اور مختلف اقسام کی گیسیں خارج ہوئیں۔ انہی گیسوں میں سے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملنے سے پانی پیدا ہوا جو لاکھوں سال تک بارشوں کی صورت میں زمین پر برستا رہا۔ پھر جب زمین ٹھنڈی ہو کر سکڑی تو اس کی سطح پر نشیب و فراز پیدا ہونے سے پہاڑ اور سمندر وجود میں آئے۔ اس وقت تک کسی قسم کی کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس زمین کی حد تک اللہ تعالیٰ کا تخت حکومت اس کا تصور انسانی ذہن سے ماوراء ہے پانی پر تھا۔ پھر وہ دور آیا جب زمین کی آب وہوا زندگی کے لیے موافق ہوئی تو مٹی اور پانی سے وجود میں آنے والے دلدلی علاقوں میں نباتاتی یا حیوانی مخلوق کی ابتدائی شکلیں پیدا ہوئیں۔ واللہ اعلم ! لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً یعنی انسانی زندگی کا وہ حصہ جو اس دنیا میں گزرتا ہے اس کا اصل مقصد امتحان ہے۔ علامہ اقبال نے اس شعر میں اس آیت کی بہت خوبصورت ترجمانی کی ہے :قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی !
تخلیق کائنات کا تذکرہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اسے ہر چیز پر قدرت ہے۔ آسمان و زمین کو اس نے صرف چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ اس سے پہلے اس کا عرش کریم پانی کے اوپر تھا۔ مسند احمد میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنو تمیم ! تم خوشخبری قبول کرو۔ انہوں نے کہا خوشخبریاں تو آپ نے سنا دیں اب کچھ دلوائیے۔ آپ نے فرمایا اے اہل یمن تم قبول کرو۔ انہوں نے کہا ہاں ہمیں قبول ہے۔ مخلوق کی ابتدا تو ہمیں سنائے کہ کس طرح ہوئی ؟ آپ نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تھا۔ اس کا عرش پانی کے اوپر تھا۔ اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کا تذکرہ لکھا۔ راوی حدیث حضرت عمران کہتے ہیں حضور ﷺ نے اتنا ہی فرمایا تھا جو کسی نے آن کر مجھے خبر دی کہ تیری اونٹنی زانو کھلوا کر بھاگ گئی، میں اسے ڈھونڈنے چلا گیا۔ پھر مجھے نہیں معلوم کہ کیا بات ہوئی ؟ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ ایک روایت میں ہے اللہ تھا اور اس سے پہلے کچھ نہ تھا۔ ایک روایت میں ہے اس کے ساتھ کچھ نہ تھا۔ اس کا عرش پانی پر تھا۔ اس نے ہر چیز کا تذکرہ لکھا۔ پھر آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ مسلم کی حدیث میں ہے زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا۔ صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر کے موقع پر ایک قدسی حدیث لائے ہیں کہ اے انسان تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھے دوں گا اور فرمایا " اللہ کا ہاتھ اوپر ہے "۔ دن رات کا خرچ اس میں کوئی کمی نہیں لاتا۔ خیال تو کرو کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے اب تک کتنا کچھ خرچ کیا ہوگا لیکن اس کے داہنے ہاتھ میں جو تھا وہ کم نہیں ہوتا اس کا عرش پانی پر تھا۔ اس کے ہاتھ میں میزان ہے جھکاتا ہے اور اونچا کرتا ہے مسند میں ہے ابو رزین لقیط بن عامر بن متفق عقیلی نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ مخلوق پیدائش کرنے سے پہلے ہمارا پروردگار کہاں تھا ؟ آپ نے فرمایا عما میں نیچے بھی ہوا اور اوپر بھی ہوا پھر عرش کو اس کے بعد پیدا کیا۔ یہ روایت ترمذی کتاب التفسیر میں بھی ہے۔ سنن ابن ماجہ میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ کسی چیز کو پیدا کرنے سے پہلے عرش الٰہی پانی پر تھا۔ وہب، ضمرہ، قتادہ، ابن جریر وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے ابتداء مخلوق کس طرح ہوئی۔ ربیع بن انس کہتے ہیں کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ جب آسمان و زمین کو پیدا کیا تو اس پانی کے دو حصے کردیئے۔ نصف عرش کے نیچے یہی بحر مسجود ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں بوجہ بلندی کے عرش کو عرش کہا جاتا ہے۔ سعد طائی فرماتے ہیں کہ عرش سرخ یاقوت کا ہے۔ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں اللہ اسی طرح تھا جس طرح اس نے اپنے نفس کریم کا وصف کیا۔ اس لیے کہ کچھ نہ تھا، پانی تھا، اس پر عرش تھا، عرش پر ذوالجلال والاکرام ذوالعزت والسلطان ذوالملک و ققدرہ ذوالعلم والرحمتہ والنعمہ تھا جو جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ ابن عباس سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا کہ پانی کس چیز پر تھا ؟ آپ نے فرمایا ہوا کی پیٹھ پر۔ پھر فرماتا ہے۔ آسمان و زمین کی پیدائش تمہارے نفع کے لیے ہے اور تم اس لیے ہو کہ اسی ایک خالق کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ یاد رکھو تم بیکار پیدا نہیں کئے گئے۔ آسمان و زمین اور ان کے درمیان چیزیں باطل پیدا نہیں کیں یہ گمان تو کافروں کا ہے اور کافروں کے لیے آگ کا عذاب اور آیت میں ہے۔ (اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ01105) 23۔ المؤمنون :115) کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہ جاؤ گے ؟ اللہ جو سچا مالک ہے وہی حق ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے اور آیت میں ہے انسانوں اور جنوں کو میں نے صرف اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے وہ تمہیں آزما رہے ہیں کہ تم میں سے اچھے عمل والے کون ہیں ؟ یہ نہیں فرمایا کہ زیادہ عمل والے کون ہیں ؟ اس لیے کہ عمل حسن وہ ہوتا ہے جس میں خلوص ہو اور شریعت محمدیہ کی تابعداری ہو۔ ان دونوں باتوں میں سے اگر ایک بھی نہ ہو تو وہ عمل بیکار اور غارت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اگر آپ انہیں کہیں کہ تم مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے جس اللہ نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرے گا تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم اسے نہیں مانتے حالانکہ قائل بھی ہیں کہ زمین آسمان کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ظاہر ہے کہ شروع جس پر گراں نہ گزرا۔ اس پر دوبارہ کی پیدائش کیسے گراں گزرے گی ؟ یہ تو بہ نسبت اول مرتبہ کے بہت ہی آسمان ہے۔ فرمان الٰہی ہے (وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ ۭ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 27) 30۔ الروم :27) اسی نے پہلی پیدائش شروع میں کی وہی دوبارہ پیدائش کرے گا اور یہ تو اس پر نہایت ہی آسان ہے اور آیت میں ہے کہ تم سب کا بنانا اور مار کر زندہ کرنا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسا ایک کا۔ لیکن یہ لوگ اسے نہیں مانتے تھے اور اسے کھلے جادو سے تعبیر کرتے تھے۔ کفر وعناد سے اس قول کو جادو کا اثر خیال کرتے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر ہم عذاب و پکڑ کو ان سے کچھ مقرر مدت تک کے لیے موخر کردیں تو یہ اس کو نہ آنے والا جان کر جلدی کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں کہ عذاب ہم سے موخر کیوں ہوگئے ؟ ان کے دل میں کفر و شرک اس طرح بیٹھ گیا ہے کہ اس سے چھٹکارا ہی نہیں ملتا۔ امت کا لفظ قرآن و حدیث میں کئی ایک معنی میں مستعمل ہے۔ اس سے مراد مدت بھی ہے اس آیت اور (وَقَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِيْـلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ 45) 12۔ یوسف :45) جو سورة یوسف میں ہے یہی معنی ہیں۔ امام و مقتدی کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے۔ جیسے حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ01200ۙ) 16۔ النحل :120) آیا ہے۔ ملت اور دین کے بارے میں بھی یہی لفظ آتا ہے جیسے مشرکوں کا قول (بَلْ قَالُـوْٓا اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ 22) 43۔ الزخرف :22) ہے جماعت کے معنی میں بھی آتا ہے (وَجَدَ عَلَيْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُوْنَ ۋ وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَيْنِ 23) 28۔ القصص :23) والی آیت میں اور آیت (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا 36) 16۔ النحل :36) میں ان آیتوں میں امت سے مراد کافر مومن سب امتی ہیں۔ جیسے مسلم کی حدیث ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت کا جو یہودی نصرانی میرا نام سنے اور مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنمی ہے۔ ہاں تابعدار امت وہ ہے جو رسولوں کو مانے جیسے (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ ۭ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ ۭمِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ01100) 3۔ آل عمران :110) والی آیت میں۔ صحیح حدیث میں ہے میں کہوں گا امتی امتی اسی طرح امت کا لفظ فرقے اور گروہ کے لیے بھی مستعمل ہوتا ہے جیسے (وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ01509) 7۔ الاعراف :159) اور جیسے (مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاۗىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ01103) 3۔ آل عمران :113) میں۔