آپ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ، ان کی فطرت کے اندر جو بگاڑ اور گندگی پیدا ہوگئی تھی وہ ناقابل تصور اور بےمثل تھی۔ وہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوانی تعلقات قائم کرتے تھے۔ اور یہ حرکت اس نظام فطرت کے خلاف تھی جس کے مطابق اللہ نے تمام مخلوقات کو نر اور مادہ کی شکل میں پیدا کیا ، تا کہ تمام انواع کی بقا اور تسلسل قائم رہ سکے اور جس کے ذریعے نوامیس فطرت نے انسان کے لیے جو لذت اور خوشی ودیعت کی ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔
یہ راہ فطرت انسان خود اپنے غور و فکر اور اپنی تدابیر اور محنت سے حاصل نہیں کرسکتا ، صرف راہ راست پر استقامت اور ہدایت ربانی سے یہ لذت مل سکتی ہے۔ جنسی بےراہ روی کے سلسلے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کے اندر اس قسم کی شاذ ونادر بےراہ روی تو انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ بعض انسان بیمار ہوتے ہیں لیکن قوم لوط (علیہ السلام) کی بیماری ایک عجیب اور ہمہ گیر بیماری تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفسیاتی بیماریاں بھی اسی طرح پیھل جاتی ہیں جس طرح جسمانی بیماریاں پھیل جاتی ہیں اور اگر کسی سوسائٹی کا معیار حسن و قبح بدل جائے تو اس کے اندر ایسی بیماریاں بھی پھیل جاتی ہیں اور قوم پوری کی پو ری اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوجاتی ہے اور یہ بگاڑ سوسائٹی کے بگڑے ہوئے تصورات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ بگاڑ انسانی فطرت سلیمہ کے ساتھ متصادم ہوتا ہے ، کیونکہ فطرت سلیمہ تو کائنات کے نوامیس کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے اور وہ موجبات حیات کی ممد ہوتی ہے ، متصادم نہیں ہوتی جبکہ یہ جنسی بےراہ روی امتداد حیات کے نظام کے ساتھ متصادم ہوتی ہے۔ انسان تخم حیات کو ایسی سرزمین میں بوتا ہے جہاں سے زندگی کی نشوونما نہیں ہو سکتی ، یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی جنسی بےراہ روی سے انسانی فطرت نہ صرف یہ کہ اخلاقی طور پر متصادم ہوتی ہے بلکہ قوانین فطرت بھی اس سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ عمل قوم لوط نہ صرف یہ کہ فطرت کے خلاف ہے بلکہ نظام امتداد حیات اور حقیقی لذت کے بھی خلاف ہے۔
بعض اوقات انسان موت میں وہ لذت محسوس کرتا ہے جو حیات میں نہیں ہوتی لیکن یہ لذت اعلیٰ اقدار اور بلند مقاصد کے حصول کے لیے ہوتی ہے۔ یہ حسی اور جسمانی لذت نہیں ہوتی اور جہاد میں سر قربان کرنا نظام بقائے حیات کے ساتھ متصادم نہیں ہے بلکہ اس طرح زندگی کو کم کرنا دوسرے پہلو سے زندگی کو بلند کرنا ہے۔ اللہ کی راہ میں شہادت سے زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ زندگی ایک دوسرا انداز اختیار کرتی ہے۔
تو حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کو دیکھ کر بہت ہی کبیدہ خاطر ہوئے ، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ان کی قوم ان خوبصورت مہمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی اور اس طرح انہیں بہت ہی شرمندہ ہونا پڑے گا۔ هَذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ “ آج بڑی مصیبت کا دن ہے
وَّقَالَ ہٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌچونکہ ان بستیوں کے لوگوں میں امرد پرستی عام تھی لہٰذا ان کی آخری آزمائش کے لیے فرشتوں کو ان کے پاس نوجوان خوبصورت لڑکوں کے روپ میں بھیجا گیا تھا۔ حضرت لوط ان خوبصورت مہمان لڑکوں کو دیکھ کر اسی لیے پریشان ہوئے کہ اب وہ اپنے ان مہمانوں کا دفاع کیسے کریں گے۔ اس لیے کہ آپ جانتے تھے کہ ان کی قوم کے لوگ کسی اپیل یا دلیل سے باز آنے والے نہیں تھے اور آپ اکیلے زبردستی انہیں روک نہیں سکتے تھے۔
حضرت لوط ؑ کے گھر فرشتوں کا نزول۔ حضرت ابراہیم کو یہ فرشتے اپنا بھید بتا کر وہاں سے چل دیئے اور حضرت لوط ؑ کے پاس ان کے زمین میں یا ان کے مکان میں پہنچے۔ مرد خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے تاکہ قوم لوط کی پوری آزمائش ہوجائے، حضرت لوط ان مہمانوں کو دیکھ کر قوم کی حالت سامنے رکھ کر سٹ پٹا گئے، دل ہی دل میں پیچ تاب کھانے لگے کہ اگر انہیں مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لوگ چڑھ دوڑیں اور اگر مہمان نہیں رکھتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے۔ زبان سے بھی نکل گیا کہ آج کا دن بڑا ہیبت ناک دن ہے۔ قوم والے اپنی شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ مجھ میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ کیا ہوگا ؟ قتادہ فرماتے ہیں۔ حضرت لوط اپنی زمین پر تھے کہ یہ فرشتے بصورت انسان آئے اور ان کے مہمان بنے۔ شرما شرمی انکار تو نہ سکے اور انہیں لے کر گھر چلے، راستے میں صرف اس نیت سے کہ یہ اب بھی واپس چلے جائیں ان سے کہا کہ واللہ یہاں کے لوگوں سے زیادہ برے اور خبیث لوگ اور کہیں نہیں ہیں۔ کچھ دور جا کر پھر یہی کہا غرض گھر پہچنے تک چار بار یہی کہا۔ فرشتوں کو اللہ کا حکم بھی یہی تھا کہ جب تک ان کا نبی، ان کی برائی نہ بیان کرے انہیں ہلاک نہ کرنا۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس سے چل کر دوپہر کو یہ فرشتے نہر سدوم پہنچے وہاں حضرت لوط کی صاحبزادی جو پانی لینے گئی تھیں، مل گئیں۔ ان سے انہوں نے پوچھا کہ یہاں ہم کہیں ٹھہر سکتے ہیں۔ اس نے کہا آپ یہیں رکیئے میں واپس آکر جواب دوں گی۔ انہیں ڈر لگا کہ اگر قوم والوں کے ہاتھ یہ لگ گئے تو ان کی بڑی بےعزتی ہوگی۔ یہاں آکر والد صاحب سے ذکر کیا کہ شہر کے دروازے پر چند پردیسی نو عمر لوگ ہیں، میں نے تو آج تک نہیں دیکھے، جاؤ اور انہیں ٹھہراؤ ورنہ قوم والے انہیں ستائیں گے۔ اس بستی کے لوگوں نے حضرت لوط سے کہہ رکھا تھا کہ دیکھو کسی باہر والے کو تم اپنے ہاں ٹھیرایا نہ کرو۔ ہم آپ سب کچھ کرلیا کریں گے۔ آپ نے جب یہ حالت سنی تو جا کر چپکے سے انہیں اپنے گھر لے آئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ مگر آپ کی بیوی جو قوم سے ملی ہوئی تھی، اسی کے ذریعہ بات پھوٹ نکلی۔ اب کیا تھا۔ دوڑے بھاگے آگئے، جسے دیکھو خوشیاں مناتا جلدی جلدی لپکتا چلا آتا ہے ان کی تو یہ خو خصلت ہوگئی تھی اس سیاہ کاری کو تو گویا انہوں نے عادت بنا لیا تھا۔ اس وقت اللہ کے نبی ﷺ انہیں نصیحت کرنے لگے کہ تم اس بد خصلت کو چھوڑو اپنی خواہشیں عورتوں سے پوری کرو۔ بناتی یعنی میری لڑکیاں۔ اس لیے فرمایا کہ ہر نبی اپنی امت کا گویا باپ ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی ایک اور آیت میں ہے کہ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو پہلے ہی آپ کو منع کرچکے تھے کہ کسی کو اپنے ہاں نہ ٹھیرایا کرو۔ حضرت لوط ؑ نے انہیں سمجھایا اور دنیا آخرت کی بھلائی انہیں سجھائی اور کہا کہ عورتیں ہی اس بات کے لیے موزوں ہیں۔ ان سے نکاح کر کے اپنی خواہش پوری کرنا ہی پاک کام ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ سمجھا جائے کہ آپ نے اپنی لڑکیوں کی نسبت یہ فرمایا تھا نہیں بلکہ نبی اپنی پوری امت کا گویا باپ ہوتا ہے۔ قتادہ وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام ابن جریج فرماتے ہیں یہ بھی نہ سمجھنا چاہیے کہ حضرت لوط نے عورتوں سے بےنکاح ملاپ کرنے کو فرمایا ہو۔ نہیں مطلب آپ کا ان سے نکاح کرلینے کے حکم کا تھا۔ فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو میرا کہا مانو، عورتوں کی طرف رغبت کرو، ان سے نکاح کر کے حاجت روائی کرو۔ مردوں کی طرف اس رغبت سے نہ آؤ اور خصوصاً یہ تو میرے مہمان ہیں، میری عزت کا خیال کرو کیا تم میں ایک بھی سمجھدار، نیک راہ یافتہ بھلا آدمی نہیں۔ اس کے جواب میں ان سرکشوں نے کہا کہ ہمیں عورتوں سے کوئی سروکار ہی نہیں یہاں بھی بناتک یعنی تیری لڑکیاں کے لفظ سے مراد قوم کی عورتیں ہیں۔ اور تجھے معلوم ہے کہ ہمارا ارادہ کیا ہے یعنی ہمارا ارادہ ان لڑکوں سے ملنے کا ہے۔ پھر جھگڑا اور نصیحت بےسود ہے۔