چناچہ انہوں نے اپنے مشن کی بابت بتادیا اور حکم دیا کہ وہ اپنے پاکیزہ خاندان کے ساتھ نکل جائیں۔ ہاں تمہاری بیوی تمہارے ساتھ نہیں ہے۔ یہ فاسقین کی جماعت میں شامل ہے۔
اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍِ (81 : 11) “ کیا صبح کا وقت قریب نہیں ہے۔ ” یہ فقرہ اس لیے آیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی روح خوش ہوجائے کیونکہ انہوں نے گزشتہ محفل بڑی اذیت کے ساتھ گزاری تھی۔
مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں کا انجام بہت ہی قریب ہے۔ صبح ہوتے ہی یہ لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔ اب وہ خواہش اللہ پوری فرمائیں گے جو خواہش حضرت لوط اپنی کم قوت کی بناء پر پوری نہ کرسکتے تھے۔
آیت 81 قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَّصِلُوْٓا اِلَيْكَ فرشتوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے آپ کو تسلی دی کہ آپ اطمینان رکھیں یہ لوگ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکیں گے۔ پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ ہلایا تو وہ سب نابکار اندھے ہوگئے۔فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌیعنی یہاں سے جاتے ہوئے آپ لوگوں کو پیچھے رہ جانے والوں کی طرف کسی قسم کی کوئی توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اِلَّا امْرَاَتَكَ ۭ اِنَّهٗ مُصِيْبُهَا مَآ اَصَابَهُمْ یعنی جب آپ اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکلیں گے تو اپنی بیوی کو ساتھ لے کر نہیں جائیں گے۔ آپ علیہ السلام کی اس بیوی کا ذکر سورة التحریم میں حضرت نوح کی مشرک بیوی کے ساتھ اس طرح ہوا ہے : ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ ۭ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيْــــًٔا وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيْنَ 10 ”اللہ کافروں کے لیے مثال بیان کرتا ہے نوح کی بیوی اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی۔ وہ دونوں عورتیں ہمارے دو برگزیدہ بندوں کے تحت تھیں لیکن انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی چناچہ ان کے شوہر انہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکے۔ اور ان دونوں عورتوں سے کہہ دیا گیا کہ تم بھی جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ۔“اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا کہ اب آپ لوگوں کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ آپ فوری طور پر اپنی بچیوں کو لے کر یہاں سے نکل جائیں صبح ہوتے ہی ان بستیوں پر عذاب آجائے گا۔ اور صبح ہونے میں اب دیر ہی کتنی ہے !