حق بالکل واضح ہے لیکن ان کا سینہ اس کے لیے تنگ ہے ، وہ چاہتے ہی نہیں کہ حق کا ادراک کرسکیں۔
قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ (91 : 11) “ انہوں نے جواب دیا “ اے شعیب تیزی بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں۔ ”
یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ اقدار حیات کا تعین صرف مادی مفادات کے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں اور ہر معاملے کے ظاہری پہلو کو دیکھتے ہیں۔
وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا (91 : 11) “ اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بےزور آدمی ہے۔ ” یہ لوگ مادی قوت ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس حقیقت اور قوت کا کوئی وزن نہیں ہے جو حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ (91 : 11) “ اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کرچکے ہوتے۔ ” ان کے نزدیک گویا نظریاتی قوت کے مقابلے میں خاندان کی قوت زیادہ اہم ہے۔ دلی جوڑ کے مقابلے میں نسب کا جوڑ زیادہ مضبوط ہے لیکن یہ لوگ دراصل اس بات سے غافل ہیں کہ اللہ اپنے دوستوں پر ، ایک بھائی کے حق میں بھائی کی غیرت سے زیادہ غیور ہے۔
وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ (11 : 91) “ تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو۔ ” یعنی تم ایک بھائی اور معزز آدمی کی حیثیت سے بھی ہم پر غالب نہیں ہو اور نہ ایک طاقتور شخص کی حیثیت سے تمہارا پلہ بھاری ہے ، ہم اگر مجبور ہیں تو خاندانی روابط کی وجہ سے تجھ پر ہاتھ ڈالنے سے مجبور ہیں۔
جب انسان ایک پختہ نظریہ سے محروم ہوجاتا ہے ، اس کے پیش نظر اعلیٰ قدریں اور اعلیٰ روایات نہیں ہوتیں تو وہ زمین پر گر پڑتا ہے ، اس کے ذہن میں اس دنیا کے مفادات ہی اعلیٰ وارفع ہوجاتے ہیں اور وہ دنیاوی قدروں کا گرویدہ ہوجاتا ہے لہذا وہ اس جیسی قیمتی اور بلند دعوت کی قدر نہیں کرتا۔ وہ اعلیٰ حقائق کے ادراک سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس قسم کی ذہنیت کے لوگ ایسی بلند دعوت پر اگر ہاتھ نہیں اٹھاتے تو بھی محض دنیاوی قوت کے ڈر سے نہیں اٹھاتے۔ ایسے لوگ محض مادی قوت کو خاطر میں لاتے ہیں۔ رہے بلند عقائد ، اعلی خیالات اور بلند اقدار تو یہ وہ چیزیں ہیں جن کی کسی مادہ پرست شخص کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ گرے ہوئے پست لوگوں کی ذہینت ہمیشہ کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔
اب حضرت شعیب (علیہ السلام) کی غیری ایمانی جوش میں آتی ہے ، ان سے اللہ رب العالمین کی یہ توہین برداشت نہیں ہوتی وہ اپنی قوم اور کنبے کی مادی قوت سے دست بردار ہوجاتے ہیں۔ وہ ان کو اس برے انجام کے حوالے کردیتے ہیں جو اس کائنات میں ایسے لوگوں کے لیے مقدر ہوتا ہے اور اللہ کے بارے میں ان کے توہین آمیز رویے کی مذمت کرتے ہیں اور ان کے سامنے ایک آخری اور فیصلہ کن دعوت پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں میرا عمل میرا ہے اور تمہارا عمل تمہارا ہے۔ اب وہ ان کو خدائی قوتوں کے حوالے کرتے ہیں اور ان کو صاف صاف بتاتے ہیں کہ تم جیسے لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں ایک بہت بڑا عذاب ہر وقت تیار رہتا ہے لہذا لو اپنا وہ انجام جو تم نے خود اپنے لیے اختیار کیا ہے۔
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (92) وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ (93) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، کیا میری براداری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور ) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا ؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ اے میری قوم کے لوگو ، تم اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا ، جلدڈی ہی تمہیں معلوم ہو جاؤے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ ”
آیت 91 قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ جب ذہنوں کے سانچے بگڑ جائیں اور سوچوں کے زاویے بدل جائیں تو پھر سیدھی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی۔وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا ۚ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ ۡ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ سمجھ لیں کہ جس زمانے میں جو سورت نازل ہوئی ہے اس میں نبی اکرم اور آپ کے صحابہ کرام کو پیش آنے والے معروضی حالات کے ساتھ تطابق پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی گزشتہ اقوام کے واقعات جو مختلف سورتوں میں تواتر کے ساتھ بار بار آئے ہیں یہ تکرار محض نہیں ہے ‘ بلکہ حضور کی دعوت و تحریک کو جس دور میں جن مسائل کا سامنا ہوتا تھا اس خاص دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں ان مسائل کی مناسبت سے پچھلی اقوام کے حالات و واقعات سے وہ باتیں نمایاں کی جاتی تھیں جن میں حضور اور اہل ایمان کے لیے راہنمائی اور دلجوئی کا سامان موجود ہوتا۔ چناچہ آیت زیر نظر میں حضرت شعیب کے خاندان اور قبیلے کی حمایت کی بات اس لیے ہوئی ہے کہ ادھر مکہ میں حضور کو بھی کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا تھا۔ اس زمانے میں بنو ہاشم کے سردار آپ کے چچا ابو طالب تھے جنہیں حضور سے بہت محبت تھی اور آپ نے اپنے بچپن کا کچھ عرصہ ان کے سایہ عاطفت میں گزارا تھا۔ انہی کی وجہ سے آپ کو پورے قبیلہ بنی ہاشم کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اگر اس وقت بنوہاشم کی سرداری کہیں ابولہب کے پاس ہوتی تو آپ کو اپنے خاندان اور قبیلہ کی یہ حمایت حاصل نہ ہوتی اس طرح مشرکین مکہ کو آپ کے خلاف معاذ اللہ کوئی انتہائی اقدام کرنے کا موقع مل جاتا۔ لہٰذا یہاں حالات میں تطابق اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آج مکہ میں بنو ہاشم کی حمایت سے محمد رسول اللہ کو ایک محفوظ قلعہ مہیا فرما دیا ہے ‘ بالکل اسی نوعیت کی حفاظت اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب کو ان کے خاندان کی حمایت کی صورت میں بھی عطا فرمائی تھی۔
قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب قوم مدین کے کہا کہ اے شعیب آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بےانتہا کمزور ہیں۔ سعید وغیرہ کا قول ہے کہ آپ کی نگاہ کم تھی۔ مگر آپ بہت ہی صاف گو تھے، یہاں تک کہ آپ کو خطیب الانبیاء کا لقب حاصل تھا۔ سدی کہتے ہیں اس وجہ سے کمزور کہا گیا ہے کہ آپ اکیلے تھے۔ مراد اس سے آپ کی حقارت تھی۔ اس لیے کہ آپ کے کنبے والے بھی آپ کے دین پر نہ تھے۔ کہتے ہیں کہ اگر تیری برادری کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تو پتھر مار مار کر تیرا قصہ ہی ختم کردیتے۔ یا یہ کہ تجھے دل کھول کر برا کہتے۔ ہم میں تیری کوئی قدر و منزلت، رفعت وعزت نہیں۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا بھائیو تم مجھے میری قرابت داری کی وجہ سے چھوڑ تے ہو۔ اللہ کی وجہ سے نہیں چھوڑتے تو کیا تمہارے نزدیک قبیلے والے اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں اللہ کے نبی کو برائی پہنچاتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں کرتے افسوس تم نے کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا۔ اس کی کوئی عظمت و اطاعت تم میں نہ رہی۔ خیر اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حال احوال جانتا ہے وہ تمہیں پورا بدلہ دے گا۔