قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ (92 : 11) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے۔ ” میری برادری تو انسانوں کا فقط ایک مجموعہ ہے۔ جس قدر بھی وہ قوی ہوں بہرحال وہ انسان ہی تو ہیں ، ضعیف مخلوق ہی تو ہیں۔ اللہ کے تو بہرحال وہ بندے اور غلام ہیں ، کیا چند لوگوں سے تم ڈرتے ہو اور اللہ سے نہیں ڈرتے ہو ، کس قدر بودی سوچ ہے تمہاری۔
وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا (92 : 11) “ اور اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا۔ ” کسی کو چھوڑ دیتے اور کسی سے منہ پھیر دینے کا یہ نہایت ہی مخصوص انداز بیان ہے ، واضع تصویر کے انداز میں۔ چونکہ یہ لوگ اللہ سے منہ پھیرتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اس لیے ان کا یہ فعل نہایت ہی گھناؤنا ہے۔ کیونکہ اللہ ہی نے ان کو پیدا کیا ہے۔ جن اچھے حالات میں وہ زندگی بسر کر رہے ہیں ان میں ان کا رازق وہی تو ہے۔ گویا ان کا یہ فعل نہایت متکبرانہ ، ناسیاسی اور سفید چشمی ہے اور شرعی اعتبار سے کفر وتکذیب کا حالم ہے اور نہایت ہی برا اندازہ ہے جو انہوں نے لگایا۔
إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (11 : 92) “ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے ” احاطہ کا مفہوم یہ ہے کہ جس چیز کا احاطہ کیا گیا ہو وہ پوری طرح محیط کے قبضہ اور زیر قدرت ہوتی ہے اس سے مراد قدرت کاملہ ہے۔
ایک مومن کی جانب سے بارگاہ رب العزت میں یہ بڑی جرات ہے کہ وہ اللہ کی عزت کو ہاتھ ڈالے اور اللہ کے غضب کو دعوت دے۔ اللہ کا عذاب جب جب نازل ہوتا ہے تو اس کے مقابلے میں قوم ، خاندان اور ملازم بےبس ہوجاتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خاندانی اور قوم قبیلے کی قوت کا تو انہوں نے اعتراف بھی کیا لیکن وہ تو مومن باللہ تھے۔ انہوں نے اس معمولی قوت کی کوئی پرواہ نہیں کی نہ اسے قابل ذکر سمجھا کہ قوم کی وجہ سے وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ نہ انہوں نے قوم اور قبیلے کی قوت پر اکتفاء کیا اور یہی رویہ ایک سچے مومن کا رویہ ہوتا ہے۔ ایک سچا مومن صرف اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتا ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی صرف اللہ سے ڈریں۔ ایک مومن قوم اور قبیلے کی قوت اور عصبیت کو بھی اسلام اور رب کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ ہے اسلامی اور غیر اسلامی قومیت کے درمیان فرق۔ ہر دور اور زمانے میں قوم قبیلے کے بارے میں اسلام اور جاہلیت کا یہی تصور اور فرق رہا ہے۔
یہ جذبہ ایمانی اور جوش ایمان ہے جس کی تہہ میں اللہ پر بھروسے کے سواء اور کچھ نہیں ہے۔ اسی سے حضرت شعیب (علیہ السلام) اب اپنی قوم کے لوگوں کو یہ سخت چیلنج دیتے ہیں اور ان کے درمیان جدائی ہوجاتی ہے اور اب دونوں کی راہیں جدا ہوجاتی ہیں۔
آیت 92 قَالَ يٰقَوْمِ اَرَهْطِيْٓ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ حقیقت میں میرا پشت پناہ تو اللہ ہے۔ تم اللہ سے نہیں ڈرتے لیکن میرے خاندان سے ڈرتے ہو۔ کیا تمہارے نزدیک میرا خاندان اللہ سے زیادہ طاقتور ہے ؟وَاتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَاۗءَكُمْ ظِهْرِيًّایعنی اللہ کو تو تم لوگوں نے بالکل ہی بھلا چھوڑا ہے پس پشت ڈال دیا ہے۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک اہم پہلو ہے۔ اگرچہ آج ہم بھی اللہ کو اپنا خالق مالک اور معبود ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ساتھ ہی دنیا اور اس کے جھمیلوں میں اس قدر مگن رہتے ہیں کہ اللہ کا تصور مستحضر نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کاروبار دنیا میں حقیقی مسبب الاسباب کو بھلا کر اسباب و حقائق cause and fact کی منطقی بھول بھلیوں میں گم رہتے ہیں : کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق !یہاں حضرت شعیب کا اپنے خاندان کے مقابلے میں اللہ کا ذکر کرنا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ لوگ اللہ کو بخوبی جانتے تھے ‘ اسی طرح مشرکین مکہ بھی اللہ کو مانتے تھے۔ گویا اللہ کا معاملہ ایسے لوگوں کے نزدیک آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا ہوتا ہے۔ اسی لیے تو حضرت شعیب نے فرمایا تھا کہ تم لوگ میرے خاندان سے ڈرتے ہو مگر اللہ سے نہیں ڈرتے ! حضرت شعیب کے اس جواب میں قریش کے لیے یہ پیغام مضمر ہے کہ تمہیں بھی محمد رسول اللہ کی طرف سے یہی جواب ہے۔ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌاللہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا گھیراؤ کیے ہوئے ہے۔ تم اس کی گرفت سے نکل کر کہیں نہیں جاسکتے ہو۔