درس نمبر 104 ایک نظرر میں
یہاں قصص کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس خاتمے میں حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے تاکہ یہاں قوم فرعون کی ہلاکت کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ قوم فرعون نے بھی اللہ کے پیغمبر کے مقابلے میں فروعون کی اطاعت کی تھی اس لیے ہلاک ہوئی۔ اس اشارہ میں قصہ فرعون کی ناگفتہ کڑیوں کی طرف بھی اشارہ ہے۔ جبکہ قصے کی بعض اہم جھلکیاں بھی اس منظر میں موجود ہیں۔ ان تمام قصص میں یہی اہم اصول زیر بخث ہے کہ اسلام میں ہر فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور اگر کوئی رؤسا اور کبراء کی اطاعت کرتا ہے تو خدا اور رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری کی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوسکتا۔
قصہ فرعون کا آغاز اس منظر سے ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات اور دلائل و بینات کے ساتھ فرعون کے باس بھیجا جاتا ہے جن کے اندر خدائی قوت ہے اس لیے کہ فرعون عظیم مادی قوت کا مالک تھا۔ لہذا اس کی قوت کے مقابلے میں قوت کا ہونا ضروری تھا۔
درس نمبر 104 تشریح آیات
قبطی قوم کا سردار فرعون اور موسیٰ ؑ فرعون اور اس کی جماعت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی آیتوں اور ظاہر باہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے فرعون کی اطاعت نہ چھوڑی۔ اسی کی گمراہ روش پر اس کے پیچھے لگے رہے۔ جس طرح یہاں انہوں نے اس کی فرمان برداری ترک نہ کی اور اسے اپنا سردار مانتے رہے۔ اسی طرح قیامت کے دن اسی کے پیچھے یہ ہوں گے اور وہ اپنی پیشوائی میں انہیں سب کو اپنے ساتھ ہی جہنم میں لے جائے گا اور خود دگنا عذاب برداشت کرے گا۔ یہی حال بروں کی تابعداری کرنے والوں کا ہوتا ہے وہ کہیں گے بھی کہ اللہ انہیں لوگوں نے ہمیں بہکایا تو انہوں دوگنا عذاب دے۔ مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جاہلیت کے شاعروں کا جنڈا امرؤ القیس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ انہیں لے کر جہنم کی طرف جائے گا۔ اس آگ کے عذاب پر یہ اور زیادتی ہے کہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ یہ لوگ ابدی لعنت میں پڑے۔ قیامت کے دن کی لعنت مل کر ان پر دو دو لعنتیں پڑگئیں۔ یہ اور لوگوں کو جہنم کی دعوت دینے والے امام تھے۔ اس لیے ان پر دوہری لعنت پڑی۔