سورہ ابراہیم: آیت 13 - وقال الذين كفروا لرسلهم لنخرجنكم... - اردو

آیت 13 کی تفسیر, سورہ ابراہیم

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُم مِّنْ أَرْضِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۖ فَأَوْحَىٰٓ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ

اردو ترجمہ

آخر کار منکرین نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ "یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے" تب اُن کے رب نے اُن پر وحی بھیجی کہ "ہم اِن ظالموں کو ہلا ک کر دیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqala allatheena kafaroo lirusulihim lanukhrijannakum min ardina aw lataAAoodunna fee millatina faawha ilayhim rabbuhum lanuhlikanna alththalimeena

آیت 13 کی تفسیر

آیت نمبر 13 تا 14

اس مقام پر اسلام اور جاہلیت کے معرکے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ دراصل کوئی جاہلی نظام اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اسلام کا کوئی مستقل اقتدار اعلیٰ ہو ، اور وہ جاہلیت کے انتداب سے باہر ہو۔ نہ جاہلیت اس بات کو برداشت کرتی ہے کہ اس کے مستحکم نظام سے باہر کوئی اسلامی نظام ہو ، اگرچہ اسلام کی یہ مقتدر اعلیٰ قوت جاہلیت کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اصول پر چلنے کے لئے راضی ہو۔ اس لیے کہ جاہلیت کو پتہ ہے کہ اسلام ایک مستقل متحرک سوسائٹی کی شکل اختیار کرتا ہے جس کی اپنی قیادت ہوتی ہے ، جس کا اپنا دائرہ دوستاں ہوتا ہے ، جبکہ یہی وہ بات ہے جسے کوئی نظام جاہلیت کبھی گوارا نہیں کرتا۔ چناچہ یہاں جاہلیت رسولان کرام سے فقط یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ وہ اپنی دعوتی سرگرمیاں بند کردیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ تم ہماری ملت اور ہماری پارٹی میں واپس آجاؤ، اور ہماری جاہلی سوسائٹی میں مدغم ہوجاؤ، بلکہ ہماری کان میں پگھل جاؤ، اس طرح کہ تمہارا کوئی مستقل وجود نہ رہے۔ یہی تو وہ بات ہے جسے اسلامی نظام کا مزاج قبول ہی نہیں کرتا اور نہ اس بات سے رسول۔۔۔۔ دستبردار ہوتے ہیں۔ چناچہ وہ انکار کردیتے ہیں اس لئے کہ ایک مسلم جو جاہلی سوسائٹی سے کٹ کر باہر آتا ہے کس طرح وہ دوبارہ اس سوسائٹی میں گھل مل سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر جاہلی سوسائٹی ، ایسے عناصر سے مرکب ہوتی ہے جو اپنے طبعی مزاج کے اعتبار سے کسی اسلامی عنصر کو قبول ہی نہیں کرتی الا یہ کہ کوئی مسلمان اپنی پوری تحریکی اور عملی قوتیں اس جاہلی سوسائٹی کے استحکام ہی کے لئے خرچ کر رہا ہو ، اور جاہلیت کی بنیادیں مضبوط کر رہا ہو۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ وہ جاہلیت میں گھس کر اور جاہلیت کے نظام کے اندر پگھل کر اور اس کا کل پرزہ بن کر اسلام کی خدمت کرسکتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ دراصل اسلامی سوسائٹی کے عضویاتی عناصر ترکیبی اور اس کے مزاج ہی سے واقف نہیں ہیں اور نہ جاہلی معاشرے کے مزاج سے یہ لوگ واقف ہیں۔ ہر معاشرہ دراصل اپنے اندر صرف انہی اجزاء کو قبول کرتا ہے جو اس معاشرے کے لئے کام کر رہے ہوں۔ اس کے مقام اور نظام کو مستحکم کر رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ رسولان کرام اعلانیہ انکار کردیتے ہیں کہ ہم اب تمہاری ملت اور سوسائٹی میں واپس نہیں آسکتے۔ اس مقام پر اللہ کی قوت قاہرہ پھر جاہلیت پر ضرب لگاتی ہے۔ یہ ایسی ضرب ہوتی ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ یہ ضرب نہایت ہی عظیم قوت کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس ضرب کو پھر بڑے بڑے سرکش اور ڈکٹیٹر بھی نہیں سہہ سکتے۔

یہ بات جان لینا چاہئے کہ اللہ کی عظیم قوت تحریکی معاملات میں تب مداخلت کرتی ہے جب رسول اپنی قوم سے مکمل علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں اس جاہلیت سے نجات دے دی ہے ، اس لیے اب وہ دوبارہ اس نظام جاہلیت میں واپس نہیں جاسکتے۔ جب تک وہ اپنی امتیازی شان پر اصرار نہیں کرتے۔ جب تک وہ اپنے دینی نظریہ پر مصر نہیں ہوتے اور اپنی قیادت کی ماتحتی میں اپنی الگ سوسائٹی کی تشکیل نہیں کرتے۔ اور جب تک یہ تحریک اور قیادت نظریاتی بنیادوں پر اپنی قوم کو منقسم نہیں کردیتی۔ غرض جب تک یہ صورت نہیں ہوتی کہ ایک قوم دو ملتوں کی شکل میں منقسم ہوجائے ، جن کا نظریہ ، جن کا طریق زندگی ، جن کی سوسائٹی اور جن کی قیادت علیحدہ ہوجائے تو اس وقت تک اللہ کی عظیم قوت مداخلت نہیں کرتی۔ جب اسلامی تحریک یہ پوزیشن اختیار کرلیتی ہے تو پھر اللہ کی عظیم قوت جاہلیت پر فیصلہ کن ضرب لگاتی ہے۔ اب پھر کیا ہوتا ہے ، وہ تمام طاغوتی قوتیں پاش پاش کردی جاتی ہیں جو تحریک اسلامی کے لئے خطرہ ہوتی ہیں اور پھر ایسے لوگوں کو اللہ کی عظیم قوت زمین میں مستحکم کر کے بٹھا دیتی ہے اور تب جا کر اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے جو رسولوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ان کے بعد داعیان حق کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ لیکن اگر تحریک اسلامی جاہلی سوسائٹی کا حصہ ہو۔ اس کے اندر پگھل چکی ہو ، اور جاہلی سوسائٹی کے طور طریقوں کے اندر ، جاہلی تنظیم کے اندر کام کر رہی ہو ، اس سے علیحدہ ، ممتاز اور جدا تحریک یا نظام نہ رکھتی ہو اور اس کی اپنی قیادت نہ ہو۔ اس وقت تک یہ مداخلت نہیں ہوتی اور نہ اللہ کی نصرت آتی ہے۔

فاوحی الیھم ربھم لنھلکن الظلمین (14 : 13) “ تب ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے ”۔ یہ نون تاکید اور عظمت کے لئے ہے۔ یہ دونوں معانی اس سخت موقعہ پر بہت اہمیت رکھتے ہیں ، یعنی ہم ان جابر مشرکوں ، ظالموں اور سرکشوں کو ہلاک کردیں گے ، ان کی ذاتی خرابیوں کی وجہ سے اور اس سچائی کی خاطر جو عوام کے لئے بھیجی گئی اور اس خوف و ہراس کی وجہ سے جو انہوں نے عوام کے اندر پیدا کردیا تھا۔

ولنسکننکم الارض من بعدھم (14 : 14) “ اور اس کے بعد تمہیں زمین پر آباد کریں گے ”۔ یہ کام کسی طرف داری یا مزاح کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے اور اللہ کے ہاں فیصلے عدل کے مطابق ہوتے ہیں۔

ذلک لمن خاف مقامی وخاف وعید (14 : 14) “ یہ انعام ہے اس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو ”۔ یعنی ایک مقتدر کو بنا کر کسی اور کو اقتدار دینا ، اور زمین کی خلافت دینا ، اس لیے ہوتا ہے کہ سرکشوں کو ہٹا کر ان کی جگہ خدا کا خوف رکھنے والی قیادت لائی جائے۔ پھر وہ دست درازی نہ کرے ، زمین میں غرور اور تکبر نہ کرے ، جباری و قہاری سے حکمرانی نہ کرے ، اللہ کے حدود سے ڈرے اور اللہ کے سامنے جوابدہ ہو اور فساد فی الارض سے بچے ، زمین میں ظلم نہ کرے ، اس لیے کہ اسے یہ اقتدار اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ اس کے لئے اہل سمجھی گئی ہے۔

جب اہل حق اور اہل باطل کے درمیان مکمل جدائی ہوجاتی ہے تو پھر سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کی اس حقیر دنیاوی قوت کے مقابلے میں اللہ جبار وقہار اور مکمل گھیر لینے والے کی عظیم قوت سامنے آتی ہے۔ کیونکہ رسولوں کی تبلیغ کی مہم ختم ہوجاتی ہے ، حق و باطل ایک دوسرے کے بالمقابل صف آراء ہوجاتے ہیں اور مومن جھوٹوں سے جدا ہوجاتے ہیں۔ اب صورت حالات یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف ایک کیمپ میں دنیا کے سرکشوں کی قوت سامنے آتی ہے اور رسول اور داعیان حق دوسری طرف کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ اللہ کی عظیم قوت ہوتی ہے۔ دونوں فتح و نصرت کے لئے دعا کرتے ہیں ، اور انجام یوں ہوتا ہے۔

آیت 13 وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ رسولوں کی جماعت اور ان کی قوموں کے درمیان ہونے والے سوالات و جوابات کا تذکرہ جاری ہے۔ یعنی اپنے اپنے زمانے میں اپنے اپنے رسولوں سے متعلقہ اقوام کے لوگوں نے کہا :

آل لوط کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو۔ وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا۔ اپنے نبی کو سلامتی کے ساتھ مکہ سے لے گیا مدینے والوں کو آپ کا انصار و مددگار بنادیا وہ آپ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالاخر آپ نے مکہ بھی فتح کرلیا اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑگئی ان کی آرزویں پامال ہوگئیں۔ اللہ کا دین لوگوں کے دلوں میں مضبوط ہوگیا، جماعتوں کی جماعتیں دین میں داخل ہونے لگیں، تمام روئے زمین کے ادیان پر دین اسلام چھا گیا، کلمہ حق بلند وبالا ہوگیا اور تھوڑے سے زمانے میں مشرق سے مغرب تک اشاعت اسلام ہوگئی فالحمد للہ۔ یہاں فرمان ہے کہ ادھر کفار نے نبیوں کو دھمکایا ادھر اللہ نے ان سے سچا وعدہ فرمایا کہ یہی ہلاک ہوں گے اور زمین کے مالک تم بنو گے۔ جسے فرمان ہے کہ ہمارا کلمہ ہمارے رسولوں کے بارے میں سبقت کرچکا ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا اور آیت میں ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21؀) 58۔ المجادلة :21) اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت والا اور عزت والا ہے۔ اور آیت میں ارشاد ہے کہ ذکر کے بعد زبور میں بھی یہی تحریر ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا کہ تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے۔ آیت (وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا01307) 7۔ الاعراف :137) ضعیف اور کمزور لوگوں کو ہم نے زمین کی مشرق و مغرب کا وارث بنادیا جہاں ہماری برکتیں تھیں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے ہمارا ان سے جو بہترین وعدہ تھا وہ پورا ہوگیا ان کے دشمن فرعون اور فرعونی اور ان کی تمام تیاریاں سب یکمشت خاک میں مل گئیں۔ نبیوں سے فرما دیا گیا کہ یہ زمین تمہارے قبضے میں آئے گی یہ وعدے ان کے لئے ہیں جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہیں اور میرے ڈراوے اور عذاب سے خوف کھاتے رہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (فَاَمَّا مَنْ طَغٰى 37؀ۙ) 79۔ النازعات :37) ، یعنی جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور آیت میں ہے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف جس نے کیا اسے دوہری جنتیں ہیں۔ رسولوں نے اپنے رب سے مدد و فتح اور فیصلہ طلب کیا یا یہ کہ ان کی قوم نے اسے طلب کیا جیسے قریش مکہ نے کہا تھا کہ الہٰی اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب ہمیں کر۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ادھر سے کفار کا مطالبہ ہوا ادھر سے رسولوں نے بھی اللہ سے دعا کی جیسے بدر والے دن ہوا تھا کہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ دعا مانگ رہے تھے دوسری جانب سرداران کفر بھی کہہ رہے تھے کہ الہٰی آج سچے کو غا لب کر یہی ہوا بھی۔ مشرکین سے کلام اللہ میں اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ تم فتح طلب کیا کرتے تھے لو اب وہ آگئی اب بھی اگر باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے الخ نقصان یافتہ وہ ہیں جو متکبر ہوں اپنے تئیں کچھ گنتے ہوں حق سے عناد رکھتے ہوں قیامت کے روز فرمان ہوگا کہ ہر ایک کافر سرکش اور بھلائی سے روکنے والے کو جہنم میں داخل کرو جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا کرتا تھا اسے سخت عذاب میں لے جاؤ۔ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا وہ تمام مخلوق کو ندا کر کے کہے گی کہ میں ہر ایک سرکش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں۔ الخ اس وقت ان بد لوگوں کا کیا ہی برا حال ہوگا جب کہ انبیا تک اللہ کے سا منے گڑگڑا رہے ہوں گے۔ وراء یہاں پر معنی " امام " سامنے کے ہیں جیسے آیت (وکان ورائھم ملک) میں ہے ابن عباس کی قرأت ہی وکان امامھم ملک ہے غرض سامنے سے جہنم اس کی تاک میں ہوگی جس میں جا کر پھر نکلنا ناممکن ہوگا قیامت کے دن تک تو صبح شام وہ پیش ہوتی رہی اب وہی ٹھکانا بن گئی پھر و ہاں اس کے لئے پانی کے بدلے آگ جیسا پیپ ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈا اور بدبو دار وہ پانی ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے رستا ہے۔ جیسے فرما آیت (ھٰذَا ۙ فَلْيَذُوْقُوْهُ حَمِيْمٌ وَّغَسَّاقٌ 57؀ۙ) 38۔ ص :57) پس ایک گرمی میں حد سے گزرا ہوا ایک سردی میں حد سے گزرا ہوا۔ صدید کہتے ہیں پیپ اور خون کو جو دوزخیوں کے گوشت سے اور ان کی کھالوں سے بہا ہوا ہوگا۔ اسی کو طینۃ الخبال بھی کہا جاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب اس کے پاس لایا جائے گا تو اسے سخت تکلیف ہوگی منہ کے پاس پہنچتے ہی سارے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں گرپڑے گی۔ ایک گھونٹ لیتے ہی پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی۔ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ کھولتا ہوا گرم پانی پلائے جائیں گے جو چہرہ جھلسا دے الخ۔ جبرا گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا، فرشتے لو ہے کے گرز مار مار کر پلائیں گے، بدمزگی، بدبو، حرارت، گرمی کی تیزی یا سردی کی تیزی کی وجہ سے گلے سے اترنا محال ہوگا۔ بدن میں، اعضا میں، جوڑ جوڑ میں وہ درد اور تکلیف ہوگی کہ موت کا مزہ آئے لیکن موت آنے کی نہیں۔ رگ رگ پر عذاب ہے لیکن جان نہیں نکلتی۔ ایک ایک رواں ناقابل برداشت مصیبت میں جکڑا ہوا ہے لیکن روح بدن سے جدا نہیں ہوسکتی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں سے موت آرہی ہے لیکن آتی نہیں۔ طرح طرح کے عذاب دوزخ کی آگ گھیرے ہوئے ہے مگر موت بلائے سے بھی نہیں آتی۔ نہ موت آئے نہ عذاب جائے۔ ہر سزا ایسی ہے کہ موت کے لئے کافی سے زیادہ ہے لیکن وہاں تو موت کو موت آگئی ہے تاکہ سزا دوام والی ہوتی رہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ پھر سخت تر مصیبت ناک الم افزا عذاب اور ہیں۔ جیسے زقوم کے درخت کے بارے میں فرمایا کہ وہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے شگوفے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں وہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر کے کھائیں گے پھر کھولتا ہوا تیز گرم پانی پیٹ میں جا کر اس سے ملے گا پھر ان کا لوٹنا جہنم کی جانب ہے۔ الغرض کبھی زقوم کھانے کا کبھی آگ میں جلنے کا کبھی صدید پینے کا عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اللہ کی پناہ۔ فرمان رب عالیشان ہے آیت (هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ 43ۘ) 55۔ الرحمن :43) یہی وہ جہنم ہے جسے کافر جھٹلاتے رہے۔ آج جہنم کے اور ابلتے ہوئے تیز گرم پانی کے درمیان وہ چکر کھاتے پھریں گے۔ اور آیت میں ہے کہ زقوم کا درخت گنہگاروں کی غذا ہے جو پگھلتے ہوئے تانبے جیسا ہوگا، پیٹ میں جا کر ابلے گا اور ایسے جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھول رہا ہو۔ اسے پکڑو اور اسے بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی کے تریڑے کا عذاب بہاؤ مزہ چکھ تو اپنے خیال میں بڑا عزیز تھا اور اکرام والا تھا یہی جس سے تم ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ سورة واقعہ میں فرمایا کہ وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دئے جائیں گے یہ بائیں ہاتھ والے کیسے بد لوگ ہیں گرم ہوا اور گرم پانی میں پڑے ہوئے ہوں گے اور دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا نہ باعزت دوسری آیت میں ہے سرکشوں کے لئے جہنم کا برا ٹھکانا ہے جس میں داخل ہوں گے اور وہ رہائش کی بدترین جگہ ہے اس مصیبت کے ساتھ تیز گرم پانی اور پیپ لہو اور اسی کے ہم شکل اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوں گے جو دوزخیوں کو بھگتنے پڑیں گے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہوگا نہ کہ اللہ کا ظلم۔

آیت 13 - سورہ ابراہیم: (وقال الذين كفروا لرسلهم لنخرجنكم من أرضنا أو لتعودن في ملتنا ۖ فأوحى إليهم ربهم لنهلكن الظالمين...) - اردو