آیت نمبر 15 تا 17
یہ ایک عجیب منظر ہے ، اس میں ہر سرکش ڈکٹیٹر تباہ حال ہوتا ہے ، اس دنیا کے میدان جنگ میں یہ شکست کھاتا ہے ، لیکن یہ منظر اسے کھڑا کر کے ایک دوسرا تخیلاتی منظر اسکرین پر بولا جاتا ہے۔ اب یہ آخرت میں جہنم کے اندر ہے ، اس جہنم میں یہ شدید پیاساے اور اس کو انسانی زخموں سے بہنے والا سیال مادہ پلایا جا رہا ہے ، یہ اسے نہیں پینا چاہتا مگر اسے یہ مشروب بجبر پلایا جاتا ہے۔ یہ اس کے حلق سے نہیں اتر رہا کیونکہ یہ تو تلخ اور بدمزہ ہے۔ گندہ اور مکروہ مشروب ۔ اس ڈکٹیٹر کی طرف سے اظہار کراہیت اور تکلیف الفاظ کی اسکرین پر صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ صورت یہ ہے کہ ہر طرف سے اس پر آنے والا عذاب اس قدر شدید ہے کہ شاید ابھی مرجائے مگر اسے مرنے کی تو اجازت ہی نہیں ہے۔ شدید عذاب پر عذاب اس پر آرہا ہے ، اسی لئے تو نہیں مرتا۔
یہ ایک عجیب منظر ہے۔ اس میں ایک شکست خوردہ جبار اور ڈکٹیٹر کی تصویر کشی کی گئی ہے اور اس تصویر کے پس منظر میں دکھائی جاتی ہے جس طرح کسی منظر کے درمیان میں تخیل آتا ہے۔
آیت 15 وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ جو لوگ کفر و شرک پر ڈٹے رہتے وہ اس بات پر بھی اپنے رسول سے اصرار کرتے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان آخری فیصلہ ہوجانا چاہیے۔ پھر جب اللہ کی طرف سے وہ آخری فیصلہ عذاب استیصال کی صورت میں آتا تو اس کے نتیجے میں سرکش اور ہٹ دھرم قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا۔ ایسے منکرین حق کی تباہی و بربادی کا نقشہ قرآن حکیم میں اس طرح کھینچا گیا ہے : کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْہَا الاعراف : 92 ”وہ ایسے ہوگئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں“ اور فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ الاحقاف : 25 یعنی وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے دیار و امصار میں صرف ان کے محلات و مساکن ہی نظر آتے تھے جبکہ ان کے مکینوں کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ اور یہ سب کچھ تو ان لوگوں کے ساتھ اس دنیا میں ہوا جبکہ آخرت کی بڑی سزا اس کے علاوہ ہے جس کو جھیلتے ہوئے ان میں سے ہر ایک سرکش ضدی اس طرح نشان عبرت بنے گا :