سورہ لقمان: آیت 20 - ألم تروا أن الله سخر... - اردو

آیت 20 کی تفسیر, سورہ لقمان

أَلَمْ تَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُۥ ظَٰهِرَةً وَبَاطِنَةً ۗ وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِى ٱللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَٰبٍ مُّنِيرٍ

اردو ترجمہ

کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں؟ اِس پر حال یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی عِلم ہو، یا ہدایت، یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alam taraw anna Allaha sakhkhara lakum ma fee alssamawati wama fee alardi waasbagha AAalaykum niAAamahu thahiratan wabatinatan wamina alnnasi man yujadilu fee Allahi bighayri AAilmin wala hudan wala kitabin muneerin

آیت 20 کی تفسیر

درس نمبر 186 تشریح آیات

20 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 34

یہ اس سورة کا تیسرا راؤنڈ ہے۔ اس کا آغاز تکوینی دلیل کے بیان سے ہوتا ہے جس کا تعلق لوگوں سے اور ان کی زندگی کی سہولیات و مفادات سے ہے کہ اللہ نے ان پر کیا کیا انعامات کیے ، جو ظاہر بھی ہیں اور باطن بھی ہیں ، جن سے وہ رات اور دن فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن ان کے باوجود انہیں شرم نہیں آتی کہ وہ ایسے منعم ، فضل و کرم کرنے والے ، داتا کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور اس کے بعد وہی مسئلہ توحید بیان ہوتا ہے جو اس سے قبل دونوں اسفار میں بیان ہوا۔

الم تروا ان اللہ ۔۔۔۔۔۔ الی عذاب السعیر (20 – 21)

” ۔

یہ وہ نظارہ ہے جسے ہم روز دیکھتے ہیں۔ جسے قرآن کریم بار بار نقل کرتا ہے اور ہر بار منظر کائنات پڑھنے والے کو نیا نظر آتا ہے کیونکہ یہ عظیم کائنات اور اس کے کسی پہلو پر بھی اگر غور کیا جائے ، جب بھی غور کیا جائے اور اس کے اسرار و رموز پر تدبر کیا جائے اور اس کے عجائبات دیکھے جائیں تو یہ نیا نظر آتا ہے۔ اور اس کے اسرار اور عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ انسان اپنی محدود عمر میں وہ پوری معلومات حاصل نہیں کرسکتا۔ جب بھی کوئی دریافت ہوتی ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے اور جب بھی ہم از سر نو غور کرتے ہیں اسے جدید پاتے ہیں۔

یہاں قرآن کریم اس کائنات کے اس پہلو کو پیش کرتا ہے کہ اللہ نے یہ کائنات ہمارے لیے مسخر کردی ہے اور یہ ہر طرف سے انسانی ضروریات کو پورا کر رہی ہے۔ پھر جب اس کائنات کے اندر پائے جانے والی تمام چیزوں کا تجزیہ کیا جائے تو اس کی ترکیب بڑی عجیب ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے کسی مدبر انجینئر نے بنایا ہے اور یہ یونہی اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوگئی۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ ایک ارادہ اس پوری کائنات کے پیچھے کام کر رہا ہے اور وہ اللہ مدبر ہے ، جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کائنات کی تمام چیزوں کو انسان کی خدمت میں لگا دیا اور پھر اس کرہ ارض کی تو ہر چیز کو خدمت انسان میں لگا دیا۔

جہاں تک اس ہولناک کائنات کا تعلق ہے ، یہ زمین اس کا ایک چھوٹا سا ذرہ ہے اور اس زمین پر پھر انسان ایک چھوٹی سی ضعیف مخلوق ہے بمقابلہ حجم زمین اور بمقابلہ ان قوتوں کے جو اس زمین کے اندر قدرت نے رکھی ہیں جو زندہ بھی ہیں اور مردہ بھی ہیں۔ ان قوتوں کے مقابلے میں انسان اپنے حجم ، طاقت اور وزن کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں۔ لیکن اللہ نے انسان کو فضیلت دی اور اس کے جسم میں اپنی روح پھونکی اور اسے اپنی مخلوقات کے ایک بڑے حصے پر فضیلت دے دی۔ اللہ کا یہ فضل و کرم ہی تاھ جس کا تقاضا یہ ہوا کہ اس مخلوق کی اس کرہ ارض پہ اہمیت ہو۔ اور اس کا سب مخلوق سے بلند مقام ہو۔ اس کے اندر یہ قوت اور صلاحیت ہو کہ وہ اس دنیا کے وسائل کو کام میں لائے اور اس کے اندر یہ قوت اور صلاحیت ہو کہ وہ اس دنیا کے وسائل کو کام میں لائے اور اس کے قدرتی ذخائر کی تلاش کرے۔ اس آیت میں جس تسخیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، وہ یہی ہے کیونکہ تسخیر کائنات ہی میں اللہ کی ظاہری اور پوشیدہ نعمتوں کا شمار ہوتا ہے۔ یہ تسخیر اس کے علاوہ ہے جو اللہ نے سماوات کی قوتوں کو بھی انسان کے لیے مفید بنایا ہے۔ انسان کا وجود ہی اللہ کا فضل ہے اور پھر انسان کو اس قدر قوت و صلاحیت دی جاتی ہے کہ وہ اس کائنات کی سرکش قوتوں کو مسخر کرے۔ یہ اللہ کا دوسرا فضل ہے اور پھر اس کی ہدایت کے لیے رسولوں کو بھیجنا ، اللہ کا مزید فضل ہے۔ ہر وہ سانس جو وہ لیتا ہے ، دل کی ہر دھڑکن جو اس کے جسم میں خون دوڑاتی ہے۔ اس دنیا کا ہر منظر جسے وہ دیکھتا ہے ، ہر وہ آواز جو اس کے کانوں سے ٹکراتی ہے ، ہر وہ خیال جو اس کے ضمیر میں آتا ہے ، ہر نئی فکر جو وہ تخلیق کرتا ہے۔ یہ سب اللہ کے وہ انعامات ہیں جن میں ایک کا شکر بھی انسان اپنی پوری زندگی میں ادا نہیں کرسکتا ۔ یہ سب اللہ کے فضل ہی فضل ہیں۔

اس انسانی مخلوق کے لیے اللہ نے ان تمام قوتوں کو مسخر کیا ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں۔ سورج کی کرنوں کو اس کی خدمت میں لگا دیا۔ چاند کے نور کو اس کے لیے مفید کردیا ، ستاروں سے اس کیلئے سمندروں میں راہنمائی فراہم کی۔ بارش ، ہوا ، پرندے اور چرندے اس کے مفید مطلب بتا دئیے گئے۔ اس کے اندر جو کچھ ہے اس کے لیے مفید اور مسخر ہوگئے۔ یہ تو ہم بڑی سہولت سے دیکھ سکتے ہیں۔ ان پر تو ہمیں رات اور دن تدبر کرنا چاہئے۔ اس طویل و عریض کرہ ارض پر اسے خلیفہ بنایا گیا اور زمین کے تمام خزانوں پر اس کا کنڑول قائم کردیا گیا۔ بعض خزانے ظاہر ہیں اور بعض باطن ہیں۔ بعض ایسے ہیں جن کے آثار و اثرات اس کے ادراک میں ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو ابھی اس کے ادراک سے باہر ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ ان سے وہ استفادہ کرتا رہا لیکن اسے ان کا علم ہی نہ تھا۔ غرض انسان ہے کہ رات اور دن کے ہر لمحے میں اس پر اللہ کے فضل و کرم کی بارش ہو رہی ہے اور وہ اللہ کی رحمتوں میں غرق ہے لیکن اسے معلوم نہیں کہ ان رحمتوں کی انتہا کیا ہے۔ اس کے انواع و اقسام کیا کیا ہیں لیکن ان سب امور کے باوجود لوگوں میں سے ایک فریق ایسا ہے جو اللہ کی ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا ، ان پر غور نہیں کرتا ، اپنے ماحول میں غوروفکر کرکے یقین نہیں رکھتا۔

ومن الناس ۔۔۔۔۔ ولا کتٰب منیر ( 2:31 ) ” اس کے باوجود حال یہ ہے کہ انسانوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی علم ہو یا کوئی ہدایت یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب “۔

اللہ کے بارے میں یہ مجادلہ عجیب و غریب معلوم ہوتا ہے جبکہ یہ کائنات اور اس کی بوقلمونیاں ہمارے سامنے ہیں اور ان وافر نعمتوں کی تعداد ہی ہمیں معلوم نہیں ۔ ایسے حالات میں یہ انکار اور یہ تکذیب نہایت قبیح ، نہایت مذموم ، قابل نفرت اور فطرت کے خلاف ہے ۔ اور انسان اگر غور کرے تو مارے خوف کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا یہ انکار کرنے والا شخص دراصل فطرتاًمخرف ہے ۔ اس کے اندر فطری بگاڑ پیدا ہوگیا ہے ۔ وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کی پکار کو نہیں سن رہا ہے اور وہ اس قدر جری اور بےشرم ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ایسے منعم کے بارے میں گستاخی کرتا ہے ۔ پھر اس شخص کا یہ مجادلہ اور یہ انکار کسی علم سائنس پر بھی مبنی نہیں ہے ۔ محض جہالت پر مبنی ہے۔ پھر ایسے شخص کے پاس نہ کوئی کتابی ثبوت ہے اور نہ دلیل منیر ہے ۔

آیت 20 اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ”تم لوگ غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی ساری مخلوق کو تمہاری خدمت کرنے اور تمہیں سہولیات بہم پہنچانے پر مامور کردیا ہے۔ مثلاً سورج کو دیکھو جو تمہارے لیے تمازت اور روشنی مہیا کرتا ہے۔ اسی سے ہواؤں اور بارشوں کا نظام ترتیب پاتا ہے اور زمین پر فصلوں اور پھلوں کی پرورش ممکن ہوتی ہے۔ زمین کو دیکھو جسے اللہ تعالیٰ نے ایک بچھونے کی طرح بچھا کر تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے اور یوں تمہاری تمام ضرورتیں پوری کرنے کا اہتمام کیا ہے۔وَاَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃً ط ”اللہ کی ان نعمتوں سے ہم دن رات مستفیض ہو رہے ہیں۔ ان میں سے کئی نعمتیں تو ایسی ہیں جنہیں ہم دیکھتے بھی ہیں اور محسوس بھی کرتے ہیں مگر اس کی بیشمار نعمتوں کے بارے میں ہمیں کبھی احساس بھی نہیں ہوا۔ مثلاً ہمارے وجود کے اندر اللہ کی قدرت سے کیسے کیسے نظام خود بخود مصروف عمل ہیں ‘ لیکن عام طور پر ہمیں ان کے بارے میں احساس نہیں ہوتا۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلَا ہُدًی وَّلَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ”اس سے پہلے یہ مضمون سورة الحج کی آیت 3 میں بھی بالکل انہی الفاظ میں آچکا ہے۔ ایسے لوگ اللہ کی ذات ‘ اس کی آیات اور اس کے احکام کے بارے میں طرح طرح کے سوالات اٹھاتے ہیں ‘ منفی انداز میں بحث وتمحیص کرتے ہیں ‘ لیکن اس کے بارے میں ان کے پاس نہ تو کوئی علمی دلیل ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی الہامی ثبوت۔

انعام و اکرام کی بارش اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لئے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لئے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں۔ پھر ان ظاہری بیشمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بیشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کا نازل فرمانا شک وشبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔ اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بےحیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بےراہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔

آیت 20 - سورہ لقمان: (ألم تروا أن الله سخر لكم ما في السماوات وما في الأرض وأسبغ عليكم نعمه ظاهرة وباطنة ۗ ومن الناس...) - اردو