سورہ لقمان: آیت 27 - ولو أنما في الأرض من... - اردو

آیت 27 کی تفسیر, سورہ لقمان

وَلَوْ أَنَّمَا فِى ٱلْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَٰمٌ وَٱلْبَحْرُ يَمُدُّهُۥ مِنۢ بَعْدِهِۦ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَٰتُ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اردو ترجمہ

زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے) ختم نہ ہوں گی بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaw annama fee alardi min shajaratin aqlamun waalbahru yamudduhu min baAAdihi sabAAatu abhurin ma nafidat kalimatu Allahi inna Allaha AAazeezun hakeemun

آیت 27 کی تفسیر

ولو ان ما فی الارض ۔۔۔۔۔۔۔ ان اللہ سمیع بصیر (27 – 28)

یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسانوں کی معلومات اور ان کے محدود مشاہدات سے لیا گیا ہے تاکہ اللہ کی مشیت کے لامحدود کارناموں کو ان کے تصور کے قریب کردیا جائے۔ اس تمثیل اور مجسم انداز کے بغیر انسانی تصور اس کا ادراک ہی نہیں کرسکتا تھا۔

انسان اپنے علم کو لکھتے ہیں اور اپنے اقوال کا ریکارڈ کرتے ہیں ، اپنے احکام کو نافذ کرتے ہیں اور قلموں کے ذریعے وہ لکھتے ہیں۔ یہ قلمیں جنگلوں اور کلک سے بناتے ہیں اور پھر سیاسی بنا کر اس سے لکھتے ہیں۔ یہ سیاہی ایک شیشی یا ایک دوات میں ہوتی ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ پوری زمین کے درختوں سے قلمیں بنا دی جائیں اور تمام سمندروں کے پانی کو سیاہی میں بدل دیا جائے اور ان جیسے سات اور سمندر بھی لے آئے جائیں اور لکھنے والے بیٹھ جائیں۔ اللہ کے نئے نئے کلمات جو اللہ کے علم پر دلالت کرتے ہوں تو یہ سب سمندروں کی روشنائی ختم ہوجائے اور اللہ کے کلمات علمیہ ختم نہ ہوں اور اللہ کے علم کی انتہا نہ ہو۔ اس لیے کہ ایک محدود قوت لا محدود کو احاطہ میں لانا چاہتی ہے۔ محدود قوت جس قدر بھی آگے جائے ، بہرحال اس کی قوت ایک جگہ جاکر ختم ہوجاتی ہے اور لامحدود و غیر محیط ہی رہتا ہے۔ غرض اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوتے کیونکہ اللہ کا علم لامحدود ہے۔ اللہ کا ارادہ کسی سرحد پر نہیں رکتا۔ اور اللہ کی مشیت کے حدود وقیود نہیں ہیں۔

درخت اور سمندر غائب ہوجاتے ہیں ۔ تمام زندہ چیزیں اور تمام مردہ چیزیں غائب ہو کر ختم ہوجاتی ہیں۔ تمام حالات اور صورتیں پس پردہ چلی جاتی ہیں اور انسانی دل ، اللہ کے جلال اور قدرت کے سامنے سہما ہوا رہ جاتا ہے۔ وہ قدرت جو نہ پھرتی ہے ، نہ بدلتی ہے اور نہ غائب ہوتی ہے۔ اللہ خالق اور قوی اور مدبر اور حکیم کے سامنے انسان دنگ رہ جاتا ہے۔

ان اللہ عزیز حکیم (31: 27) ” بیشک اللہ زبردست اور حکیم ہے “۔ اس سفر میں ہم ہولناک منظر کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں اور اب انسانی فکر و نظر کی تاروں پر آخری مضراب ! بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے تمام لوگوں کا دوبارہ اٹھانا بہت ہی آسان ہے۔

ما خلقکم ولا بعثکم ۔۔۔۔۔ سمیع بصیر (31: 28) ” تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جلا اٹھانا تو بس ایسا ہی ہے جیسے ایک نفس کو پیدا کرنا اور اٹھانا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ دیکھنے اور سننے والا ہے “۔ وہ ارادہ جس کے متوجہ ہوتے ہی مخلوق پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے برابر ہے کہ وہ ارادہ ایک چیز کی طرف متوجہ ہو یا بیشمار چیزوں کی طرف متوجہ ہو۔ اللہ کے لیے یہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک ایک آدمی کو بناتا پھرے اور ایک ایک آدمی پر محنت کرے۔ اس کے لیے ایک آدمی کا پیدا کرنا اور بیشمار ملین لوگوں کا پیدا کرنا اور ہی طرح کا ہے۔ ایک شخص کا زندہ کرکے اٹھانا اور بیشمار بلین لوگوں کو اٹھانا اللہ کے لیے ایک ہی جیسا ہے۔ اللہ نے تو صرف ایک لفظ کن کہنا ہے۔

انما امرہ اذا ۔۔۔۔۔۔ فیکون ” اس کا حکم ، جب وہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے ، تو یہ ہوتا ہے کہ اسے کہہ دے کہ ہوجا ، بس وہ ہوجاتی ہے “۔ اس قدرت ، اس علم ، اور اس مہارت کے ساتھ تخلیق اور بعث بعد الموت اور حساب و کتاب کا عمل سر انجام دیا جائے گا۔ ان اللہ سمیع بصیر (31: 28) ” اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے “۔

اب اس سورة کا تیسرا سفر یا تیسرا راؤنڈ ہے۔ اور اس میں بھی وہی مسئلہ توحید زیر بحث ہے جو پہلے دو اسفار میں تھا۔ فیصلہ ہوتا ہے کہ اللہ حق ہے۔ لوگ جن شرکاء کو پکارتے ہیں وہ باطل ہیں ، عبادت صرف اللہ وحدہ کی چاہئے۔ قیامت کے دن کے بعد جو حساب و کتاب ہوگا اس میں نہ والد اپنی اولاد کا فدیہ دے سکے گا اور یہ ہی بچہ اپنے والدیں کی طرف سے کوئی بدلہ دے سکے گا۔ ان فیصلوں کے ساتھ کئی دوسرے اور جدید ایشوز نہایت موثر انداز میں لیے گئے ہیں۔ یہ سب مسائل بھی اس کائنات کے فریم و رک میں زیر بحث آتے ہیں۔

آیت 27 وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ ”قرآن مجید کے اس اسلوب کی طرف پہلے بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ ضرور دہرائے جاتے ہیں۔ چناچہ یہی مضمون سورة الکہف میں اس طرح بیان ہوا ہے : قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِءْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ اگر سمندر سیاہی بن جائے میرے رب کی باتوں کے لکھنے کے لیے تو یقیناً سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں اگرچہ ہم اسی کی طرح اور سمندر بھی مدد کے لیے لے آئیں“۔ سورة الکہف کی اس آیت میں لکھنے کے حوالے سے صرف سیاہی کا ذکر ہے جبکہ یہاں پر سیاہی کے ساتھ قلم کا ذکر بھی ہوا ہے۔ وَّالْبَحْرُیَمُدُّہٗ مِنْم بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ ”یہاں پر الْبَحْرکے بعد مِدَاد سیاہی کا لفظ محذوف ہے۔ بہر حال مفہوم واضح ہے کہ اگر زمین پر موجود سب کے سب درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی بن جائے اور پھر مزید سات سمندروں کا پانی بھی سیاہی بن کر اس میں شامل ہوجائے تب بھی :مَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللّٰہِط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ”قبل ازیں کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ کائنات کی ہرچیز اللہ کے کلمہ ”کُن“ کا ظہور ہے۔ اس لحاظ سے اللہ کی تمام مخلوقات گویا ”کلمات اللہ“ ہیں جن کا شمار ممکن ہی نہیں۔ پرانے زمانے کے مقابلے میں آج کا انسان اس کائنات کی وسعت کے بارے میں بہتر طور پر جانتا ہے۔ آج کے سائنسدان اربوں نوری سالوں کی وسعت تک کائنات کا مشاہدہ کرسکتے ہیں مگر اس سب کچھ کے باوجود بھی وہ کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کی وسعت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ چناچہ جس کائنات کی وسعت کا اندازہ لگانا کسی کے بس کی بات نہیں ‘ اس میں موجود مخلوق یعنی اللہ کے کلمات وصفات کو احاطۂ تحریر میں لانا کسی کے لیے کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔

حمد و ثنا کا حق ادا کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں اللہ رب العلمین اپنی عزت کبریائی بڑائی جلالت اور شان بیان فرما رہا ہے اپنی پاک صفتیں اپنے بلند ترین نام اور اپنے بیشمار کلمات کا ذکر فرما رہا ہے جنہیں نہ کوئی گن سکے نہ شمار کرسکے نہ ان پر کسی کا احاطہ ہو نہ ان کی حقیقت کو کوئی پاسکے۔ سید البشر ختم الانبیاء ﷺ فرمایا کرتے تھے (لا احصی ثناء علیک کما اثنیت علی نفسک) اے اللہ میں تیری تعریفوں کا اتنا شمار بھی نہیں کرسکتا جتنی ثناء تو نے اپنے آپ فرمائی ہے۔ پس یہاں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ اگر روئے زمین کے تمام تر درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر کے پانی سیاہی بن جائیں اور ان کیساتھ ہی سات سمندر اور بھی ملالئے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت وصفات جلالت و بزرگی کے کلمات لکھنے شروع کئے جائیں تو یہ تمام قلمیں گھس جائیں ختم ہوجائیں سب سیاہیاں پوری ہوجائیں ختم ہوجائیں لیکن اللہ وحدہ لاشریک لہ کی تعریفیں ختم نہ ہوں۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر ہوں تو پھر اللہ کے پورے کلمات لکھنے کے لئے کافی ہوجائیں۔ نہیں یہ گنتی تو زیادتی دکھانے کے لئے ہے۔ اور یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر موجود ہیں اور وہ عالم کو گھیرے ہوئے ہیں البتہ بنواسرائیل کی ان سات سمندروں کی بات ایسی روایتیں ہیں لیکن نہ تو انہیں سچ کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی جھٹلایا جاسکتا ہے۔ ہاں جو تفسیر ہم نے کہ ہے اسکی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے (قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا01009) 18۔ الكهف :109) یعنی اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور رب کے کلمات کا لکھنا شروع ہو تو کلمات اللہ کے ختم ہونے سے پہلے ہی سمندر ختم ہوجائیں اگرچہ ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد میں لائیں۔ پس یہاں بھی مراد صرف اسی جیسا ایک ہی سمندر لانا نہیں بلکہ ویسا ایک پھر ایک اور بھی ویسا ہی پھر ویسا ہی پھر ویساہی الغرض خواہ کتنے ہی آجائیں لیکن اللہ کی باتیں ختم نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ لکھوانا شروع کرے کہ میرا یہ امر اور یہ امر تو تمام قلمیں ٹوٹ جائیں اور تمام سمندروں کے پانی ختم ہوجائیں۔ مشرکین کہتے تھے کہ یہ کلام اب ختم ہوجائے گا جس کی تردید اس آیت میں ہورہی ہے کہ نہ رب کے عجائبات ختم ہوں نہ اس کی حکمت کی انتہا نہ اس کی صفت اور اس کے علم کا آخر۔ تمام بندوں کے علم اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ۔ اللہ کی باتیں فنا نہیں ہوتیں نہ اسے کوئی ادراک کرسکتا ہے۔ ہم جو کچھ اس کی تعریفیں کریں وہ ان سے سوا ہے۔ یہود کے علماء نے مدینے میں رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ یہ جو آپ قرآن میں پڑھتے ہیں آیت (وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا 85؀) 17۔ الإسراء :85) یعنی تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے ہم یا آپ کی قوم ؟ آپ نے فرمایا ہاں سب۔ انہوں نے کہا پھر آپ کلام اللہ شریف کی اس آیت کو کیا کریں گے جہاں فرمان ہے کہ توراۃ میں ہر چیز کا بیان ہے۔ آپ نے فرمایا سنو وہ اور تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کے کلمات کے مقابلہ میں بہت کم ہے تمہیں کفایت ہو اتنا اللہ تعالیٰ نے نازل فرمادیا ہے۔ اس پر آیت اتری۔ لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہونی چاہئے حالانکہ مشہور یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے تمام اشیاء اس کے سامنے پست وعاجز ہیں کوئی اس کے ارادے کے خلاف نہیں جاسکتا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا اس کی منشاء کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ اپنے افعال اقوال شریعت حکمت اور تمام صفتوں میں سب سے اعلی غالب وقہار ہے۔ پھر فرماتا ہے تمام لوگوں کا پیدا کرنا اور انہیں مار ڈالنے کے بعد زندہ کردینا مجھ پر ایسا ہی آسان ہے جیسے کہ ایک شخص کو مارنا اور پیدا کرنا۔ اس کا تو کسی بات کو حکم فرمادینا کافی ہے۔ ایک آنکھ جھپکانے جتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ نہ دوبارہ کہنا پڑے نہ اسباب اور مادے کی ضرورت۔ ایک فرمان میں قیامت قائم ہوجائے گی ایک ہی آواز کیساتھ سب جی اٹھیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام باتوں کا سننے والا ہے سب کے کاموں کا جاننے والا ہے۔ ایک شخص کی باتیں اور اس کے کام جیسے اس پر مخفی نہیں اسی طرح تمام جہان کے معاملات اس سے پوشیدہ نہیں۔

آیت 27 - سورہ لقمان: (ولو أنما في الأرض من شجرة أقلام والبحر يمده من بعده سبعة أبحر ما نفدت كلمات الله ۗ إن الله...) - اردو