الم تر ان اللہ ۔۔۔۔۔۔ وان اللہ ھو العلی الکبیر (29 – 30)
رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا ، ان کا باہم متضاد ہونا اور مختلف موسموں میں ان کا لمبا اور چھوٹا ہونا ایک عجیب منظر ہے۔ لیکن سالوں سے اسے دیکھتے چلے جانا اور بار بار ایسا ہونا انسانوں کو اس سے مانوس کردیتا ہے اور اکثریت اس اعجوبے کو دیکھتے ہوئے بھی اس کو محسوس نہیں کرتی۔ حالانکہ وہ نہایت ہی باریکی کے ساتھ اور کڑے نظم کے ساتھ واقعہ ہو رہا ہے اور اس میں سیکنڈ کا فرق بھی نہیں آتا۔ اس میں کوئی خلل نہیں آتا۔ کبھی ایک بار بھی۔ یہ مسلسل دوران زمین اور دوران کر ات ، جس میں کوئی کرہ اپنے مدار سے نہ ادھر ادھر ہوتا ہے اور نہ رکھتا ہے۔ ایک عظیم اعجوبہ ہے۔ صرف اللہ وحدہ کی ذات ہی اس قسم کے نظام کو وجود میں لاسکتی ہے اور چلا سکتی ہے اور حفاظت سے رکھ سکتی ہے۔ اس حقیقت کا ادراک صرف افلاک سماوی اور کر ات فلکی کے مدارات ہی کے مشاہدے سے ہوجاتا ہے۔
رات اور دن کے اس تغیر کا تعلق شمس و قمر کے دوران سے بھی واضح ہے۔ شمس و قمر کو مسخر کرکے فضا میں رکھتا ، روز و شب کے ظہور سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ ان کے لمبے چھوٹے ہونے سے بھی زیادہ عجیب۔ اس عظیم نظام کو صرف اللہ ہی مسخر کرسکتا ہے جو مدبر وخبیر ہے ، وہی ہے جو ان چیزوں کو وقت معلوم تک صحیح اندازے سے چلا سکتا ہے۔ رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا تو اس پوری کائنات کا ایک معمولی حصہ ہے۔ شمس و قمر کی تسخیر بھی ایک واضح حقیقت ہے ، شمس و قمر کی اہمیت ایک عام آدمی کے لیے یہ ہے کہ یہ دونوں اجرام فلکی انسان کے سامنے اور قریب ہیں ورنہ کائنات میں تو یہ بھی ذرے اور حقیر ذرے ہی ہیں۔ اس عظیم علم اور انتظام کے بعد پھر :
ان اللہ بما تعملون خبیر (31: 29) ” جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے “۔ یہ تو ایک معمولی سی بات ہے۔ ان کائناتی حقائق کے بعد یہ غیبی حقیقت بہت ہی چھوٹی ہے اور اللہ کے لیے اس کا کرنا مشکل نہیں۔ یہ دونوں حقائق باہم مربوط ہیں۔ گردش لیل و نہار ، تسخیر و شمس و قمر اور اللہ کے علیم وخبیر ہونا ، ان تین حقائق کے بعد ایک عظیم حقیقت بیان کی جاتی ہے جس کے اوپر ان تینوں حقائق کا دارومدار ہے اور اس عظیم حقیقت کو اس سفر میں بیان کیا گیا ہے اور اس کے لیے یہ دلیل دی گئی ہے۔
ذلک بان اللہ ھو الحق ۔۔۔۔۔۔ العلی الکبیر (31: 30) ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اسے چھوڑ کر جن دوسری چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں ، وہ سب باطل ہیں ، اور (اس وجہ سے کہ) اللہ ہی بزرگ و برتر ہے “۔ ” یہ “ یعنی یہ نظام کائنات جو بہت ہی پیچیدہ ، باریک دائم ، ثابت اور نہایت ہی ہم آہنگ ہے۔ یہ نظام اس لیے قائم ہے کہ اللہ حق ہے اور اللہ کے سوا تمام دوسرے معبود الٰہ باطل ہیں ۔ یہ نظام کائنات حقیقت کبریٰ کی وجہ سے قائم ہے اور حقیقت کبریٰ اللہ واجب الوجود ہے جس کی وجہ سے یہ پورا وجود قائم ہے۔ چونکہ یہ کائنات قائم ہے ، لہٰذا اللہ حق ہے اور تبھی یہ کائنات قائم ہے۔ وہی اسے قائم کرتا ہے۔ چلاتا ہے ، حفاظت کرتا ہے اور تدبیر کرتا ہے۔ وہی ہے جو اس کائنات کے قائم رہنے کی ضمانت ہے “ وہی اس کے قرار ربط اور نظم کا سبب ہے۔
ذلک بان اللہ ھو الحق (31: 30) ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے “۔ اللہ کے سوا ہر چیز متغیر اور متبدل ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز اپنا رخ بدلتی ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز میں زیادتی اور نقصان واقع ہوتا ہے۔ اس کے اوپر ضعف اور قوت ، جوانی اور بڑھاپا ، عروج وزوال ، اقبال و ادبار آتا ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز نہ تھی نہ ہوئی نہ تھی اور نہ ہوگی۔ یہ صرف اللہ ہی ہے جو قائم و دائم ہے۔ اور اس پر کوئی تغیر ، تبدل اور زوال نہیں آتا۔ نفس انسانی کے اندر ایک چیز رہتی ہے اور وہ یہ کہ اللہ کا یہ قول۔
ذلک بان اللہ ھو الحق (31: 30) کی پوری مراد ہم الفاظ میں منتقل نہیں کرسکے۔ اس کا ایک مفہوم ہے اور اس کو محسوس کیا جاتا ہے لیکن میرے لیے اسے الفاظ میں لانا مشکل ہے۔ اسی طرح یہ تعبیر ان اللہ ھو العلی الکبیر (31: 30) اس کے سوا کوئی علی اور کبیر نہیں ہے۔ ان تعبیرات کے بارے میں ، میں نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے جس کو میرا پورا وجود پاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ انسانی تعبیرات میں وہ الفاظ نہیں ہیں کہ ان کے ذریعے ان دو فقروں میں پائے جانے والے حقائق کا اظہار کیا جاسکے۔ یہ بہت ہی بلند حقائق ہیں۔ اللہ حق ہے ، علی ہے ، کبیر ہے۔ انسانی تعبیرات ان مفاہم کو جو ان فقروں سے محسوس کیے جاسکتے ہیں اور محدود کردیتی ہیں۔ اس لیے صرف قرآن کی تعبیر ہی ان کے لیے کافی ہے۔
اس کائناتی منظر ، عالم بالا کے منظر کے بعد ایک دوسرا منظر جو انسانوں کے تجربے اور مشاہدے میں آتا ہی رہتا رہے ، روز و شب انسان ان کے تجربے سے گزرتے ہیں۔ یہ ایک کشتی ہے جو سمندر کی وسعتوں میں تیر رہی ہے۔ یہ بھی اللہ کے فضل و کرم سے تیر رہی ہے۔ اللہ لوگوں کو اس منظر میں ایک خطرناک حالت کے ساتھ کھڑا کردیتے ہیں۔ ایسے مناظر سے اکثر مخاطبین خود گزر چکے ہیں۔ یہ ایک فطری سفر ہے ۔ اس میں انسان قدرت اور قدرتی قوتوں کے اندر گھرا ہوتا ہے۔ اس کے پاس کوئی قوت ، کوئی مقابلہ ، کوئی گرفت اور کوئی غرور نہیں ہوتا۔ جب انسان اس کشتی میں سفر کر رہا ہوتا ہے اور سمندر کی گہرائیوں میں ہوتا ہے۔
آیت 29 اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ ”اس مفہوم کے اعتبار سے اس کی مثال تسبیح کے دانوں کی سی ہے ‘ یعنی قدرت الٰہی سے دن اور رات کی ترتیب ایک ڈوری میں پروئے گئے سیاہ اور سفید رنگ کے دانوں کی سی ہے کہ ایک سیاہ اور ایک سفید دانہ باری باری چلے آ رہے ہیں۔ ان الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں۔ یعنی دن جب گھٹتا ہے تو رات اس کے کچھ حصے پر قابض ہوجاتی ہے گویا وہ اس میں داخل ہوجاتی ہے۔ اور اسی طرح جب رات گھٹتی ہے تو اس کے کچھ حصے پر دن قبضہ encroachment کرلیتا ہے۔
اس کے سامنے پر چیز حقیر وپست ہے رات کو کچھ گھٹا کر دن کو کچھ بڑھانے والا اور دن کو کچھ گھٹاکر رات کو کچھ بڑھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جاڑوں کے دن چھوٹے اور راتیں بڑی گرمیوں کے دن بڑے اور راتیں چھوٹی اسی کی قدرت کا ظہور ہے سورج چاند اسی کے تحت فرمان ہیں۔ جو جگہ مقرر ہے وہیں چلتے ہیں قیامت تک برابر اسی چال چلتے رہیں گے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہوسکتے۔ بخاری ومسلم میں ہے حضور ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے دریافت کیا کہ جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ نے فرمایا یہ جاکر اللہ کے عرش کے نیچے سجدے میں گرپڑتا ہے اور اپنے رب سے اجازت چاہتا ہے قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سورج بمنزلہ ساقیہ کے ہے دن کو اپنے دوران میں جاری رہتا ہے غروب ہو کر رات کو پھر زمین کے نیچے گردش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے جیسے فرمان ہے کیا تو نہیں جانتا کہ زمین آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کے علم میں ہے سب کا خالق سب کا عالم اللہ ہی ہے جیسے ارشاد ہے اللہ نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کے مثال زمینیں بنائیں۔ یہ نشانیاں پروردگار عالم اس لئے ظاہر فرماتا ہے کہ تم ان سے اللہ کے حق وجود پر ایمان لاؤ اور اسکے سوا سب کو باطل مانو۔ وہ سب سے بےنیاز اور بےپرواہ ہے سب کے سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ سب اس کی مخلوق اور اس کے غلام ہیں۔ کسی کو ایک ذرے کے حرکت میں لانے کی قدرت نہیں۔ گو ساری مخلوق مل کر ارادہ کرلے کہ ایک مکھی پیدا کریں سب عاجز آجائیں گے اور ہرگز اتنی قدرت بھی نہ پائیں گے۔ وہ سب سے بلند ہے جس پر کوئی چیز نہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے جس کے سامنے کسی کو کوئی بڑائی نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے حقیر اور پست ہے۔