اور جب (سمندر میں) اِن لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اسی کے لیے خالص کر کے، پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے، اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدّار اور ناشکرا ہے
انگریزی ٹرانسلیٹریشن
Waitha ghashiyahum mawjun kaalththulali daAAawoo Allaha mukhliseena lahu alddeena falamma najjahum ila albarri faminhum muqtasidun wama yajhadu biayatina illa kullu khattarin kafoorin
آیت 32 کی تفسیر
آیت 32 وَاِذَا غَشِیَہُمْ مَّوْجٌ کَالظُّلَلِ ”بحری سفر کے دوران جب کبھی یہ لوگ طوفان میں پھنس جاتے ہیں اور سائبانوں کی طرح پھیلی ہوئی موجیں انہیں اپنی طرف ایسے بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جیسے کہ وہ ان کے اوپر سے گزر جائیں گی۔فَلَمَّا نَجّٰٹہُمْ اِلَی الْبَرِّ فَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ ط ”یعنی ان میں سے اکثر و بیشتر توحید خالص سے برگشتہ ہو کر پھر شرک کی راہ اختیار کرلیتے ہیں۔