یآبت انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صراطا سویا (91 : 34) ” ابا جان ‘ میرے پاس ایک ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ‘ آپ میرے پیچھے چلیں ‘ میں آپ کو سیدھا راستہ دکھائوں گا “۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک والد اپنے ہدایت یافتہ بیٹے کے پیچھے چلے ‘ اگر ایک بیٹا نبی ہو اور اس کا اعلیٰ ذریعہ علم سے رابطہ ہو۔ اس صورت میں والد بیٹے کی نہیں بلکہ اس اعلیٰ شرچشمے کی اطاعت کر رہا ہوتا ہے اور ہدایت یافتہ ہوجاتا ہے۔
اس وضاحت کے بعد کہ بتوں کی بندگی کرنا ایک منکر فعل ہے اور یہ کہ میری دعوت کا سرچشمہ ذات باری ہے جبکہ والد جس موقف کو اپنائے ہوئے ہیں اس کا سرچشمہ کچھ اور ہے اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صراحت کے ساتھ بتاتے ہیں کہ والد صاحب ‘ آپ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ شیطان کی راہ ہے ‘ جبکہ میں جس راہ کی طرف آپ کو بلارہا ہوں وہ رحمن کی راہ ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اے باپ ‘ آپ پر اللہ کا غضب نازل نہ ہوجائے اور آپ اور آپ ہمیشہ کے لئے شیطان کے پیروکاروں میں شامل ہوجائیں۔
آیت 43 یٰٓاَبَتِ اِنِّیْ قَدْجَآءَ نِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِکَ ”مجھے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی حقائق سے آگاہ کیا ہے۔ میرے پاس وہ ہدایت آئی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان سے ان الفاظ میں وعدہ فرمایا تھا : فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ہُدًی۔۔ البقرہ : 38۔فَاتَّبِعْنِیْٓ اَہْدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا ”آپ میرا کہنامانیے ‘ میرے پیچھے چلئے ‘ میں یقیناً سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا۔