سورہ مریم: آیت 51 - واذكر في الكتاب موسى ۚ... - اردو

آیت 51 کی تفسیر, سورہ مریم

وَٱذْكُرْ فِى ٱلْكِتَٰبِ مُوسَىٰٓ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ مُخْلَصًا وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا

اردو ترجمہ

اور ذکر کرو اس کتاب میں موسیٰؑ کا وہ ایک چیدہ شخص تھا اور رسول نبی تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waothkur fee alkitabi moosa innahu kana mukhlasan wakana rasoolan nabiyyan

آیت 51 کی تفسیر

حضرت موسیٰ ؐ کی صفت اخلاص کا ذکر ہے ‘ اللہ نے ان کو اپنے لئے خالص کرلیا تھا ‘ دعوت اسلامی کے لیے وہ وقف تھے ۔ وہ رسول اور نبی تھے ‘ رسول وہ ہوتا ہے کہ جن کے لئے یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ اس دعوت کو دوسروں تک پہنچائیں۔ جبکہ نبی کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں تک دعوت پہنچائیں ‘ ان کا منصب یہ ہوتا ہے کہ وہ براہ راست اللہ سے ہدایت اور نظریہ لیتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں بہت سے نبی گزرے ہیں ‘ ان کی دعوت یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کی دعوت اور دین کو قائم کریں۔ تورات کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کریں ‘ جو اللہ کی جانب سے آیا ہوا قانون ہے۔

یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا والربانیون والا حبار بما استحفظوا من کتب اللہ وکانوا علیہ شھداء یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت یوں دی جاتی ہے کہ طور ایمن کی جانب سے اللہ نے ان سے کلام کیا۔ ایمن یعنی دائیں جانب سے یہ حضرت موسیٰ کے موقف کے اعتبار سے دایاں کہا۔ حضرت موسیٰ ؐ اللہ کے اس قدر مقرب بندے تھے کہ انہوں نے قریب سے اللہ کے ساتھ کلام کیا اور یہ کلام مناجات کی صورت میں تھا۔ ہمیں اس کلام کی کیفیت کا علم نہیں ہے ‘ نہ ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ اس کلام کا ادراک حضرت موسیٰ ﷺ نے کیسے کیا۔ یہ کوئی آواز تھی جسے کان سن رہے تھے ‘ یا یہ کوئی ایسی چیز تھی جو پورے جسد موسیٰ ؐ میں ڈال دی جاتی تھی۔ یہ بھی ہم نہیں جانتے کہ حضرت موسیٰ کی شخصیت کو اس ازلی کلام کی وصولی کے لئے کس طرح تیار کیا گیا ۔ ہمارا ایمان فقط یہ ہے کہ ایسا ہوا۔ اللہ کے لئے ہر چیز آسان ہے اور یہ بھی کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے ساتھ کسی نہ کسی طرح ڈائریکٹ رابطہ کرے۔ انسان اپنی بشریت پر قائم ہو ‘ اور اللہ کا کلام علوی اپنی علویت پر قائم ہو اور رابطہ ہوجائے۔ آخر اس سے قبل بھی انسان اللہ کی جانب سے روح پھونکنے ہی سے انسان بنا۔

پھر اللہ حضرت موسیٰ پر اپنی اس رحمت کا بھی ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ نے ان کو ان کے مطالبے پر ایک معاون اور مدد گار کے طور پر ہارون دیا۔

واخی ہارون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکذبون (82 : 43) ” اے اللہ ‘ میرے بھائی ہارون کو جو مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے ‘ بھی میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج دے ‘ وہ میری تصدیق کرے گا ‘ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تکذیب کردیں گے “۔ اور ہارون کو اللہ کی رحمت نے ان کا ساتھی بنا دیا۔ اس پوری سورة میں رحمت ہی رحمت ہے۔

اب اولاد ابراہیم کی دوسری شاخ کو لیا جاتا ہے یعنی عربوں کے باپ اسماعیل کو۔

آیت 51 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ مُوْسٰٓیز اِنَّہٗ کَانَ مُخْلَصًا وَّکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا ”ہم نے انہیں خاص اپنا بنا لیا تھا۔ یہ مضمون سورة طٰہٰ آیت 41 میں بھی آئے گا۔

خلوص ابراہیم ؑ۔اپنے خلیل ؑ کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم ؑ کا بیان فرماتا ہے۔ مُخلَصاً کی دوسری قرأت مُخلِصاً بھی ہے۔ یعنی وہ بااخلاص عبات کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ ؑ سے دریافت کیا کہ اے روح اللہ ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو محض اللہ کے لئے عمل کرے اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔ دوسری قرأت میں مخلصا ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے حضرت موسیٰ ؑ جیسے فرمان باری ہے (اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ ہیں یعنی، نوح، ابراہیم، موسیٰ ، عیسیٰ ، اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ہم نے انہیں مبارک پہاڑطور کی دائیں جانب سے آواز دی سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کرلیا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔ ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں اس قدر قریب ہوگئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی کہتے ہیں آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ اے موسیٰ جب کہ میں ترے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی۔ اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی۔ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لئے ان کے ساتھ کردیا جیسے کہ آپ کی چاہت اور دعا تھی۔ فرمایا تھا (وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ 34؀) 28۔ القصص :34) ، اور آیت میں ہے (قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى 36۔) 20۔ طه :36) موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کردیا۔ آپ کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں (فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ 13؀) 26۔ الشعراء :13) ، ہارون کو بھی رسول بنا الخ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ حضرت ہارون حضرت موسیٰ ؑ سے بڑے تھے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھما۔

آیت 51 - سورہ مریم: (واذكر في الكتاب موسى ۚ إنه كان مخلصا وكان رسولا نبيا...) - اردو