ونرثہ مایقول (91 : 08) ” جس سرو سامان اور لائو لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا “۔ یہ جو مال واولاد چھوڑے گا اسے ہم اس طرح لے لیں گے جس طرح وارث اپنی موروثہ اشیاء کو لے لیتا ہے۔
ویاتینا فردا (91 : 08) ” یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا “۔ اس کے پاس نہ مال ہوگا ‘ نہ اولاد ہوگی اور نہ کوئی مدد گار ہوگا ‘ نہ کوئی سند و ثبوت ہوگا۔ یہ اکیلا ‘ ضعیف و ناتواں ہمارے سامنے ہوگا۔ تو کیا تو نے ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتا ہے ‘ وہ اس دن کے ساتھمذاق کرتا ہے جس دن یہ تہی دست ہوگا۔ اس دنیا میں اس کے تمام مملوکات اس کے ہاتھ سے چلے جائیں گے۔ یہ شخص ہے نمونہ کفر اور مثال کفار ‘ انکار ‘ اوعا اور گمراہی کی مثال ۔ اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ کفر اور شرک کی علامات کیا ہیں۔
آیت 80 وَنَرِثُہٗ مَا یَقوْلُ وَیَاْتِیْنَا فَرْدًا ”اس کا دنیوی مال و متاع تو سب ہماری وراثت میں آجائے گا اور جب اسے ہماری عدالت میں پیش ہونے کے لیے لایا جائے گا تو وہ بالکل یکہ و تنہا ہوگا۔ مال و اولاد ‘ خدم و حشم ‘ قوم و قبیلہ ‘ ہم مشرب و حاشیہ نشین وغیرہ میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔