سورہ محمد: آیت 20 - ويقول الذين آمنوا لولا نزلت... - اردو

آیت 20 کی تفسیر, سورہ محمد

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا ٱلْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ ٱلْمَغْشِىِّ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُمْ

اردو ترجمہ

جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی (جس میں جنگ کا حکم دیا جائے) مگر جب ایک محکم سورت نازل کر دی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو افسوس اُن کے حال پر

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayaqoolu allatheena amanoo lawla nuzzilat sooratun faitha onzilat sooratun muhkamatun wathukira feeha alqitalu raayta allatheena fee quloobihim maradun yanthuroona ilayka nathara almaghshiyyi AAalayhi mina almawti faawla lahum

آیت 20 کی تفسیر

اب روئے سخن ایک نہایت ہی حساس موقف کی طرف آتا ہے۔ اس وقت تک پالیسی یہ تھی کہ جہاد و قتال سے رکو لیکن اب اللہ نے جہاد کا حکم دے دیا۔ یہ منافقین پر ایک ضرب تھی۔ وہ سخت دہشت زدہ ہوگئے کیونکہ اب تو ان کے لئے چھپ کر رہنا مشکل ہوگیا تھا۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ اب اگر وہ نفاق پر رہے اور اخلاص کے ساتھ اسلام قبول نہ کیا تو ان کا اندرون ظاہر ہوجائے گا ۔ کیونکہ جب جہاد کا فیصلہ ہوگا تو جنگ میں جانا ہوگا یا پیچھے رہنا ہوگا۔

ویقول الذین امنوا لو لا ۔۔۔۔۔۔ فاولی لھم (20) طاعۃ وقول معروف ۔۔۔۔۔۔ خیرا لھم (21) فھل عسیتم ۔۔۔۔۔ ارحامکم (22) اولئک الذین لعنھم ۔۔۔۔۔ ابصارھم (23) افلا یتدبرون ۔۔۔۔۔۔ اقفالھا (24) ( 47 : 20 – 24) “ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی جاتی (جس میں جنگ کا حکم دیا جائے) مگر جب ایک پختہ سورت نازل کردی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو۔ ان کے لئے بہتر یہ ہے کہ اطاعت کریں اور صحیح باتیں کریں۔ مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سچے نکلتے تو انہی کے لئے اچھا تھا۔ اب کیا تم لوگوں سے اس کے سوا کچھ اور توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھرگئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے ؟ یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرہ بنا دیا۔ کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا ، یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ؟ ”

اہل ایمان ، کسی نئی سورت کے نزول کا مطالبہ کرتے تھے ، یا تو اس لئے کہ ان کے دلوں میں ہر وقت یہ شوق رہتا تھا کہ وہ نئی نئی ہدایات لیتے رہیں۔ کیونکہ ان کو قرآن سے بےحد محبت تھی۔ وہ ہر نئی سورت میں علم و انس کا ایک نیا سامان اپنے لیے پاتے تھے۔ اور اس سے سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ نئے حالات میں مسلمان جہاد فی سبیل اللہ کی ہدایات اور اجازت چاہتے تھے کہ اسلام کے لئے لڑ مرنے کی ہدایات ان کو دی جائیں۔

لو لا نزلت سورة (47 : 20) “ کوئی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی ”۔

فاذا انزلت سورة محکمۃ (47 : 20) “ جس میں جنگ کا ذکر کیا گیا ”۔ جس میں پھر کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں تھی اور جو لوگ قتال سے پیچھے رہتے ہیں ، یا جہاد کاموں میں پیچھے رہتے ہیں ، ان کی مذمت بھی کردی گئی تو بیمار دلوں والے لوگ یعنی منافقین کی حالت غیر ہونے لگی اور وہ پردے کرنے لگے جن کے پیچھے چھپ کر یہ سازشیں کرتے تھے۔ ان کی جزع و فزع ، شور وفغاں اور سہمے اور ڈرے ہوئے ہونا یہاں تک کہ مارے خوف کے ان پر غشی کا طاری ہونا قابل دید تھا۔ قرآن کریم نے یہاں ان لوگوں کی تصویر یوں کھینچی ہے کہ گویا وہ ہیں سامنے اسکرین پر ۔

رایت الذین فی ۔۔۔۔۔۔ من الموت (47 : 20) “ تو تم نے دیکھا کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو ”۔ یہ اس قدر خوبصورت انداز تعبیر ہے کہ انسان اس کی نقل نہیں اتار سکتا۔ نہ کسی اور عبارت میں نہ کسی اور زبان میں اس طرز تعبیر کو اپنا سکتا ہے۔ خوف و ہراس کی یہ ایسی تصویر ہے کہ کپکی اور خوف سے بھی آگ بڑھ کر ان لوگوں پر گویا غشی کی حالت طاری ہو رہی ہے ۔ اور خیال میں ان لوگوں کی پھر عجیب و غریب حرکات سامنے آتی ہیں۔ اور وہ تمام نفوس و شخصیات کی تصاویر ذہن میں آجاتی ہیں جن کو پختہ ایمان نصیب نہ ہو ، جس کی فطرت سچی نہ ہو اور جن کے اندر اس قدر جذبہ جہاد نہ ہو جس کی وجہ سے وہ خطرے کا مقابلہ کرسکیں۔ یہ لوگ مریض اور منافق ہوتے ہیں۔

یہ لوگ اس قدر ذلت ، گراوٹ اور شخصیت کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں کہ دوبارہ ان کو ایمان کی دعوت از سر نو دی جاتی کہ ایمان ہی حقیقی زاد راہ سے جس سے ارادے جواں ہوتے ہیں اور جس سے پاؤں مضبوط ہوتے ہیں۔

فاولی لھم (47 : 20) طاعۃ وقول ۔۔۔۔۔ خیرا لھم (47 : 21) “ ان کے لئے بہت یہ ہے کہ اطاعت کریں اور صحیح باتیں کریں۔ مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سچے نکلتے تو انہی کے لئے اچھا تھا ”۔ ہاں جس شرمندگی میں وہ مبتلا ہیں اس کے مقابلے میں ان کے لئے یہی اچھا تھا۔ وہ حیران ہیں کہ کیا کریں۔ پریشان ہیں کہ کیا ہوگا۔ اب ان کا نفاق تو چھپ نہ سکے گا۔ ان کے لئے بہتر پالیسی اب یہ ہے ۔

آیت 20 { وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ } ”اور یہ لوگ جو ایمان کے دعویدار ہیں ‘ کہتے ہیں کہ قتال کے بارے میں کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوئی ؟“ زیر مطالعہ مضمون کے حوالے سے اس سورت کی یہ آیت خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ ہجرت کے فوراً بعد رسول اللہ ﷺ نے مدینہ سے باہر قریش مکہ کے خلاف مہمات بھیجنا شروع کردیں۔ غزوہ بدر سے پہلے ایسی آٹھ مہمات کا بھیجا جانا تاریخ سے ثابت ہے۔ ان میں سے چار مہمات کا شمار تو غزوات میں ہوتا ہے کہ ان میں حضور ﷺ خود بھی تشریف لے گئے تھے۔ ان مہمات کے ذریعے سے آپ ﷺ نے خصوصی طور پر مندرجہ ذیل دو مقاصد حاصل کیے : الف : مکہ کی تجارتی شاہراہ سے ملحقہ علاقوں میں مسلح دستوں کی نقل و حرکت سے قریش مکہ کو آپ ﷺ نے ایک موثر پیغام پہنچا دیا کہ تمہاری شہ رگ life line اب ہر طرح سے ہمارے قبضہ میں ہے اور ہم جب چاہیں تمہاری مکمل معاشی ناکہ بندی کرسکتے ہیں۔ب : جن علاقوں میں آپ ﷺ نے مہمات بھیجیں یا آپ ﷺ خود تشریف لے گئے وہاں کے اکثر قبائل کو آپ ﷺ نے اپنا حلیف بنا لیا ‘ اور جو قبائل آپ ﷺ کے حلیف نہ بھی بنے انہوں نے قریش مکہ اور مسلمانوں کے تنازعہ میں غیر جانبدار رہنے کے معاہدے کرلیے۔ یوں اس پورے علاقے سے قریش مکہ کا اثر و رسوخ روز بروز کم ہونا شروع ہوگیا اور انہیں جزیرہ نمائے عرب میں صدیوں سے قائم اپنی سیاسی اجارہ داری کی بساط لپٹتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ حضور ﷺ کی طرف سے مذکورہ مہمات کی منصوبہ بندی ابتدائی اقدام initiative کی نئی حکمت عملی کے تحت کی جا رہی تھی۔ قریش مکہ کی طرف سے آپ ﷺ کے قیام مکہ کے دور کی زیادتیاں اپنی جگہ ‘ لیکن ہجرت کے بعد سے اب تک انہوں نے کوئی بھی جارحانہ اقدام نہیں کیا تھا۔ اس وقت تک جارحانہ اقدام سے متعلق قرآن میں بھی کوئی واضح ہدایت نہیں آئی تھی۔ سورة الحج کی آیت 39 میں جو حکم تھا وہ اذن اور اجازت کے درجے میں تھا ‘ اس حکم میں بھی جارحانہ اقدام کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ بلکہ ایک رائے کے مطابق تو اس وقت تک یہ حکم نازل بھی نہیں ہوا تھا ‘ کیونکہ سورة الحج کو بعض لوگ مدنی سورت مانتے ہیں ‘ اور اگر یہ رائے درست ہو تو پھر یہ بھی امکان ہے کہ سورة الحج واقعتا اس دور کے بعد نازل ہوئی ہو۔ دوسری طرف سورة البقرۃ اس وقت تک مکمل نازل ہوچکی تھی اور اس میں قتال کے بارے میں احکام بھی موجود ہیں ‘ مگر وہ احکام زیادہ سے زیادہ اس نوعیت کے ہیں : { وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ } البقرۃ : 190 کہ جو لوگ آپ سے لڑتے ہیں آپ لوگ ان کے خلاف لڑو ! اس پس منظر میں منافقین کی طرف سے حضور ﷺ کے مذکورہ اقدامات کے خلاف ”لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ“ کے اعتراض کا مفہوم بخوبی واضح ہوجاتا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ جب قریش کی طرف سے کوئی حریفانہ اقدام نہیں ہو رہا تو ہماری طرف سے ان کی تجارتی شاہراہ پر چھاپے مار کر اور ان کے قافلوں کا تعاقب کر کے خواہ مخواہ جنگی ماحول پیدا کرنے کا کوئی جواز نہیں ‘ اور اگر یہ اقدامات ایسے ہی ضروری تھے تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کوئی واضح حکم کیوں نازل نہیں کیا ؟ اور اگر قرآن میں ایسا کوئی حکم نازل نہیں ہوا تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ حضور ﷺ خود اپنی مرضی سے یہ مہم جوئی کر رہے ہیں۔ { فَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ مُّحْکَمَۃٌ وَّذُکِرَ فِیْہَا الْقِتَالُ } ”پھر جب ایک محکم سورت نازل کردی گئی اور اس میں قتال کا حکم آگیا“ اس سے مراد زیر مطالعہ سورت یعنی سورة محمد ﷺ ہے اور اس سورت کا دوسرا نام ”سورة القتال“ اسی آیت سے ماخوذ ہے۔ { رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ یَّـنْظُرُوْنَ اِلَـیْکَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ } ”تو اب آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی طرف ایسے دیکھیں گے جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہوتی ہے۔“ { فَاَوْلٰی لَہُمْ } ”تو بربادی ہے ان کے لیے !“ دراصل یہ لوگ قتال سے جی چراتے ہیں۔ قبل ازیں اپنے بچائو کے لیے ان کی دلیل یہ تھی کہ اس بارے میں اللہ کا کوئی واضح حکم نازل نہیں ہوا۔ اب جبکہ اللہ نے قتال کے بارے میں واضح حکم نازل کردیا ہے تو ان کی یہ دلیل ختم ہوگئی ہے۔

ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کردیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَھُمْ كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ 77؀) 4۔ النسآء :77) یعنی کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور کہنے لگے اے ہمارے رب ہم پر تو نے جہاد کیوں فرض کردیا تو نے ہم کو قریب کی مدت تک ڈھیل کیوں نہ دی ؟ تو کہہ کہ دنیا کی متاع بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لئے آخرت بہت ہی بہتر ہے اور تم پر بالکل ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایمان والے تو جہاد کے حکموں کی آیتوں کے نازل ہونے کی تمنا کرتے ہیں لیکن منافق لوگ جب آن آیتوں کو سنتے ہیں تو بوجہ اپنی گبھراہٹ بوکھلاہٹ اور نامردی کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح تجھے دیکھنے لگتے ہیں جیسے موت کی غشی والا۔ پھر انہیں مرد میدان بننے کی رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کے حق میں بہتر تو یہ ہوتا کہ یہ سنتے مانتے اور جب موقعہ آجاتا معرکہ کارزار گرم ہوتا تو نیک نیتی کے ساتھ جہاد کر کے اپنے خلوص کا ثبوت دیتے پھر فرمایا قریب ہے کہ تم جہاد سے رک جاؤ اور اس سے بچنے لگو تو زمین میں فساد کرنے لگو اور صلہ رحمی توڑنے لگو یعنی زمانہ جاہلیت میں جو حالت تمہاری تھی وہی تم میں لوٹ آئے پس فرمایا ایسے لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور یہ رب کی طرف سے بہرے اندھے ہیں۔ اس میں زمین میں فساد کرنے کی عموما اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اصلاح اور صلہ رحمی کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا حکم فرمایا ہے، صلہ رحمی کے معنی ہیں قرابت داروں سے بات چیت میں کام کاج میں، سلوک و احسان کرنا اور ان کی مالی مشکلات میں ان کے کام آنا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح اور حسن حدیثیں مروی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پیدا کرچکا تو رحم کھڑا ہوا اور رحمن سے چمٹ گیا اس سے پوچھا گیا کیا بات ہے ؟ اس نے کہا یہ مقام ہے ٹوٹنے سے تیری پناہ میں آنے کا اس پر اللہ عزوجل نے فرمایا کیا تو اس سے راضی نہیں ؟ کہ تیرے ملانے والے کو میں ملاؤں اور تیرے کاٹنے والے کو میں کاٹ دوں ؟ اس نے کہا ہاں اس پر میں بہت خوش ہوں اس حدیث کو بیان فرما کر پھر راوی حدیث حضرت ابوہریرہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو (فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ 22؀) 47۔ محمد :22) ، اور سند سے ہے کہ خود حضور ﷺ نے فرمایا۔ ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کوئی گناہ اتنا بڑا اور اتنا برا نہیں جس کی بہت جلدی سزا دنیا میں اور پھر اس کی برائی آخرت میں بہت بری پہنچتی ہو بہ نسبت سرکشی بغاوت اور قطع رحمی کے۔ مسند احمد میں ہے جو شخص چاہے کہ اس کی عمر بڑی ہو اور روزی کشادہ وہ وہ صلہ رحمی کرے۔ اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا میرے نزدیکی قرابت دار مجھ سے تعلق توڑتے رہتے ہیں اور میں انہیں معاف کرتا رہتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائیاں کرتے رہتے ہیں تو کیا میں ان سے بدلہ نہ لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اگر ایسا کرو گے تو تم سب کے سب چھوڑ دئیے جاؤ گے، تو صلہ رحمی پر ہی رہ اور یاد رکھ کہ جب تک تو اس پر باقی رہے گا اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ہر وقت معاونت کرنے والا رہے گا۔ بخاری وغیرہ میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے حقیقتًا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو کسی احسان کے بدلے احسان کرے بلکہ صحیح معنی میں رشتے ناطے ملانے والا وہ ہے کہ گو تو اسے کاٹتا جائے وہ تجھ سے جوڑتا جائے۔ مسند احمد میں ہے کہ صلہ رحمی قیامت کے دن رکھی جائے گی اس کی رانیں ہوں مثل ہرن کی رانوں کے وہ بہت صاف اور تیز زبان سے بولے گی پس وہ کاٹ دیا جائے گا جو اسے کاٹتا تھا اور وہ ملایا جائے گا جو اسے ملاتا تھا۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رحم کرنے والوں پر رحمن بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان کی طرف سے ہے اس کے ملانے والے کو اللہ ملاتا ہے اور اس کے توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ خود توڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی بیمار پرسی کے لئے لوگ گئے تو آپ ﷺ فرمانے لگے تم نے صلہ رحمی کی ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے میں رحمن ہوں اور رحم کا نام میں نے اپنے نام پر رکھا ہے اسے جوڑنے والے کو میں جوڑوں گا اور اس کے توڑنے والے کو میں توڑ دوں گا اور حدیث میں ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں روحیں ملی جلی ہیں جو روز ازل میں میل کرچکی ہیں وہ یہاں یگانگت برتتی ہیں اور جن میں وہاں نفرت رہی ہے یہاں بھی دوری رہتی ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں جب زبانی دعوے بڑھ جائیں عملی کام گھٹ جائیں، زبانی میل جول ہو، دلی بغض و عداوت ہو، رشتے دار رشتے دار سے بدسلوکی کرے اس وقت ایسے لوگوں پر لعنت اللہ نازل ہوتی ہے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی کردی جاتی ہیں۔ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ واللہ اعلم۔

آیت 20 - سورہ محمد: (ويقول الذين آمنوا لولا نزلت سورة ۖ فإذا أنزلت سورة محكمة وذكر فيها القتال ۙ رأيت الذين في قلوبهم مرض...) - اردو