قرآن نہایت ہی سرزنش کے انداز میں پوچھتا ہے۔
افلا یتدبرون القران (48 : 24) “ کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے ”۔ یوں کہ ان کی آنکھوں کے پردے زائل ہوجائیں کان سننے لگیں اور ان تک قرآن کے نور کی رسائی ہو ، ان کے پردۂ شعور پر ارتعاش ہو ، ان کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا ہو ، ۔۔۔ ۔ کا ضمیر مخلص ہوجائے اور ان کے اندر ایک ایسی زندگی آجائے جو قرآن کے نور سے منور ہو ، اور وہ اس سے ہدایت اخذ کریں۔
ام علی قلوب اقفالھا (47 : 24) “ یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ”۔ یہ قفل ان کے دلوں تک قرآن کے نور کو جانے نہیں دیتے۔ ان کے دل اس طرح بند ہیں جس طرح دروازے بند ہونے کی صورت میں انسان ، ہوا یا کوئی چیز اندر نہیں جاسکتی اور نہ روشنی جاسکتی ہے۔
منافقین کے حالات ابھی جاری ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد ان کے منہ موڑنے کے اسباب کیا ہیں ؟ ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ یہودی سازش میں شریک ہوگئے ہیں اور انہوں نے ان کو ساتھ وعدہ کرلیا ہے کہ وہ جو سازش تیار کریں گے یہ ان کی اطاعت کریں گے۔
آیت 24 { اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا } ”کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں !“ اگر یہ لوگ قرآن کے احکام پر غور و فکر کرتے اور اس کے بین السطور ّپیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ غلبہ دین کی جدوجہد میں جن جن مراحل سے ان کو سابقہ پڑ رہا ہے ان تمام مراحل کے بارے میں تو انہیں پہلے سے ہی متنبہ کردیا گیا تھا۔ ذرا دیکھیں سورة العنکبوت کی ان آیات میں راہ حق کی آزمائشوں سے متعلق کیسے دو ٹوک انداز میں بتادیا گیا ہے : { اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ } ”کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا !“ { وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ } ”اور ہم نے تو ان کو بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے ‘ چناچہ اللہ ظاہر کر کے رہے گا ان کو جنہوں نے سچ بولا اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں“۔ { وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ } العنکبوت ”اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو ‘ اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی۔“
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ غور و تامل تو کجا، ان کے تو دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں کوئی کلام اس میں اثر ہی نہیں کرتا۔ جائے تو اثر کرے اور جائے کہاں سے جبکہ جانے کی راہ نہ پائے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس حضرت عمر کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے۔ پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہوگئے اور کفر کی طرف لوٹ گئے دراصل شیطان نے اس کار بد کو ان کی نگاہوں میں اچھا دکھا دیا ہے اور انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ دراصل ان کا یہ کفر سزا ہے ان کے اس نفاق کی جو ان کے دل میں تھا جس کی وجہ سے وہ ظاہر کے خلاف اپنا باطن رکھتے تھے۔ کافروں سے مل جل کر انہیں اپنا کرنے کے لئے ان سے باطن میں باطل پر موافقت کر کے کہتے تھے گھبراؤ نہیں ابھی ابھی ہم بھی بعض امور پر تمہارا ساتھ دیں گے لیکن یہ باتیں اس اللہ سے تو چھپ نہیں سکتیں جو اندرونی اور بیرونی حالات سے یکسر اور یکساں واقف ہو جو راتوں کے وقت کی پوشیدہ اور راز کی باتیں بھی سنتا ہو جس کے علم کی انتہا نہ ہو۔ پھر فرماتا ہے ان کا کیا حال ہوگا ؟ جبکہ فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کو آئیں گے اور ان کی روحیں جسموں میں چھپتی پھریں گی اور ملائکہ جبرا، قہرا، ڈانٹ، جھڑک اور مار پیٹ سے انہیں باہر نکالیں گے۔ جیسے ارشاد باری ہے آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا ۙ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ 50) 8۔ الانفال :50) ، یعنی کاش کہ تو دیکھتا جبکہ ان کافروں کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہوئے ان کے منہ پر طمانچے اور ان کی پیٹھ پر مکہ مارتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (ولو تری اذ الظلمون) الخ، یعنی کاش کہ تو دیکھتا جبکہ یہ ظالم سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ ان کی طرف مارنے کے لئے پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکالو آج تمہیں ذلت کے عذاب کئے جائیں گے اس لئے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیتوں میں تکبر کرتے تھے۔ یہاں ان کا گناہ بیان کیا گیا کہ ان کاموں اور باتوں کے پیچھے لگے ہوئے تھے جن سے اللہ ناخوش ہو اور اللہ کی رضا سے کراہت کرتے تھے۔ پس ان کے اعمال اکارت ہوگئے۔