سورہ محمد: آیت 32 - إن الذين كفروا وصدوا عن... - اردو

آیت 32 کی تفسیر, سورہ محمد

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَشَآقُّوا۟ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلْهُدَىٰ لَن يَضُرُّوا۟ ٱللَّهَ شَيْـًٔا وَسَيُحْبِطُ أَعْمَٰلَهُمْ

اردو ترجمہ

جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا جبکہ ان پر راہ راست واضح ہو چکی تھی، در حقیقت وہ اللہ کا کوئی نقصان بھی نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ ہی ان کا سب کیا کرایا غارت کر دے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna allatheena kafaroo wasaddoo AAan sabeeli Allahi washaqqoo alrrasoola min baAAdi ma tabayyana lahumu alhuda lan yaduroo Allaha shayan wasayuhbitu aAAmalahum

آیت 32 کی تفسیر

درس نمبر 243 ایک نظر میں

یہ سبق اس سورت کا آخری سبق ہے۔ اس کا آغاز ہوتا ہے اس آیت سے :

ان الذین کفروا وصدوا ۔۔۔۔۔۔۔ لھم الھدی (47 : 32) “ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا جبکہ ان پر راہ راست واضح ہوچکی تھی۔۔۔۔ ” یہ کون لوگ ہیں ؟ زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے متعلق اس سورت کے آغاز میں بھی اسی انداز سے بات کی گئی تھی یعنی مشرکین مکہ ، کیونکہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے دعوت اسلامی کے مقابلے میں متکبرانہ رویہ اختیار کیا ، رسول اللہ ﷺ سے جھگڑتے ہوئے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے آخر تک روکتے رہے۔ البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد عام کفار ہوں اور اس عتاب میں ہر وہ شخص آتا ہے جو کافر ہے اور یہ رویہ اپنائے ہوئے ہے ، خواہ وہ مشرک ہے ، یہودی ہے یا منافق ۔ ظاہراً یہ کام کر رہا ہے یا خفیہ کر رہا ہے ۔ سب کو یہ دھمکی دی گئی ہے کہ تم کچھ بھی نہ کرسکو گے لیکن پہلا مفہوم زیادہ مناسب ہے۔

بہرحال اس دوسرے اور آخری سبق میں باقی باتوں کے مخاطب مسلمان ہیں۔ ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کو جاری رکھیں۔ اور اس میں کوئی دیر نہ کریں اور یہ تجویز بھی نہ دیں کہ کفار کے ساتھ امن و سالمیت کا رویہ مزید اختیار کیا جائے۔ کیونکہ کفر نے ظلم کی انتہا کردی ہے۔ اور یہ مصالحت کسی بھی مصلحت کے پیش نظر نہیں ہونی چاہئے۔ کسی کمزوری کی وجہ سے ، کسی رشتہ داری کی وجہ سے ، کسی مفاد کی وجہ سے ، کسی مالی تاوان کے ڈر کی وجہ سے ۔ جہاں تک مالی تاوان کا تعلق ہے اللہ اسی قدر مال کا مطالبہ فرماتا ہے جس قدر انسان کی استطاعت میں ہو۔ اللہ نے انسان کے فطری بخل کو اس سلسلے میں مدنظر رکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر وہ اس دعوت کی ذمہ داریاں نہ ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال دے گا۔ اور کوئی دوسری جماعت اٹھا دے گا۔ جو یہ ذمہ داریاں بحسن و خوبی ادا کریں گے۔ اور جو اس کی اہمیت کو سمجھیں گے۔ یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھکمی ہے اور اس سورت کے مضامین اور فضا کے ساتھ لگا کھاتی ہے ۔ اور اس وقت مومنین کے صفوں میں جو حالات پائے جاتے تھے ، یہ دھمکی ان کا بہترین علاج بھی تھی۔ کیونکہ اس وقت منافقین کے علاوہ بھی ایسے لوگ تھے جو عافیت پسند تھے جبکہ مسلمانوں کی اکثریت فدائی ، مخلص ، بہادر اور مشہور تھی اس بات میں روایت بھری پڑی ہیں۔ اجازت قتال کے وقت چونکہ ہر قسم کے لوگ موجود تھے اور قرآن کریم ان کی تربیت کر کے ان کو اعلیٰ مراتب تک لے جا رہا تھا اس لیے یہاں یہ انداز تعبیر اختیار کیا گیا۔

یہ اللہ کا فیصلہ ہے ۔ نہایت ہی تاکیدی فیصلہ ۔ اللہ کا وعدہ ہے جو واقع ہونے والا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، اسلام کی راہ روک کر کھڑے ہوگئے۔ سچائی کے راستے میں وہ جم کر بیٹھ گئے کہ لوگوں تک یہ سچ بات پہنچنے نہ پائے۔ اپنی قوت ، اپنا مال اور اپنے تمام وسائل اس میں جھونک دئیے کہ اسلام پھیلنے نہ پائے۔ پھر وہ ہر مقام پر رسول اللہ جھگڑنے لگے۔ آپ کی زندگی میں آپ کی مخالفت کی۔ آپ کے لائے ہوئے نظام زندگی کی مخالفت کی اور آپ کی صفوں کی مخالف صفوں میں کھڑے ہوگئے یا جنہوں نے حضور ﷺ کی وفات کے بعد دین اسلام کی مخالفت کی۔ اسلامی نظام زندگی اور نظام شریعت کی مخالفت کی۔ اور سنت نبوی ﷺ اور دعوت اسلامی پر قائم لوگوں کی مخالفت کی۔ اور یہ انہوں نے اس حال میں کی۔

من بعد ما تبین لھم الھدی (47 : 32) “ جبکہ ان پر راہ راست واضح ہوچکی تھی ”۔ اور ان کو معلوم ہوگیا تھا کہ یہ حق ہے۔ لیکن یہ لوگ ہوائے نفس اور عناد کی وجہ سے اندھے ہوگئے۔ اور مفادات اور مصلحتوں نے ان کو آخرت کے مفاد کے مقابلے میں دنیا کے مفادات کی طرف مائل کردیا۔

اللہ کا تاکیدی فیصلہ ان لوگوں کے بارے میں یہ ہے اور یہ فیصلہ یقیناً نافذ ہونے والا ہے کہ۔

لن یضروا اللہ شیئا (47 : 32) “ درحقیقت یہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتے ”۔ یہ لوگ اس قدر کمزور اور حقیر ہیں کہ یہ اللہ کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہی نہیں ، لہٰذا مقصود اس کی نفی کرنا نہیں ہے۔ مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دین ، اللہ کے نظام شریعت اور اللہ کے داعیوں کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ وہ اللہ قوانین قدرت اور نظام فطرت میں بھی کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ اگرچہ وہ بہت ہی زور آور ہوں۔ اگرچہ وہ ایک وقت تک بعض کمزور مسلمانوں کو ایذا دیتے رہے ہوں۔ انجام ان کا کیا ہوگا ؟

وسیحبط اعمالھم (47 : 32) “ بلکہ اللہ ہی ان کا سب کیا کرایا غارت کر دے گا ”۔ یوں ان کی تمام سازشیں ختم ہو کر رہ جائیں گی اور نیست و نابود ہوں گی ، جس طرح ایک ہٹا کٹا بیل زہریلی گھاس چرنے کے بعد پھول جاتا ہے اور پھر ڈھیر ہوجاتا ہے۔

اس فضا میں جس کے اندر ان لوگوں کو دھمکی دی گئی جنہوں نے کفر کیا ، اسلام کی راہ روکی اور رسول اللہ ﷺ اور دین کے داعیوں کے ساتھ دشمنی کی ، خود مسلمانوں کو بھی متنبہ کیا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں اور اپنے اعمال کافروں کی طرح ضائع نہ کریں۔

آیت 32 { اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَشَآقُّــوا الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدٰی لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا وَسَیُحْبِطُ اَعْمَالَہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور جو روکتے رہے دوسروں کو اللہ کے راستے سے اور وہ رسول ﷺ کی مخالفت میں سرگرم رہے اس کے بعد کہ ان کے لیے ہدایت واضح ہوچکی تھی ‘ وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اور وہ ان کے اعمال کو اکارت کر دے گا۔“ گزشتہ آیات میں منافقین کے حبط ِاعمال کا ذکر تھا ‘ اب آیت زیر مطالعہ میں کفارِ مکہ کے اعمال کی بربادی کا بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے زعم میں بیت اللہ کے متولی ّہونے اور حاجیوں کی خدمت بجا لانے جیسی نیکیوں پر پھولے نہیں سماتے ‘ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کی سند کے بغیر ان کا کوئی عمل بھی قابل قبول نہیں ہے۔ سورة التوبہ کی اس آیت میں ان لوگوں کو اس حوالے سے براہ راست مخاطب کیا گیا ہے : { اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط } آیت 19 ”کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد رکھنے کو برابر کردیا ہے اس شخص کے اعمال کے جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور اس نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں ؟“ آیت زیر مطالعہ میں ”اللہ کے راستے سے روکنے اور اللہ اور رسول کی مخالفت“ کے حوالے سے مشرکین مکہ کی اس طویل اور جاں گسل ”جدوجہد“ کی طرف بھی اشارہ ہے جس میں پچھلے اٹھارہ برسوں سے وہ اپنا تن من دھن کھپا رہے ہیں۔ آخر انہوں نے بھی تو اپنے ”دین“ کے لیے جنگیں لڑیں تھیں اور ان جنگوں میں انہوں نے جان و مال کی قربانیاں بھی دیں تھیں۔ صرف جنگ ِبدر میں انہوں نے اپنے 70 جنگجو قربان کیے تھے۔ اس جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان کا جذبہ انفاق بھی دیدنی تھا۔ نو سو اونٹ تو انہوں نے صرف لشکر کی غذائی ضروریات نو یا دس اونٹ روزانہ کے حساب سے پوری کرنے کے لیے مہیا کیے تھے۔ اس ایک مد کے اخراجات سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے ”دین“ کے راستے میں کیسی کیسی قربانیاں دیں اور اپنے زعم میں کتنی بڑی بڑی نیکیاں کمائیں تھیں۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ میں ان پر واضح کیا جا رہا ہے کہ اپنے زعم میں تم لوگوں نے جو بڑی بڑی نیکیاں کما رکھی ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے کفر اور اللہ و رسول ﷺ سے تمہاری مخالفت کی وجہ سے وہ سب برباد کردی ہیں۔

نیکیوں کو غارت کرنے والی برائیوں کی نشاندہی اللہ سبحانہ وتعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفر کرنے والے راہ اللہ کی بندش کرنے والے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے ہدایت کے ہوتے ہوئے گمراہ ہونے والے اللہ کا تو کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں کل قیامت والے دن یہ خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی بھی ان کے پاس نہ ہوگی۔ جس طرح نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اسی طرح اس کے بدترین جرم و گناہ ان کی نیکیاں برباد کردیں گے۔ امام محمد بن نصر مروزی ؒ اپنی کتاب الصلوۃ میں حدیث لائے ہیں کہ صحابہ کا خیال تھا کہ (لا الہ الا اللہ) کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے کہ شرک کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی اس پر اصحاب رسول اس سے ڈرنے لگے کہ گناہ نیکیوں کو باطل نہ کردیں۔ دوسری سند سے مروی ہے کہ صحابہ کرام کا خیال تھا کہ ہر نیکی بالیقین مقبول ہے یہاں تک کہ یہ آیت اتری تو کہنے لگے کہ ہمارے اعمال برباد کرنے والی چیز کبیرہ گناہ اور بدکاریاں کرنے والے پر انہیں خوف رہتا تھا اور ان سے بچنے والے کے لئے امید رہتی تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کو اپنی اور اپنے نبی کی اطاعت کا حکم دیتا ہے جو ان کے لئے دنیا اور آخرت کی سعادت کی چیز ہے اور مرتد ہونے سے روک رہا ہے جو اعمال کو غارت کرنے والی چیز ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ سے کفر کرنے والے راہ اللہ سے روکنے والے اور کفر ہی میں مرنے والے اللہ کی بخشش سے محروم ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اللہ شرک کو نہیں بخشتا اس کے بعد جناب باری عز اسمہ فرماتا ہے کہ اے میرے مومن بندو تم دشمنوں کے مقابلے میں عاجزی کا اظہار نہ کرو اور ان سے دب کر صلح کی دعوت نہ دو حالانکہ قوت و طاقت میں زور و غلبہ میں تعداد و اسباب میں تم قوی ہو۔ ہاں جبکہ کافر قوت میں، تعداد میں، اسباب میں تم سے زیادہ ہوں اور مسلمانوں کا امام مصلحت صلح میں ہی دیکھے تو ایسے وقت بیشک صلح کی طرف جھکنا جائز ہے جیسے کہ خود رسول کریم ﷺ نے حدیبیہ کے موقع پر کیا جبکہ مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو مکہ جانے سے روکا تو آپ ﷺ نے دس سال تک لڑائی بند رکھنے اور صلح قائم رکھنے پر معاہدہ کرلیا پھر ایمان والوں کو بہت بڑی بشارت و خوش خبری سناتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس وجہ سے نصرت و فتح تمہاری ہی ہے تم یقین مانو کہ تمہاری چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی وہ ضائع نہ کرے گا بلکہ اس کا پورا پورا اجر وثواب تمہیں عنایت فرمائے گا۔ واللہ اعلم۔

آیت 32 - سورہ محمد: (إن الذين كفروا وصدوا عن سبيل الله وشاقوا الرسول من بعد ما تبين لهم الهدى لن يضروا الله شيئا وسيحبط...) - اردو