سورہ محمد: آیت 36 - إنما الحياة الدنيا لعب ولهو... - اردو

آیت 36 کی تفسیر, سورہ محمد

إِنَّمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۚ وَإِن تُؤْمِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ يُؤْتِكُمْ أُجُورَكُمْ وَلَا يَسْـَٔلْكُمْ أَمْوَٰلَكُمْ

اردو ترجمہ

یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innama alhayatu alddunya laAAibun walahwun wain tuminoo watattaqoo yutikum ojoorakum wala yasalkum amwalakum

آیت 36 کی تفسیر

یہ تو ہے پہلا ٹچ اور دوسرا یہ کہ ان کو بتا دیا جاتا ہے کہ امن و عافیت تم جس دنیا کے لئے طلب کرتے ہو ، اس کی حیثیت کیا ہے ؟ ٹھیک ہے اس میں تمہیں بعض قربانیاں تو دینی ہوں گی ، لیکن آخرت میں کامل اجر تمہیں ملیں گے اور تم سے تمہارے مال بھی طلب نہ کرے گا۔

انما الحیوۃ الدنیا ۔۔۔۔۔۔ اموالکم (47 : 36) “ یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔ اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا ”۔

اگر ہماری اس دنیاوی زندگی کے پیچھے کوئی اعلیٰ اور ارفع مقصد نہ ہو تو وہ یقیناً لہو و لعب ہے۔ اگر اس دنیا میں اسلام کے اعلیٰ مقاصد اور اسلامی نظام کے قیام کے ارفع مقاصد نہ ہوں تو پھر کچھ بھی نہیں ہے۔ اسلام کا مقصد زندگی اس دنیا کو آخرت کی کھیتی بنا دیتا ہے۔ اور اس میں اللہ کی خلافت کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرنا ہی قیامت میں اچھے نتائج پیدا کرتا ہے۔ آیت کا دوسرا فقرہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

وان تومنوا وتتقوا یوتکم اجورکم (47 : 36) ” اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا “۔ اس دنیا میں ایمان لانا اور تقویٰ اختیار کرنا ہی اس کو لہو و لعب کے دائرے سے نکال دیتا ہے ۔ اور اسے ایک سنجیدہ مقام عطا کرتا ہے اور اسے حیوانی سامان تعیش سے ذرا بلند مقام دیتا ہے۔ دنیا کا نظام پھر نظام خلافت راشدہ بن جاتا ہے اور یہ عالم بالا کے ساتھ پیوستہ ہوتا ہے ۔ جب اسلامی نظام اور قانون شریعت نافذ کردیا جائے تو پھر مومن کی اس دنیا کی زندگی بھی لہو و لعب کے دائرے سے نکل کر ایک عبادت بن جاتی ہے اور مومن کو اس کی تمام سر گرمیوں پر آخرت میں اجر ملتا ہے۔ لیکن باوجود اس کے اللہ لوگوں سے یہ مطالبہ نہیں فرماتا کہ وہ اپنے تمام اموال خرچ کردیں ۔ اسلام دوسرے فرائض اور واجبات میں بھی لوگوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ انسان فطرتاً تھڑولا ہے۔ اس لیے اللہ نے لوگوں پر ان کی طاقت کے مطابق بوجھ ڈالا ہے۔ اس لیے اللہ نے لوگوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں یہ حکم نہیں دیا کہ وہ سب مال خرچ کردیں ورنہ ان کے دل کا کھوٹ ظاہر ہوجاتا۔

آیت 36 { اِنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ} ”یہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل ہے اور کچھ جی کا بہلانا ہے۔“ آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کی حیثیت لہو و لعب سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسی حقیقت کو سورة آلِ عمران میں اس طرح واضح کیا گیا ہے : { وَما الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۔ } ”اور یہ دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔“ { وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا یُؤْتِکُمْ اُجُوْرَکُمْ } ”اور اگر تم لوگ ایمان لائو اور تقویٰ اختیار کیے رہو تو وہ تمہیں تمہارے اجر عطا کرے گا“ { وَلَا یَسْئَلْکُمْ اَمْوَالَکُمْ } ”اور تم سے تمہارے اموال نہیں مانگے گا۔“ قرآن میں ”‘ انفاق فی سبیل اللہ“ کے بارے میں بہت تلقین اور تاکید آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے بار بار ان کے اموال کا براہ راست مطالبہ بھی کیا ہے : { مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا …} البقرۃ : 245 ”کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے…!“ اور انفاق سے گریز کی روش کی سخت الفاظ میں مذمت بھی کی ہے : { وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلاَ تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِج } البقرۃ : 195 ”خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور مت ڈالو اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں۔“ بہر حال قرآن میں اس موضوع پر جتنا بھی اصرار و تکرار ہے وہ ترغیب و تشویق کے انداز میں ہے ‘ اس میں جبر اور زبردستی کا پہلو بالکل نہیں ہے۔ حضور ﷺ کی عظیم الشان انقلابی جدوجہد کا یوں تو ہر انداز ہی مثالی اور قابل تعریف ہے ‘ لیکن زیر بحث موضوع کے حوالے سے آپ ﷺ کی اس تحریک کا جو پہلو خصوصی طور پر لائق توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس میں کہیں ”ایمرجنسی“ کی صورت حال نظر نہیں آتی ہے۔ کسی بھی مرحلے میں کسی کا مال ”بحق سرکار“ ضبط نہیں کیا گیا ‘ اور نہ ہی کسی معرکے کے لیے لوگوں کی پکڑ دھکڑ ہوئی۔ ”نفیر عام“ بھی پوری تحریک کے دوران صرف ایک موقع غزوئہ تبوک پر ہوئی ‘ ورنہ لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے ہمیشہ ترغیب و تشویق کا ہی انداز اپنایا گیا : { یٰٓــاَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِط } الانفال : 65 ”اے نبی ﷺ ! ترغیب دلائیے اہل ایمان کو قتال کی“۔ بہر حال ترغیب کے لیے اہل ایمان کو اجر وثواب کا وعدہ دیا گیا اور انہیں ”شہادت ہے مقصود و مطلوب مومن“ کا سبق پڑھایا گیا ‘ لیکن کبھی زور زبردستی نہیں کی گئی۔ اس سیاق وسباق میں آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے زبردستی تمہارے اموال نہیں مانگتا یا تم سے سارے کا سارا مال دے ڈالنے کا مطالبہ نہیں کرتا۔

سخاوت کے فائدے اور بخل کے نقصانات دنیا کی حقارت اور اس کی قلت و ذلت بیان ہو رہی ہے کہ اس سے سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ حاصل نہیں ہاں جو کام اللہ کے لئے کئے جائیں وہ باقی رہ جاتے ہیں پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بےپرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس نے تمہیں جو خیرات کا حکم دیا ہے وہ صرف اس لئے کہ تمہارے ہی غرباء، فقراء کی پرورش ہو اور پھر تم دار آخرت میں مستحق ثواب بنو۔ پھر انسان کے بخل اور بخل کے بعد دلی کینے کے ظاہر ہونے کا حال بیان فرمایا فال کے نکالنے میں یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مال انسان کو محبوب ہوتا ہے اور اس کا نکالنا اس پر گراں گذرتا ہے۔ پھر بخیلوں کی بخیلی کے وبال کا ذکر ہو رہا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے سے مال کو روکنا دراصل اپنا ہی نقصان کرنا ہے کیونکہ بخیلی کا وبال اسی پر پڑے گا۔ صدقے کی فضیلت اور اسکے اجر سے محروم بھی رہے گا۔ اللہ سب سے غنی ہے اور سب اس کے در کے بھکاری ہیں۔ غناء اللہ تعالیٰ کا وصف لازم ہے اور احتیاج مخلوق کا وصف لازم ہے۔ نہ یہ اس سے کبھی الگ ہوں نہ وہ اس سے پھر فرماتا ہے اگر تم اس کی اطاعت سے روگرداں ہوگئے اس کی شریعت کی تابعداری چھوڑ دی تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور قوم لائے گا جو تم جیسی نہ ہوگی بلکہ وہ سننے اور ماننے والے حکم بردار، نافرمانیوں سے بیزار ہوں گے۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ نے پوچھا کہ حضور ﷺ وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے بدلے لائے جاتے اور ہم جیسے نہ ہوتے تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان فارسی کے شانے پر رکھ کر فرمایا یہ اور ان کی قوم اگر دین ثریا کے پاس بھی ہوتا تو اسے فارس کے لوگ لے آتے، اس کے ایک راوی مسلم بن خالد زنجی کے بارے میں بعض ائمہ جرح تعدیل نے کچھ کلام کیا ہے واللہ اعلم۔ الحمد للہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورة قتال کی تفسیر ختم ہوئی۔

آیت 36 - سورہ محمد: (إنما الحياة الدنيا لعب ولهو ۚ وإن تؤمنوا وتتقوا يؤتكم أجوركم ولا يسألكم أموالكم...) - اردو