سورہ سعد: آیت 23 - إن هذا أخي له تسع... - اردو

آیت 23 کی تفسیر, سورہ سعد

إِنَّ هَٰذَآ أَخِى لَهُۥ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِىَ نَعْجَةٌ وَٰحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِى فِى ٱلْخِطَابِ

اردو ترجمہ

یہ میرا بھائی ہے، اِس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے اِس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دنبی بھی میرے حوالے کر دے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna hatha akhee lahu tisAAun watisAAoona naAAjatan waliya naAAjatun wahidatun faqala akfilneeha waAAazzanee fee alkhitabi

آیت 23 کی تفسیر

ان ھذا۔۔۔۔۔ الخطاب (38: 23) ” یہ میرا بھائی ہے ، اس کے پاس 99 دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے۔ اس نے مجھ سے کہا ہے کہ یہ ایک دنبی میرے حوالے کردے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبالیا “۔ اکفلنی کے معنی ہیں مجھے دے دے ، میری ملکیت میں دے دے اور میری کفالت میں دے دے اور عزنی کے معنی ہیں مجھ میں غالب ہوگیا۔

جہاں تک مقدمے کا تعلق ہے خود بیان دعویٰ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ظالمانہ فعل ہے جس کی کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی ۔ چناچہ حضرت داؤد نے بھی جواب دعویٰ سننے سے پہلے ہی فیصلہ کرنا شروع کردیا ۔ کیونکہ بادی النظر میں اس بھائی کا فعل ظالمانہ تھا۔ اس لیے حضرت داؤد نے دوسرے فریق سے بات ہی نہ کی ۔ نہ جواب دعویٰ سنا نہ اس سے کوئی عذر طلب کیا ۔ بس

دعویٰ سن کر ہی فیصلہ کردیا ۔

آیت 23 { اِنَّ ہٰذَآ اَخِیْقف لَہٗ تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ نَعْجَۃً وَّلِیَ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌقف } ”یہ میرا بھائی ہے ‘ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میری ایک ہی دنبی ہے۔“ اگر ہم اس کی توجیہہ تورات کے مطابق کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مدعی نے کنائے کے انداز میں بات کی۔ وہ دراصل یہ کہنا چاہتا تھا کہ میری ایک ہی بیوی ہے جبکہ میرے مخالف کی ننانوے بیویاں ہیں۔ { فَقَالَ اَکْفِلْنِیْہَا وَعَزَّنِیْ فِی الْْخِطَابِ } ”اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دو ‘ اور گفتگو میں اس نے مجھے دبا لیا ہے۔“

آیت 23 - سورہ سعد: (إن هذا أخي له تسع وتسعون نعجة ولي نعجة واحدة فقال أكفلنيها وعزني في الخطاب...) - اردو